ریاض( نمائندہ خصوصی):برطانیہ کے شہزادہ ولیم سعودی عرب کے اپنے پہلے سرکاری دورے پر ریاض پہنچ گئے ، ان کا یہ دورہ برطانیہ اور سعودی عرب کے درمیان اُس خصوصی تعلق کی تجدید ہے جو ان کی دادی ملکہ الزبتھ دوئم کی ابتدائی حکومت کے زمانے میں قائم ہوا تھا ۔ انڈیپنڈنٹ اردو کے مطابق برطانوی شاہی محل کی طرف سے گزشتہ روز بتایا گیا ہے کہ شہزادہ ولیم
کے سعودی عرب کے پہلے دورے کا مقصد تجارت، توانائی اور سرمایہ کاری کے تعلقات کا جشن منانا ہے۔سعودی عرب میں ان کا شیڈول واضح نہیں ۔اردو نیوز کے مطابق سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پیر کو الدرعیہ میں برطانوی شہزادہ ولیم کا خیرمقدم کیا اور انہیں یونیسکیو کے عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل تاریخی مقام الطریف کا دورہ کرایا۔ الطریف، درعیہ ڈسٹرکٹ کے مرکز میں ریاض کے شمال مغرب میں واقع ہے اور سعودی عرب کے اہم تاریخی مقامات میں سے ایک ہے۔یاد رہے کہ الطریف میں سعودی ریاست کی بنیاد رکھی گئی تھی اور یہ پہلی سعودی ریاست کے بانی امام محمد بن
سعود کے زمانے میں ریاست کا دارالحکومت تھا۔اس دورے میں شہزادہ ولیم نے تاریخی الطریف ڈسٹرکٹ میں نجدی طرز تعمیر کی نمائش، پہلی سعودی ریاست کے اماموں اور شہزادوں کے محلات دیکھے۔ امام قصر سلوی کے سامنے ایک یادگاری تصویر بھی بنوائی، جو پہلی سعودی ریاست کے دوران حکومت کے مرکز کے طور پر کام کرنے والے تاریخی محلات میں سے ایک ہے۔ اس دورے میں الدرعیہ ماسڑ پلان کے بارے میں ایک پریزنٹیشن شامل تھی۔ قبل ازیں برطانوی شہزادہ ولیم پیر کو سعودی عرب کے
اپنے پہلے سرکاری دورے پر ریاض پہنچے تو ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ریاض ریجن کے نائب گورنر شہزادہ محمد بن عبدالرحمن بن عبدالعزیز نے ان کا خیرمقدم کیا۔ عرب نیوز کے مطابق شہزادہ ولیم شہزادہ ولیم اس سے قبل بھی اس خطے کا دورہ کر چکے ہیں، ان کا پہلا دورہ ذاتی نوعیت کا تھا ۔
