ابھی گوادر کی مزید ڈائریاں قلم بند کرنے ہی والا تھا کہ ترلائی میں ہونے والے خودکش دھماکے نے اچانک ذہن کے دریچے وا کر دیے، اور ماضی کے وہ تمام ہولناک مناظر ایک ایک کر کے آنکھوں کے سامنے گھومنے لگے جنہیں وقت کی گرد نے وقتی طور پر دھندلا ضرور دیا تھا، مگر مٹایا نہیں تھا۔ میں نے اپنے صحافتی کیریئر میں درجنوں خودکش حملے کور کیے ہیں، مگر ایک حملہ ایسا ہے جو آج بھی دل و دماغ پر نقش ہے — وہ تھا گلشنِ اقبال میں واقع ایک شیعہ امام بارگاہ پر ہونے والا خودکش دھماکہ، جو 31 مئی 2005 کو پیش آیا۔ اتفاق سے اس سانحے میں 31 ہی افراد شہید ہوئے۔
یہ محض ایک دہشت گردانہ کارروائی نہیں تھی بلکہ پاکستان میں گزشتہ کئی دہائیوں سے جاری اس طویل، منظم اور کثیرالجہتی فرقہ وارانہ جنگ کا تسلسل تھا جس نے پورے معاشرے کو اندر سے کھوکھلا کر کے رکھ دیا ہے۔
ہمیں اطلاع ملی تو ہم فوراً جائے وقوعہ کی طرف روانہ ہو گئے۔ وہاں پہنچے تو فضا میں بارود، دھوئیں اور جلے ہوئے انسانی جسموں کی بو رچی ہوئی تھی۔ مسجد مدینۃ العلم کو مکمل طور پر گھیرے میں لیا جا چکا تھا، اور قریب واقع کے ایف سی کی عمارت شعلوں کی لپیٹ میں تھی۔ آگ کے بلند شعلے آسمان کو چھو رہے تھے، سیاہ دھواں فضا میں پھیل چکا تھا اور ہر طرف چیخ و پکار، سسکیاں اور آہ و بکا سنائی دے رہی تھیں۔ سڑک خون سے تر تھی، ٹوٹی ہوئی چپلیں، بکھرے ہوئے کپڑے، اور انسانی اعضا اس قیامتِ صغریٰ کی خاموش گواہی دے رہے تھے۔
یہ مسجد دراصل کے ایف سی سے محض تین سے چار سو گز کے فاصلے پر، رشید منہاس روڈ پر واقع تھی۔ مشتعل ہجوم نے کے ایف سی کو آگ لگا دی تھی۔ اندر کام کرنے والے نوجوان مزدور جان بچانے کے لیے ڈیپ فریزر اور پچھلے اسٹوریج روم میں جا چھپے تھے۔ مگر جب آگ بے قابو ہوئی اور دھواں اندر بھر گیا تو وہ زندہ باہر نہ نکل سکے۔ آگ بجھانے اور صفائی کے عمل کے بعد ان کے جھلسے ہوئے جسم برآمد ہوئے۔ اس طرح خودکش حملے میں 26 افراد جان سے گئے اور کے ایف سی میں زندہ جلنے والے چھ مزدوروں کو شامل کر کے مجموعی ہلاکتوں کی تعداد 32 ہو گئی، جن میں غالباً خودکش بمبار بھی شامل تھا۔
یہ سانحہ اس لیے بھی میرے لیے ناقابلِ فراموش ہے کہ چند ماہ بعد مجھے ایک خصوصی اسٹوری اسائنمنٹ ملا۔ مجھے اُس نوجوان کے خاندان کا انٹرویو کرنا تھا جس نے اپنی جان پر کھیل کر خودکش حملہ آور کو پکڑ لیا تھا اور پوری قوت سے دھکا دے کر گرا دیا تھا، جس کے باعث وہ مسجد کے مرکزی ہال میں داخل نہ ہو سکا، اور یوں سینکڑوں قیمتی جانیں بچ گئیں۔
میں اُس نوجوان کا نام جان بوجھ کر تحریر نہیں کر رہا، کیونکہ اس کی شناخت آج بھی اس کی جان کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ وہ بری طرح زخمی ہوا، اس پر تیس سے زائد آپریشن کیے گئے، اور وہ مہینوں بستر سے لگارہا۔ چونکہ وہ عینی شاہد بھی تھا، اس لیے اسے مسلسل دھمکیاں ملتی رہیں۔ بدقسمتی سے پاکستان میں وِٹنس پروٹیکشن قوانین ہونے کے باوجود ان پر عملدرآمد تقریباً نہ ہونے کے برابر ہے۔
یہ سانحہ محض ایک واقعہ نہیں بلکہ ایک بڑے تاریخی اور جغرافیائی تناظر میں سمجھا جانا چاہیے۔1979 کے ایرانی انقلاب کے بعد خطے میں شیعہ اثر و رسوخ بڑھانے کی حکمت عملی کے تحت ایران نے شیعہ مذہبی نیٹ ورکس کو مالی، نظریاتی اور تنظیمی معاونت فراہم کی۔ دوسری جانب سعودی عرب نے دیوبندی اور سلفی مکتبِ فکر سے وابستہ مدارس اور تنظیموں کو بھرپور سرپرستی دی۔ یوں پاکستان بتدریج ایران اور سعودی عرب کے درمیان ایک غیر اعلانیہ فرقہ وارانہ پراکسی میدان میں تبدیل ہوتا چلا گیا۔
