• پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
میاں طارق جاوید
  • پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
No Result
View All Result
  • پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
No Result
View All Result
میاں طارق جاوید
No Result
View All Result
Home پاکستان

خواتین کے قومی دن کے موقع پر قومی اسمبلی کی ویمن پارلیمنٹری کاکس کا سیکرٹری ڈاکٹر شاہدہ رحمانی کی قیادت میں یو این ویمن کے اشتراک سے مکالماتی سلسلے کے پہلے اجلاس کا انعقاد

Mian Tariq Javeed by Mian Tariq Javeed
فروری 12, 2026
in پاکستان
0
خواتین کے قومی دن کے موقع پر قومی اسمبلی کی ویمن پارلیمنٹری کاکس کا سیکرٹری ڈاکٹر شاہدہ رحمانی کی قیادت میں یو این ویمن کے اشتراک سے مکالماتی سلسلے کے پہلے اجلاس کا انعقاد
0
SHARES
0
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

اسلام آباد۔( نمائندہ خصوصی):خواتین کے قومی دن 2026 کے موقع پر قومی اسمبلی کی ویمن پارلیمنٹری کاکس (ڈبلیو پی سی) نے اپنی سیکرٹری رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر شاہدہ رحمانی کی قیادت میں اور یو این ویمن کے اشتراک سے پارلیمنٹ ہائوس میں مکالماتی سلسلے کے پہلے اجلاس کا انعقاد کیا۔ اس سلسلے کا مقصد پارلیمانی کوٹہ نظام کو مضبوط بنانا ہے تاکہ قومی، صوبائی اور قانون ساز اسمبلیوں میں خواتین کی منصفانہ اور موثر نمائندگی کو یقینی بنایا جا سکے۔اپنے افتتاحی کلمات میں ڈاکٹر شاہدہ رحمانی نے کہا کہ کوٹہ سسٹم ایک ساختیاتی اقدام ہے جس کا مقصد خواتین کی مستقل اور موثر شمولیت کو یقینی بنانا ہے تاکہ قانون ساز اداروں میں کم از کم 33 فیصد نمائندگی حاصل کی جا سکے کیونکہ پاکستان کی آبادی کا نصف حصہ خواتین پر مشتمل ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ خواتین کو مرکزی قانون سازی کے عمل میں مکمل طور پر شامل کیا جائے اور پارلیمانی کارروائی بالخصوص سوالیہ وقفہ، نکتہ اعتراض اور توجہ دلائو نوٹسز میں ان کی بامعنی شرکت کو مزید موثر بنایا جائے جہاں خواتین ارکان اپنی عددی حیثیت کے مقابلے میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کر رہی ہیں۔انہوں نے مخصوص نشستوں پر منتخب ہونے والی خواتین کے ساتھ ترقیاتی فنڈز اور جماعتی مواقع تک رسائی میں امتیازی سلوک پر تشویش کا اظہار کیا حالانکہ وہ انتخابی مہمات اور حلقہ جاتی سرگرمیوں میں بھرپور کردار ادا کرتی ہیں۔ اجلاس میں خواتین کے لیے جنرل نشستوں پر 5 فیصد ٹکٹ کی قانونی شرط پر عملدرآمد میں موجود خلا کی نشاندہی کی گئی اور اس امر کا اعادہ کیا گیا کہ حقیقی اور موثر سیاسی شمولیت کے لیے ابتدائی مطالبہ اس سے کہیں زیادہ تھا۔انہوں نے آگاہ کیا کہ اس مکالماتی سلسلے کا اختتام مارچ میں ایک اہم اجلاس پر ہوگا جس میں سیاسی قیادت کو خواتین کی نمائندگی میں اضافے کے لیے ٹھوس اقدامات پر غور کے لیے مدعو کیا جائے گا۔مکالمے میں خواتین اراکین پارلیمنٹ اور صوبائی و قانون ساز اسمبلیوں کی نمائندہ خواتین نے بھرپور شرکت کی جبکہ سندھ، بلوچستان اور خیبر پختونخوا سے ویمن پارلیمنٹری کاکس کی اراکین نے آن لائن شرکت کی۔یو این ویمن اور پلڈاٹ کے نمائندوں، شبیر اور آئینی ماہر ظفراللہ خان نے خواتین کی سیاسی نمائندگی کے آئینی، قانونی اور تقابلی پہلوئوں پر بریفنگ دی۔