کراچی (رپورٹ: کامران مغل/ تصاویر: محسن نقی) کراچی پریس کلب کی ادبی کمیٹی کے زیراہتمام برطانیہ سے آئی ہوئی سینیئر شاعرہ اور افسانہ نگار نجمہ عثمان کی دو کتابوں “خط لکھیں گے گرچہ ۔۔۔ ” اور “Whispers of a broken Branch” کی تقریب رونمائی بروزمنگل کومنعقد کی گئی۔ جس کی صدارت پروفیسر سحر انصاری نے کی۔ مہمانان خصوصی میں ڈاکٹرشاداب احسانی، ڈاکٹرفاطمہ حسن، ڈاکٹر رخسانہ صبا اور مہمانان اعزازی سہیل احمد، نسیم انجم اور مہمانان توقیری میں انجم عثمان، تسنیم حسن اور کامران مغل شامل تھے۔ پروفیسر سحرانصاری نے صدارتی خطاب میں کہا نجمہ عثمان اردو الفاظ
پر بہت عمدگی سے دسترس رکھتی ہیں۔۔ انہوں نے شاعری، افسانہ اور ناول کے ساتھ ساتھ بچوں کے لیے بھی بہت لکھا۔ کتاب کا عنوان انہوں نے غالب سے شعر سے لیا۔۔”خط لکھیں گےگرچہ۔۔۔” انہوں نےابتدائی حالات میں تھیٹر کا خاص طور پر ذکر کیا جس میں ریڈیو کی ہسٹری لکھی یہ ایک غیرمعمولی بات ہے۔ انہوں نے خطوط میں تاریخ کو سمو دیا ہے۔ یہ ایک ہی خط ہے یوں محسوس ہوتاہے کہ یہ ایک ناولٹ ہے۔ ان کی دونوں کتابیں بہت اہم ہیں۔۔ ڈاکٹرشاداب احسانی نے نجمہ عثمان کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ان کی کتاب میں آٹھ خطوط ہیں۔ جن کے عنوانات بھی کمال کے ہیں۔۔ مثال کے طور پر “بکھرتے وقت کے اسیر لمحے” جس میں ان کا ساتھی بچھڑ رہا ہے اور وہ لمحے قید ہوگئے ہیں ۔۔ یعنی یہ کوئی آسان بات نہیں ہے اس بات کو بہت عمدگی سے پینٹ کیا۔ پھر رسم دنیا کی طرف واپس آتی ہیں۔ “رخصت اے اہل جہاں” اس میں اپنے شوہر کو رخصت کر رہی ہیں۔ عدت یا مدت تنہائی یعنی اس میں ایک سوال چھوڑ رہی ہیں کہ اگر کوئی عورت بیوہ ہوجائے تو وہ چار ماہ دس دن کی مدت تنہائی کس طرح گزارتی ہے۔ جس کا جواب بھی انہوں نے خاطر خواہ دیا ہے۔ نجمہ عثمان کامیاب تخلیق کار ہیں۔ ڈاکٹر رخسانہ صبا نے کہا مکتوب نگاری اردو ادب میں ایک اہم ادبی صنف کی حیثیت اختیار کر چکی ہے۔ اگرچہ غالب سے قبل بھی رجب علی بیگ اور
غلام سوز کے خطوط کے مجموعے شائع ہوچکے ہیں۔ غالب نے مراسلے کو مکالمہ بنایا۔ غالب کے بعد سرسید احمد خان، حالی، شبلی، اقبال اور ابوالکلام آزاد جیسی شخصیات نے اس صنف کو اعتبار اور استحکام بخشا۔ میرے خیال میں نجی یا غیر رسمی خطوط صرف پیغامات کی ترسیل کا ذریعہ نہیں ہوتے بلکہ محبت کا مُکاشفہ بھی ہوتے ہیں۔ رسمی خطوط جو تجارتی سیاسی اور سماجی مقاصد کے لیے لکھے جاتے ہیں۔ ان کے پس پردہ دراصل انفرادی اور اجتماعی مفادات کارفرما ہوتے ہیں۔ اس لیے ان میں دلچسپی کا عنصر بہت کم ہوتا ہے۔ لیکن جہاں تک غیر رسمی خطوط کا تعلق ہے خواہ وہ رشتے داروں یا دوستوں کو لکھا جائے یا اپنے محبوب کو ان میں محبت کے جذبات ہو یا گلہ گزاری کی کیفیات ہوں۔ ہم یہ دیکھتے ہیں کہ وہ سارے خطوط احساس کی روشنی سے منور ہوتے ہیں۔ رخسانہ صبا نے کہا کہ ان خطوط کو کسی شاعر یا نثرنگار کا قلم میسر آجائے تو کیا کہنے۔ نجمہ عثمان کے آتھ خطوط ذاتی نوعیت کے ہیں۔ جن میں وہ اپنے مرحوم شوہر کے ساتھ یادوں اور باتوں کا تذکرہ کرتی ہیں۔ ان کا مختصر سا مجموعہ اگر طویل ہو جاتا تو ان کی زندگی کے مزید پہلوں روشن ہوجاتے۔ تاہم یہ مختصر مجموعہ بھی مکتوب نگار اور مکتوب الیہ کی شخصیت کے مخفی زاویوں کو کچھ نہ کچھ ضرور اشکار کرتا ہے۔ مثلا نجمہ عثمان کی کچھ کمزوریاں بھی ابھر کر سامنے آتی ہیں مثلا ان کو کمرہ لاک کرکے سونے کی عادت ہے۔ اندھیرے سے بھی خوف آتا ہے اور کار ڈرائیورنگ سے بھی خوف آتا ہے۔ یہ راستوں پر دھیان نہیں دیتی اس لیے راستے انہیں یاد نہیں رکھتے۔ اسی طرح مکتوب الیہ یعنی ان کے مرحوم شوہر کو شعروادب سے وابستہ نہیں تھے لیکن انہوں نے ادبی سرگرمیوں میں اپنی نصف بھیتر کا ساتھ دیا۔ وہ سادگی پسند اور شور شرابے سے دور رہنے والے انسان تھے۔ نجمہ عثمان کے خطوط میں کردار نگاری اور واقعہ نگاری نظر آتی ہے۔ ان کے خطوط کہی اور ان کہی کی روداد ہیں اس لیے سادگی، روانی اور صدارت اظہار ان خطوط کا بنیادی وصف ہے۔ میں اس کتاب کی اشاعت پر نجمہ عثمان کو مبارکباد پیش کرتی ہوں۔ تقریب سے ڈاکٹر فاطمہ حسن، سہیل احمد، نسیم انجم، انجم عثمان، تسنیم حسن اور کامران مغل نے بھی مختصر خطاب کیا اور نجمہ عثمان کی شخصیت کے مختلف پہلووں کو اجاگر کیا۔ نجمہ عثمان نے اپنے خطاب میں تمام حاضرین اور مقررین کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کیا۔ کتاب…