1980 اور 1990 کی دہائیوں میں اس بیرونی سرمایہ کاری اور نظریاتی سرپرستی نے سپاہِ صحابہ، لشکرِ جھنگوی اور دیگر شدت پسند تنظیموں کو غیر معمولی قوت بخشی، جبکہ شیعہ تنظیمیں ایرانی حمایت سے منظم ہوئیں۔ اس تصادم کا سب سے بھیانک مظاہرہ کراچی میں دیکھنے کو ملا، جہاں ٹارگٹ کلنگ، بم دھماکوں اور مساجد و امام بارگاہوں پر حملوں نے شہر کو عملی طور پر ایک جنگی زون میں تبدیل کر دیا۔شیعہ ڈاکٹروں، اساتذہ، وکلا اور تاجروں کے منظم قتل کے ردعمل میں سنی علما اور کارکن بھی نشانہ بننے لگے، جس سے تشدد کا ایک نہ ختم ہونے والا چکر شروع ہو گیا۔ ریاست رفتہ رفتہ اس خونریزی کے سامنے بے بس دکھائی دینے لگی۔
نائن الیون کے بعد عالمی دباؤ پر جب پاکستان نے شدت پسند نیٹ ورکس کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا تو یہ تنظیمیں زیرِ زمین چلی گئیں اور کراچی جیسے بڑے شہروں میں اپنے محفوظ ٹھکانے بنا لیے۔ اسی دور میں فرقہ وارانہ دہشت گردی نے خودکش حملوں کی شکل اختیار کی، جس نے تشدد کو ایک نئی اور کہیں زیادہ مہلک صورت دے دی۔گلشنِ اقبال کی امام بارگاہ پر ہونے والا حملہ اسی خونچکاں تاریخ کا ایک المناک باب تھا۔ اس کے بعد کے ایف سی کو نذرِ آتش کیا جانا محض فوری جذباتی ردعمل نہیں تھا بلکہ ریاستی ناکامی، امریکی خارجہ پالیسی کے خلاف غصے اور مسلسل دہشت گردی کے باعث عوام کے اندر پنپنے والے اجتماعی اضطراب کا اظہار تھا۔
کے ایف سی چونکہ ایک امریکی برانڈ سمجھا جاتا تھا، اس لیے اسے علامتی طور پر نشانہ بنایا گیا، مگر اس کی سب سے بھاری قیمت وہ چھ مزدوروں نے ادا کی جو محض روزی کی تلاش میں وہاں کام کر رہے تھے۔اس سے پہلے بھی کراچی میں فرقہ وارانہ تشدد کی کئی ہولناک مثالیں سامنے آ چکی تھیں۔ غالباً 2004 میں سندھ مدرسۃ الاسلام یونیورسٹی کے احاطے میں واقع ایک شیعہ مسجد، جو بالکل ساتھ قائم سنی مسجد سے متصل تھی، پر بم حملہ کیا گیا۔ پھر 2009 میں عاشورہ کے جلوس کے دوران جامع کلاتھ مارکیٹ کے قریب ایک اور بڑا دھماکہ ہوا۔ جب ہم جائے وقوعہ پر پہنچے تو ہر طرف دھواں، بارود کی بو، چیخیں اور اندھا دھند فائرنگ تھی۔ گولیوں کی تڑتڑاہٹ فضا کو چیر رہی تھی۔ جان بچانے کے لیے میں دوڑ کر ایک تنگ گلی میں جا گھسا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ اس دھماکے میں ملک کے ممتاز صحافی فہیم صدیقی، FFaheem Siddiquiجو اپنے بلاگ "FIR” کے نام سے جانے جاتے ہیں، کے بیٹے اور بھتیجی سمیت تقریباً 45 بے گناہ افراد شہید ہوئے تھے۔
یوں تو کراچی میں دہشت گردی کے بے شمار واقعات ہوئے، مگر جو میں نے خود کور کیے اور جو آج بھی یادوں میں زندہ ہیں، وہی میں نے یہاں بیان کیے ہیں۔لیکن اسلام آباد کا حالیہ دھماکہ ایک بالکل نئے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ اس کے پیچھے روایتی فرقہ وارانہ محرکات کارفرما ہونا ضروری نہیں۔ اس حملے میں ایک نہایت خطرناک عنصر داعش (Daesh) کا ہے۔ داعش اس وقت افغانستان کے صوبے ننگرہار میں مضبوط موجودگی رکھتی ہے، اور یہ نہ صرف پاکستان کے لیے بلکہ خود طالبان حکومت کے لیے بھی ایک بڑا خطرہ بنتی جا رہی ہے۔اگر اس نیٹ ورک پر بروقت اور مؤثر قابو نہ پایا گیا تو اس کے اثرات محض علاقائی سطح تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ ایک مرتبہ پھر عالمی دہشت گردی کی نئی لہر کو جنم دے سکتے ہیں۔ داعش کی حکمتِ عملی مقامی تنازعات سے نکل کر بین الاقوامی اہداف کو نشانہ بنانے پر مرکوز رہی ہے، اور یہی پہلو اسے دیگر شدت پسند تنظیموں سے کہیں زیادہ خطرناک بناتا ہے۔