پارلیمانی ٹاسک فورس برائے پائیدار ترقیاتی اہداف (ایس ڈی جیز) کی کنونیئر شائستہ پرویز نے کہا کہ مالی وسائل کی کمی خواتین امیدواروں کے لیے ایک بڑی رکاوٹ ہے اور سیاسی جماعتوں کو اپنی خواتین امیدواروں کی مالی معاونت کرنی چاہیے۔رکن قومی اسمبلی فرخ خان نے کہا کہ خواتین کو مواقع فراہم کیے جائیں تو وہ نمایاں نتائج دیتی ہیں، اس لیے انہیں جیتنے کے قابل حلقے اور مالی معاونت فراہم کی جانی چاہیے۔رکن قومی اسمبلی ہما چغتائی نے کہا کہ برادری سسٹم اکثر ان خواتین کی راہ میں رکاوٹ بنتا ہے جنہیں مضبوط خاندانی حمایت حاصل نہیں ہوتی۔ انہوں نے نچلی سطح کے متحرک کارکنان کی منصفانہ نمائندگی اور پالیسی سازی و قانون سازی میں فعال خواتین کے لیے نشستیں مخصوص کرنے کی ضرورت پر زور دیا نیز مرد اراکین سے خواتین امیدواروں کی تعمیری حمایت کی اپیل کی۔فافن کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ خواتین ارکان قانون سازی کے عمل میں موثر شرکت کا مظاہرہ کرتی ہیں لہٰذ مخصوص نشستوں پر مکمل اور موثر عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔رکن قومی اسمبلی اور ویمن پارلیمنٹری کاکس کی فرسٹ خزانچی نزہت صادق نے کہا کہ محدود ذرائع سے سیاست میں آنے والی خواتین کو اکثر ’’علامتی نمائندہ‘‘ قرار دیا جاتا ہے جو ان کی ساکھ کو متاثر کرتا ہے۔ انہوں نے نمائشی شمولیت کے بجائے حقیقی بااختیاری کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے امریکا کی مثال دی جہاں خواتین امیدواروں کو مالی معاونت فراہم کی جاتی ہے اور تجویز دی کہ پاکستان میں بھی ایسے طریقہ کار پر غور کیا جا سکتا ہے۔صوبائی اسمبلی خیبر پختونخوا کی ڈپٹی سپیکر ثریا بی بی نے بتایا کہ ان کے حلقے میں 36 فیصد خواتین ووٹرز نے ان کی حمایت کی۔ انہوں نے جماعتی فیصلہ ساز اداروں میں خواتین کی نمائندگی کو یقینی بنانے اور 5 فیصد ٹکٹ کوٹہ میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔رکن قومی اسمبلی نعیمہ کشور خان نے قومی و صوبائی کاکسز کی جانب سے مشترکہ وکالت کے ذریعے خواتین کی نمائندگی کو 5 فیصد سے بڑھانے اور موجودہ کوٹہ پر سختی سے عملدرآمد کو یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔رکن قومی اسمبلی اور ویمن پارلیمنٹری کاکس کی خزانچی شاہدہ بیگم نے عوامی خدمت میں خواتین کے مسلسل عزم کو اجاگر کرتے ہوئے اپنی جماعت میں ویمن ونگ کے قیام کے تجربے کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کا بااختیار ہونا جماعتی حدود سے بالاتر ہے اور اس امید کا اظہار کیا کہ مضبوط قانون سازی کے ذریعے وقت کے ساتھ موثر عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا۔

پچھلی پوسٹ

سپریم کورٹ کا عمران خان کی آنکھوں کے معائنے اور بیٹوں سے رابطے کا حکم 16 فروری سے پہلے رپورٹ طلب

اگلی پوسٹ

بنگلہ دیش کے 13ویں قومی انتخابات کے بعد ووٹوں کی گنتی جاری

Mian Tariq Javeed

Mian Tariq Javeed

Next Post
بنگلہ دیش کے 13ویں قومی انتخابات کے بعد ووٹوں کی گنتی جاری

بنگلہ دیش کے 13ویں قومی انتخابات کے بعد ووٹوں کی گنتی جاری

زمرہ کے لحاظ سے براؤز کریں۔

  • پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • صحت
  • کھیل
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • انٹرنیشنل افیئرز
  • پاکستان
  • بزنس
  • کھیل
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • صحت
  • دلچسپ

© 2022 Develop by Newspaper