آج پاکستان کو صرف سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا نہیں بلکہ یہ ملک معاشی برداشت اور سیاسی دانش کے ایک بڑے امتحان سے بھی گزر رہا ہے۔ مہنگائی روزمرہ زندگی کو مشکل بنا رہی ہے، قرضوں کی بھاری ادائیگیوں نے عوامی وسائل دبا دیے ہیں، بے روزگاری بڑھ رہی ہے اور اقتصادی نمو کمزور ہے۔ ایسے میں قومی مسائل کو مسلسل ’’جنگ‘‘ کے تناظر میں پیش کرنا سنجیدہ غور و فکر کا متقاضی ہے۔ جنگی بیانیہ صرف سیاسی نعرہ نہیں بلکہ مالی، سماجی اور حکمرانی کے بڑے بوجھ کا باعث ہے، جو ایک کمزور معیشت کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ بیانیہ حکومت کو ہنگامی اقدامات، غیر معمولی بجٹ کے اخراجات، اور عارضی حلوں کی طرف لے جاتا ہے جبکہ طویل مدتی اصلاحات اور عوامی فلاح کے منصوبے پس پشت رہ جاتے ہیں۔ اصل سوال یہ نہیں کہ پاکستان کو خطرات لاحق ہیں یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ کیا اس کی نازک معیشت جنگی سیاست کا بوجھ اٹھاتے ہوئے مزید عدم استحکام، سرمایہ کاری کی کمی اور عوامی اعتماد کے زوال سے بچ سکتی ہے۔ اگر پاکستان اپنی معیشت کو مستحکم کرنا چاہتا ہے تو اب وہ وقت آ گیا ہے کہ جنگی بیانیہ پر تنقیدی نظر ڈالے اور ترقی و اقتصادی بحالی کو ترجیح دے۔
گزشتہ کئی دہائیوں سے پاکستان کو دہشت گردی، انتہاپسندی، شدت پسندی یا اندرونی بدامنی کے خلاف ’’جنگ‘‘ میں مبتلا ملک کے طور پر پیش کیا جاتا رہا ہے۔ یہ چیلنجز حقیقت ہیں اور ان سے انکار ممکن نہیں، لیکن ملک کو مستقل طور پر جنگ زدہ ریاست کے طور پر پیش کرنے کی سیاسی قیمت بہت بھاری رہی ہے۔ ’’جنگ‘‘ کا تصور غیر معمولی حالات کو جنم دیتا ہے، جس کے نتیجے میں غیر معمولی اخراجات، ہنگامی طرزِ حکمرانی اور ترقی کے مقابلے میں سیکیورٹی کو ترجیح دی جاتی ہے۔ وقت کے ساتھ یہ سوچ پالیسی کے امکانات کو محدود کرتی چلی گئی اور معاشی بحالی کے لیے دستیاب وسائل سکڑتے چلے گئے۔
پاکستان کے معاشی اشاریے صورتحال کی سنگینی کو واضح کرتے ہیں۔ مسلسل مالی خسارہ، بڑھتا ہوا سرکاری قرض، قرضوں کی بھاری ادائیگیاں، کمزور ٹیکس نظام اور زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی نے معاشی استحکام کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ مہنگائی نے عام آدمی کی زندگی مشکل بنا دی ہے جبکہ بے روزگاری اور جزوی روزگار سماجی دباؤ میں اضافہ کر رہے ہیں۔ ایسے حالات میں جنگی سیاست پر مبنی بجٹ اور حکمرانی کا ڈھانچہ برقرار رکھنا دن بدن ناقابلِ برداشت ہوتا جا رہا ہے۔ طویل سیکیورٹی اخراجات تعلیم، صحت، انفراسٹرکچر اور پیداواری اصلاحات میں سرمایہ کاری کی راہ میں رکاوٹ بن رہے ہیں، حالانکہ یہی عوامل قومی طاقت کی اصل بنیاد ہیں۔
