2010 کا سیلاب پاکستان کی تاریخ کا وہ المناک باب ہے جس نے ریاستی نظام ادارہ جاتی کار کردگی اور حکومتی ترجیحات کو بے نقاب کر کے رکھ دیا، کروڑوں لوگ متاثر ہوئے ، بستیاں اجڑ گئیں، کھیت کھلیان بہ گئے اور جنوبی پنجاب کے کچے کے علاقے خصوصاً دیر پا عدم توجہی کا شکار رہے، اس تباہی کے بعد امر یکیشن ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے جن سپر ز اور حفاظتی بندوں کا اعلان کیا گیا، اس سے عوام نے اُمید باندھ لی کہ اب شاید آئیندہ نسلیں محفوظ ہوں گی مگر پندرہ برس گزرنے کے بعد سوال آج بھی سوال آج بھی زندہ ہے، کیا سپر واقعی تحفظ کے لیے تھے یا محض مٹی کے ڈھیر یا پھر مخصوص خاندانوں اور آئیندہ آنے والی نسلوں کو مضبوط سہولت دینے کا ذریعہ؟ ، جنوبی پنجاب کے کئی موضوعات میں آج بھی 2010 کے بعد بنائے گئے سپر دیکھیں تو حقیقت کھل کر سامنے آتی ہے، اس کا وزٹ کرنے جائیں تو پتہ چلتا ہے کہیں اونچائی کم ہے، کہیں مٹی غیر معیاری، کہیں لائن سیدھی نہیں، کہیں حفاظتی پتھر یا مناسب بیجنگ ہی موجود نہیں، یہ سر کا غذات میں تو مکمل ہیں مگر حقیقت میں پہلی ہی تیز لہر کے سامنے کمزور پڑ جاتے ہیں، جس پر مقامی لوگ طنز یہ انداز میں کہتے ہیں یہ پر پانی روکنے کے لیے نہیں فائیلس بھرنے کے لیے تھے اس سے بھی سنگین بات یہ ہے کہ پر یکیشن ڈیپارٹمنٹ نے من پسند علاقوں کو فیور کیا، جہاں سیائی اثر و رسوخ تھاوہاں سپر چوڑے، اونچے اور انسونا مضبوط بنے اور جہاں عام انسان، کسان ، مزدور یا کمزور آبا دی تھی وہاں بس خانہ پُری ہوئی، یہ کیسا انصاف ہے کہ دریا ایک ہو، خطرہ ایک ہو مگر تحفظ طبقاطی اور سیاسی بنیادوں پر بانٹا جائے ، سپر کا اصل مقصد کیا ہے؟ کیا وہ صرف کچے میں رہنے والوں کو وقتی دلجوئی دینے کے لیے مٹی کے ڈیھر ہوں یا پھر واقعی دریائی کٹاؤ روکنے، آبادیوں کو بچانے اور زرعی زمینوں کو تحفظ دینے کا ذریعہ؟ کچھ علاقوں سپر اس انداز سے ڈالے گئے کہ کچھ خاندانوں کی زمین محفوظ ہو گئی مگر ساتھ والے دیہات پہلے سے زیادہ خطرے میں پڑ گئے ، قدرتی بہاؤ کے راستے بدل گئے، پانی کو ایک طرف دھکیل کر دوسری طرف تباہی کا سامان پیدا کیا گیا، یوں لگتا تھا کہ جیسے منصوبہ بندی میں سائنس نہیں ، سفارش اور سیاست کا عنصر شامل تھا، اب جبکہ انڈیا کی آبی جارحیت شروع ہوئی تو سر کا تماشہ سامنے آگیا، اب روایتی طریقوں سے کام نہیں چلے گا، پنجاب حکومت سے گزارش ہے کہ سپر کے معاملے کو سیاسی آسانی کے بجائے قومی سلامتی اور انسانی تحفظ کا ہنگامی مسئلہ سمجھے، اب سپر مقامی سیاسی لوگوں کی مرضی دیا ؤ اور مفاد پر عوام کو قبول نہیں بلکہ اسے اسپیشل ایکسپرٹس کی نگرانی میں بننے چاہیں، یہ ایکسپرٹش حکومت کو ہائیڈ رولوجی، ریور انجیئر جنگ جیو ٹیکنیکل ماہرین اور فلڈ مینجمنٹ کے پروفیشنلد چاہیے وہ ملکی ہوں یا بین الاقوامی بیرونی ماہرین جیسے چین یا دیگر ممالک کے تجربہ کار انجینئرز ز جدید معیار، شفافیت اور سخت نگرانی یقینی بنا سکتے ہیں تو پنجاب کی چیف منسٹر کو بغیر کسی جھجک کے ان کی خدمات حاصل کر لینی چاہیں، کیونکہ مسئلہ انا کا نہیں عوام کی جان ومال کے مضبو ط حل کا ہے، ہر سپر کا سائنسی ڈیزائن ہو مٹی، پتھر ، اور دیگر میٹریل کا تھرڈ پارٹی نمیٹ ہو، اونچائی ، چوڑائی اور زاویہ دریا کے بہاؤ کے مطابق طے ہو ، کام کی پیش رفت عوامی ویب پورٹل ہر دکھائی جائے ، شکایات کی صورت میں فوری ایکشن کا واضح نظام موجود ہو، جب تک یہ سب نہیں ہو مقامی MPA ,MNA بجٹ کا2 یا ڈھائی عرب کا Fakeنجیکشن حکومت کو دیتے رہیں گے، میں پنجاب حکومت