کراچی۔( نمائندہ خصوصی):خاتون اول و رکن قومی اسمبلی بی بی آصفہ بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان کی تاریخ خواتین کے بغیر نامکمل ہے، خواتین کو بااختیار بنانے سے متعلق ہر گفتگو انہیں اپنی والدہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی یاد دلاتی ہے جو خواتین کی محض علامتی شمولیت کے بجائے ہر شعبے میں ان کی بامعنی شرکت پر یقین رکھتی تھیں، خواتین کی حقیقی آزادی اسی وقت ممکن ہوگی جب ہر بچی کو اس کے مکمل حقوق فراہم کیے جائیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے عورت فائونڈیشن کی 40 ویں سالگرہ کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے عورت فائونڈیشن کی جانب سے خواتین کے حقوق سمیت پاکستان میں جمہوریت، امن، سماجی انصاف اور مساوات کے لیے خواتین کی چار دہائیوں پر مشتمل جدوجہد کو خراج تحسین پیش کیا ۔ خاتون اول آصفہ بھٹو زرداری نے عورت فائونڈیشن کی 40 سالہ جدوجہد پر مبنی کتاب کی رونمائی کی اور ایک دستاویزی فلم بھی جاری کی جس میں تنظیم کے سفر کو اجاگر کیا گیا اور خواتین کے حقوق کے فروغ میں شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے تاریخی کردار کو خصوصی خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ بی بی آصفہ بھٹو زرداری نے کہا کہ یہ دن
اس امر کی یاد دہانی ہے کہ پاکستان کی تاریخ خواتین کے بغیر ادھوری ہے۔انہوں نے کہا کہ اگرچہ پیشرفت ہوئی ہے تاہم پاکستان میں خواتین کو اب بھی سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کی حقیقی آزادی اسی وقت ممکن ہوگی جب ہر بچی کو اس کے مکمل حقوق فراہم کیے جائیں گے۔ اس موقع پر انہیں گلوبل پیس ایوارڈ سے بھی نوازا گیا ۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے عورت فائونڈیشن کے لیے 5 کروڑ روپے گرانٹ کا اعلان کرتے ہوئے خواتین کو بااختیار بنانے اور صنفی مساوات کے فروغ کے لیے سندھ حکومت کے عزم کا اعادہ کیا۔ خواتین کے حقوق، انسانی حقوق، سماجی خدمات، تعلیم، صحافت، قانون نافذ کرنے والے اداروں، اقلیتی حقوق، خصوصی افراد کی قیادت اور کمیونٹی ڈویلپمنٹ کے شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دینے والی شخصیات کو لائف ٹائم اچیومنٹ اور قائدانہ اعزازات سے نوازا گیا۔تقریب میں جمہوریت، امن کے قیام، غربت کے خاتمے اور ماحولیاتی انصاف کے میدان میں خواتین کی جدوجہد اور کامیابیوں کو اجاگر کیا گیا اور 1986ء میں قیام کے بعد سے عورت فائونڈیشن کے کلیدی کردار کو سراہا گیا۔ عورت فائونڈیشن کی صدر انیس ہارون نے خواتین کی تحریک کے دشوار سفر کو یاد کیا اور کہا کہ 12 فروری 1986ء سے قبل خواتین کو عوامی زندگی میں خاطر خواہ شناخت حاصل نہ تھی۔ انہوں نے یاد دلایا کہ مساوات کے لیے لاہور ہائی کورٹ میں درخواستیں دائر کرنے پر خواتین پر لاٹھی چارج کیا گیا، انہیں قید کیا گیا، مگر وہ اپنے مطالبات پر ثابت قدم رہیں۔ مختلف شعبہ جات میں نمایاں خدمات پر رکن قومی اسمبلی شازیہ عطاء مری اور رانا انصار کو سیاسی قیادت پر لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ، شہناز وزیر علی کو خواتین کے حقوق کے لیے تاحیات جدوجہد پر، جسٹس (ر) مجیدہ رضوی کو قانونی و انسانی حقوق کی خدمات پر اعزاز دیا گیا۔رابعہ ملک کو سپیشل پرسنز لیڈرشپ ایوارڈ جبکہ پاکستانی نژاد امریکی نتالیہ رحیم کو کمیونٹی سروسز ایوارڈ سے نوازا گیا۔ نصرت بھٹو یونیورسٹی کے طلبہ کو زرعی ڈرون تیار کرنے پر ٹیکنالوجی انوویشن ایوارڈ دیا گیا۔ اس موقع پر معصومہ حسن نے کہا کہ 40 سالہ جدوجہد کے بعد خواتین کو بااختیار بنانے کا خواب حقیقت کا روپ دھار رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عورت فائونڈیشن اب پورے پاکستان اور بین الاقوامی سطح پر سرگرم عمل ہے اور خواتین کو نہ صرف معاشی بلکہ سیاسی طور پر بھی بااختیار بنا رہی ہے۔انہوں نے خواتین کے لیے ترقی پسند قانون سازی میں سندھ کی قیادت کو سراہا جس میں گھریلو تشدد کے خلاف قانون سازی میں پہلا صوبہ ہونے کا اعزاز شامل ہے۔ انہوں نے شہید محترمہ بینظیر بھٹو کو ان کے ترقی پسند وژن کے ذریعے خواتین کے حقوق کے تحفظ پر خراج عقیدت پیش کیا اور خاتون اول و ایم این اے بی بی آصفہ بھٹو زرداری کی سرپرستی کو خواتین کی تحریک کے لیے باعث فخر اور تقویت قرار دیا۔