جنگی سیاست کے بالواسطہ معاشی نقصانات بھی کم نہیں۔ مسلسل عدم استحکام کا تاثر عالمی سطح پر پاکستان کے رسک پروفائل کو بلند کرتا ہے، جس سے غیر ملکی سرمایہ کاری اور طویل المدتی شراکت داری متاثر ہوتی ہے۔ سرمایہ کار، قرض دہندگان اور ترقیاتی شراکت دار استحکام اور پیش گوئی کے قابل ماحول چاہتے ہیں۔ جو ملک مستقل بحران میں گھرا دکھائی دے، وہاں سرمایہ، ٹیکنالوجی اور منڈیوں کا حصول مشکل ہو جاتا ہے۔ سیاحت، تجارت اور برآمدات کا فروغ بھی اسی تاثر کے باعث متاثر ہوتا ہے۔
ملکی سطح پر جنگی بیانیہ اکثر اختیارات کے ارتکاز، جمہوری احتساب کی کمزوری اور ساختی اصلاحات میں تاخیر کا جواز بن چکا ہے۔ معاشی بدانتظامی، حکمرانی کی ناکامیاں اور ادارہ جاتی کمزوریاں اکثر سیکیورٹی کے بیانیے میں دب جاتی ہیں۔ جب سیاست مستقل بحران کے ماحول میں چلائی جائے تو عوامی مکالمہ محدود ہو جاتا ہے، اختلاف کو شک کی نظر سے دیکھا جاتا ہے اور اصلاحات کی اہمیت کم ہو جاتی ہے۔ اس طرح ایک ایسا دائرہ جنم لیتا ہے جس میں معاشی کمزوری عدم استحکام کو جنم دیتی ہے اور عدم استحکام کو مزید جنگی سیاست کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
قومی سلامتی کو معاشی سلامتی سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ غربت، عدم مساوات، غذائی عدم تحفظ، موسمیاتی خطرات، توانائی کا بحران اور آبادی میں تیز رفتار اضافہ بھی اتنے ہی سنگین خطرات ہیں جتنے روایتی سیکیورٹی چیلنجز۔ کمزور معیشت کسی بھی بحران سے نمٹنے کی ریاستی صلاحیت کو محدود کر دیتی ہے۔ حقیقی طاقت صرف عسکری صلاحیت میں نہیں بلکہ مضبوط معیشت، عوامی اعتماد اور مؤثر اداروں میں مضمر ہے۔ معاشی استحکام کے بغیر مضبوط ترین سیکیورٹی ڈھانچہ بھی دیرپا ثابت نہیں ہو سکتا۔
پاکستان آج ایک اہم انتخاب کے دہانے پر کھڑا ہے۔ یا تو وہ جنگی سیاست اور وقتی بحرانوں پر مبنی طرزِ حکمرانی کو جاری رکھے، یا پھر قومی بیانیے کو معاشی بحالی، ادارہ جاتی اصلاحات اور جامع حکمرانی کی جانب موڑ دے۔ اس کا مطلب سیکیورٹی خدشات کو نظرانداز کرنا نہیں بلکہ انہیں ایک وسیع تر ترقیاتی فریم ورک کے تحت حل کرنا ہے، جہاں پائیدار استحکام کی بنیاد معاشی ترقی ہو۔
آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ پاکستان موجودہ معاشی دباؤ کے ساتھ جنگی سیاست کا سیاسی بوجھ مزید دیر تک برداشت نہیں کر سکتا۔ اب قومی مکالمے میں تبدیلی ناگزیر ہے، ایسا مکالمہ جو معاشی بحالی کو ترجیح دے، جمہوری اداروں کو مضبوط کرے اور اندرون و بیرونِ ملک اعتماد بحال کرے۔ مستقل تصادم کے بیانیے سے نکلے بغیر پاکستان عدم تحفظ اور پسماندگی کے اس دائرے کو توڑ نہیں سکتا اور نہ ہی پائیدار استحکام اور خوشحالی کی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے۔