سے گزارش کروں گی کہ انصاف صرف تقریروں سے نہیں ڈیزائن اور عمل سے نظر آتا ہے ، ایک دیہات محفوظ ہواور دوسرا قربان گاہ بن جائے تو یہ نا انصافی ہے، با اثر نسلوں کو مضبوط سہولت ملے اور عام کسان کے حصے میں کمزور مٹی آئے تو یہ حکمرانوں کی ناکامی ہے، پر مٹی کا ڈھیر نہیں ریاست کی نسبت اور صلاحیت کا امتحان ہوتے ہیں، اگر محترم مریم نواز صاحبہ جو کہ ہماری لیڈر ہیں، دعوی کرتی ہیں کہ سہولت اور تحفظ سب کے لیے برابر ہے تو انہیں یہ ثابت کرنا ہو گا کہ منصوبہ بندی غیر جانبدار ہے، نگرانی آزاد ہے، اور فائدہ ہر اس انسان کو ملتا ہے جو دریا کے کنارے جینے پر مجبور ہے، نہ کہ صرف انھیں جو سیاست کے قریب ہیں، ہمارا تحفظ ہماری زمینوں کا تحفظ ہمارے آبا و اجداد کے موضع کا تحفظ حکومت کی ذمہ داری ہے، احساس نہیں بلخصوص میرا گاؤں موضع کندائی اور اس کے گردو نواح کے علاقے حالیہ اور سابقہ سیلابوں کے بعد جس دریائی کٹاؤ کی شدت کا شکار ہیں ، وہ محض وقتی نہیں بلکہ شدید خطرہ کی شکل اختیار کر چکا ہے، جس نے ایک پریشان کن بحر ان کی
شکل اختیار کر لی ہے ، موضع کندائی 36 سے زائد علاقوں کو cover کرتا ہے ایسے میں سپر flood protection embarkment اور مضبوط بندوں کی فوری ضرورت محض ایک مطالبہ نہیں علاقوں کی بقا کا مسئلہ ہے ، عارضی مرمتیں، کچے بند اور کاغذی منصوبے وقیعی تسلی تو دے سکتے ہیں، مگر مستقبل محفوظ نہیں، جنوبی پنجاب کے ادھورے اور غیر محفوظ تر قیاتی کاموں میں دیمک ہے، ایم پی اے کے شیئر اور اربوں کے بجٹ کا تقاضا بنا ، فائلوں اور کافروں اور تصویروں میں ترقی کی رونمائی جو اب عوام کے غم و غصہ کی بھر پور وجہ بن چکی ہے محترمہ C .M صاحبہ اپنے بہت سے اقدام پنجاب کی بہتری کے لیے ہیں ، ایکعورت کے ایسے اقدام تاریخ یا دور کھے گی ، ایسے میں اگر آپ Chines expert سے اپنی نگرانی میں سپرز کا کام کروائیں تو جنوبی پنجاب کی عوامی ہمیشہ اپنے دلوں میں آپ کو یا در کھے گی، چین دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جنھوں نے دریاؤں اور سیلابی نظام او پر بند باندھنے میں عملی تجربہ حاصل کیا ہے، پانگزی جیسے دریا پر کنٹرول،جدیدانجینئر نگ ،سمارٹ مانیٹرنگ سٹمز اور طویل المدتی منصوبہ بندی یہ سب چین کی کامیابیوں میں شامل ہیں، اگر پنجاب حکومت شفاف معاہدوں، واضح اہداف اور مقامی نگرانی کے ساتھ چینی ماہرین کی خدمات حاصل کرے تو نہ صرف بدعنوانی کے امکانات کم ہو سکیں گے بلکہ جنوبی پنجاب کے ہر گاؤں اور چھوٹے علاقوں میں ترقی کے باقی منصوبہ جات طویل المعیار بنیادوں پیرواں دواں ہوسکیں گے، اور پہلی بار جنونی پنجاب جو کہ پنجند پانچ دریاوں کی تندی و تیزی کو برداشت کرتا ہے ، سکھ کا سانس لے کر دریاؤں کی تندی و تیزی کو برداشت کرتا ہے ، سکھ کا سانس لے آپ کو دعاؤں میں یادر کھے گا، میری دعا ہے کہ اب دوبارہ کبھی امدادی کیمپ ہمارے علاقے میں نہ لگیں اور خوراک خیرات کی صورت میں نہ بے عزت و آبرومندانہ رزق کی فراوانی ہوں، فنڈ ز کی صورت میں نہ بٹیں بلکہ ترقیاتی اور تعمیراتی کاموں اور Re-habilitation of villages پر صرف ہو ، جدید زراعت کا بول بالا ہو، اور قیام پاکستان کے بعد پہلی بار جنوبی پنجاب میں علی پور اور اس سے ملحقہ سبھی چھوٹے بڑے شہر سیلابوں کی مار اور فساد سے محفوظ ہو کر ترقی کی راہ پر گامزن ہوں، ہم آپ کی مدد کے ہر وقت منتظر ہیں ہر روز آنکھیں آپ کی خاص توجہ کی راہ دیکھیں گی تا کہ ہمارے ہرے بھرے کھیت کھلیان محفوظ ہوسکیں اور ہمارے علاقے کے لوگ گھر سے بے گھر ہونے سے محفوظ
ہوسکیں

