اسلام آباد( نمائندہ خصوصی):وزیراعظم کے معاونِ خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان کی زیرِ صدارت لیتھیم آئن بیٹری پالیسی کے حوالے سے اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں سیکرٹری صنعت و پیداوار سیف انجم، چیف ایگزیکٹو آفیسر انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ (ای ڈی بی)حماد منصور اور نجی شعبے کے نمائندگان نے شرکت کی۔اجلاس میں نیشنل لیتھیم آئن بیٹری مینوفیکچرنگ پالیسی 31-2026 پر ہونے والی پیشرفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ہارون اختر خان نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایات کے مطابق انرجی سٹوریج پالیسی کو پاکستان کی قومی توانائی سلامتی کے فریم ورک سے منسلک کیا جانا ناگزیر ہے۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ وزیرِ اعظم کے وژن کے مطابق نجی شعبے اور عالمی سرمایہ کاروں کے ساتھ
شراکت داری ہی پاکستان کے پائیدار توانائی مستقبل کی بنیاد ہے۔معاونِ خصوصی نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایات پر 12 دسمبر 2025 کو قومی بیٹری پالیسی کے لئے ایک خصوصی ورکنگ گروپ قائم کیا گیا۔کمیٹی نے اجلاس کو آگاہ کیا کہ پالیسی میں مرحلہ وار لوکلائزیشن، ٹیرف اصلاحات اور کارکردگی سے مشروط مراعات شامل ہیں تاکہ مقامی مینوفیکچرنگ اور سرمایہ کاری کو فروغ دیا جا سکے۔ہارون اختر خان نے شرکاء کو بتایا کہ یہ پالیسی وفاقی و صوبائی وزارتوں، صنعت، جامعات اور عالمی ماہرین کے تعاون سے تیار کی گئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے مختلف علاقوں میں فاسفیٹ، آئرن اور مینگنیز کے ذخائر موجود ہیں جن سے بیٹری مینوفیکچرنگ کے فروغ اور درآمدی انحصار میں کمی لائی جا سکتی ہے۔معیار اور حفاظت کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے معاونِ خصوصی نے کہا کہ بیٹری سیفٹی اور کارکردگی کے عالمی معیارات کو یقینی بنانے میں پاکستان سٹینڈرڈز اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی (پی ایس کیو سی اے) کا کردار کلیدی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ لیتھیم آئن
بیٹریز سولر انرجی سسٹمز، الیکٹرک گاڑیوں، بیک اپ پاور حل اور موبائل ٹاورز سمیت مختلف شعبوں میں استعمال کی جا سکتی ہیں۔کمیٹی نے ابتدائی لوکلائزیشن کے لئے لیتھیم، آئرن اور فاسفیٹ (ایل ایف پی) بیٹری ٹیکنالوجی کی منظوری دی۔ ہارون اختر خان نے بیٹری ٹیسٹنگ، سرٹیفکیشن اور ری سائیکلنگ کے لئے جامع فریم ورک کی ضرورت پر زور دیا تاکہ پائیداری اور ماحولیاتی تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ چین کے ساتھ بی ٹو بی تعاون کے تحت بیٹری مینوفیکچرنگ سمیت کئی ملین ڈالر کے معاہدے طے پا چکے ہیں۔اس کے علاوہ اس شعبے میں باہمی ہم آہنگی کو مزید فروغ دینے کے لئے وفاقی و صوبائی معدنی محکموں کا اجلاس جلد متوقع ہے۔ہارون اختر خان نے انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ کو ہدایت کی کہ نئی جنریشن انرجی سٹوریج پالیسی کو قومی توانائی سلامتی کے اہداف سے مکمل طور پر ہم آہنگ بنایا جائے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ عالمی ماہرین سے مشاورت جاری ہے اور حکومت پاکستان کو بیٹری مینوفیکچرنگ کا علاقائی مرکز بنانے کے لئے پُرعزم ہے۔
