لاہور۔( نمائندہ خصوصی)وزیرِ مملکت برائے وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت وجیہہ قمر نے’’ڈیکا-آرچک ماڈل آف فجیٹل لٹریسی‘‘ کے مصنف پروفیسر ڈاکٹر اورنگ زیب حافی کی علمی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا ہے اور اس ماڈل کو ’’حقیقی زندگی‘‘ (IRL) اور’’ورچوئل زندگی‘‘ (IVL) کے نظامِ تعلیم کو یکجا کرنے کے لیے ایک جامع اور مستقبل بین فریم ورک قرار دیا ہے۔ماڈل کی افتتاحی تقریب کے موقع پر اپنے پیغام میں وزیرِ مملکت نے کہا کہ یہ ماڈل طبیعی اور ڈیجیٹل تعلیمی ماحول کے درمیان تیزی سے بڑھتے ہوئے اشتراک سے ابھر نے والے چیلنجز کا براہِ راست جواب ہے۔انہوں نے بتایا کہ پروفیسر حافی کے ساتھ حالیہ ملاقات میں اس فریم ورک کی فکری و تحقیقاتی پختگی، پالیسی سازی میں اہمیت اور عالمی اطلاق پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا،”خاص طور پر ایسے وقت میں جب نظامِ تعلیم ڈیجیٹلائزیشن کے علمی، اخلاقی اور سماجی اثرات سے نبرد آزما ہے، یہ ماڈل اکیسویں صدی کی ایک اہم پیش رفت ہے ۔ پروفیسر ڈاکٹر اورنگزیب حافی ایک بین الاقوامی شہرت یافتہ سائنسی محقق ہیں جن کی متنوع فکری اور تحقیقی کاوشوں کے اعتراف کے طور پر انہیں گزشتہ دہائی میں تحقیقاتی کام کی بنیاد پر 190 ممالک میں سے
چنے گئے اکیسویں صدی کے Top Ten Researchers میں شمار کیا گیا۔وزیر مملکت نے واضح کیا کہ اگرچہ میڈرڈ کی کومپلیوٹنس یونیورسٹی، بوکونی یونیورسٹی، کولمبیا یونیورسٹی، اسٹینفورڈ اور فلوریڈا یونیورسٹی جیسے اداروں نے فجیٹل تعلیم پر کام کیا ہے، لیکن پاکستان کا ‘ڈیکا-آرچک فجیٹل لٹریسی ماڈل’ اپنی گہرائی اور پالیسی سازی کے حوالے سے اس شعبے کو ان عالمی اداروں کے کام سے نمایاں طور پر آگے بڑھاتا ہوا نظر آتاہے۔انہوں نے مزید کہا کہ پروفیسر اورنگزیب حافی کا پیش کردہ فریم ورک پاکستان کو جدید تعلیمی اصلاحات میں صفِ اول میں کھڑا کرتا ہے۔ یہ ماڈل یونیسکو (UNESCO)، نیشنل پوسٹ ڈاکٹورل اکیڈمیا (NPA-US)، ایشیا اینڈ اوشیانا پوسٹ ڈاکٹورل اکیڈمیا (AOPDA)، سائری (SAIRI) اور دیگر بین الاقوامی تحقیقی پلیٹ فارمز کے بلند ترین معیارات پر پورا اترتا ہے۔وزیرِ مملکت نے اس ماڈل کی بنیادی اہمیت اس کے 10 اجزا کو کلیدی قرار دیا،پہلا جزو حقیقی زندگی میں معلومات کی ترسیل (RLIP) اور سائبر اسپیس (CSIP) کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج کو ختم کرنے پر توجہ دیتا ہے اوردوسرا جزو بین العلومی ہم آہنگی پر زور دیتا ہے،جس میں سائنس کے پانچ شعبوں ( فطری، آفاقی و سماجی وغیرہ) کو فنونِ لطیفہ (ادب، AI آرٹس، بائیوٹیک آرٹس وغیرہ) کے ساتھ مربوط کیا گیا ہے۔اسی طرح تیسرا جزو صارفین اور سیکھنے والوں کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ الگورتھم کے ذریعے تیار کردہ مواد کی ساکھ، درستگی اور اخلاقی پہلووں کو پرکھ سکیں۔چوتھا جزو اس بات کا جائزہ لیتا ہے کہ طبیعی و فطری ماحول اور ڈیجیٹل ماحول کس طرح انسانی ادراک اور سماجی میل جول پر اثر انداز ہوتے ہیں۔پانچواں جزو صارف کے تجربے (User Experience) کی وسیع پیمانے پر شناخت پر زور دیتا ہے تاکہ تعلیمی ڈیزائن محض اعداد و شمار کے بجائے حقیقی زندگی کے حقائق پر مبنی ہوں۔اسی طرح چھٹا جزومعلومات کو قبول کرنے اور اسے سمجھنے کے دوہرے طریقوں کی نشاندہی کرتا ہے جو حقیقی اور ڈیجیٹل دنیا میں مختلف ہوتے ہیں۔ساتواں جزو فوری ردِ عمل کے امکانی تجزیے پر مبنی ہے تاکہ معلمین فجیٹل محرکات سے رونما ہونے والے رویوں کا اندازہ لگا سکیں ۔آٹھواں جزو طویل مدتی رویوں کا جائزہ لیتا ہے کہ ڈیجیٹل سسٹمز کا مسلسل استعمال مستقبل کے فیصلوں اور عادات پر کیا اثر ڈالے گا۔نواں جزو ڈیجیٹل معاشرے میں بامقصد شرکت کو ممکن بناتا اور غلط معلومات وذہنی تنائو سے تحفظ فراہم کرتا ہے جبکہ دسواں جزو ڈیجیٹل معلومات اور مادی دنیا کے باہمی اثر و رسوخ کا نظام وضع کرتا ہے کہ کس طرح ڈیٹا حقیقی دنیا کے اقدامات کو جنم دیتا اور انسانی افعال سائبر ڈیٹا کو صدیوں تک کیسے متاثر کرتے ہیں۔اپنے پیغام کے اختتام پر وزیرِ مملکت نے پروفیسر ڈاکٹر اورنگزیب حافی کی فکری قیادت کی تعریف کی اور امید ظاہر کی کہ یہ ماڈل پاکستان اور عالمی سطح پر مستقبل کے نصاب اور تحقیقی ڈھانچے کی بنیاد بنے گا۔
