• پاکستان
  • Discover more at Rejestracja w Alfcasino jest prosta i szybka, a wpłaty i wypłaty realizowane są natychmiastowo, co zapewnia płynne i bezstresowe doświadczenie w świecie gier onli.

  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
میاں طارق جاوید
  • پاکستان
  • Discover more at Rejestracja w Alfcasino jest prosta i szybka, a wpłaty i wypłaty realizowane są natychmiastowo, co zapewnia płynne i bezstresowe doświadczenie w świecie gier onli.

  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
No Result
View All Result
  • پاکستان
  • Discover more at Rejestracja w Alfcasino jest prosta i szybka, a wpłaty i wypłaty realizowane są natychmiastowo, co zapewnia płynne i bezstresowe doświadczenie w świecie gier onli.

  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
No Result
View All Result
میاں طارق جاوید
No Result
View All Result
Home پاکستان

ہاں کوئی ہے: وجود انسانیت اور بیداری کی داستان

تبصرہ نگار: علی رضا احمدانی

Mian Tariq Javeed by Mian Tariq Javeed
نومبر 12, 2025
in پاکستان, کتاب
0
ہاں کوئی ہے: وجود انسانیت اور بیداری کی داستان
0
SHARES
9
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

کامران مغل کی شعری تصنیف "ہاں! کوئی ہے” احساس، تخیل اور حقیقت کا ایسا سنگم ہے جو قاری کو گہرے تفکر، جذبے اور احساس کی دنیا میں لے جاتا ہے۔ یہ مجموعہ محض اشعار کا تسلسل نہیں بلکہ انسانی روح کی اندرونی چیخ، سماجی المیے، اور وجودی سوالوں کا شعری اظہار ہے۔ کامران مغل کے ہاں درد صرف دکھ نہیں بلکہ بیداری کا استعارہ ہے، اور خاموشی ایک ایسی صدا جو لفظوں سے زیادہ اثر رکھتی ہے۔ ان کی شاعری میں احساس کی گہرائی، مشاہدے کی باریکی، اور زبان کی سادگی نے مل کر ایک نیا فکری اور تخلیقی رنگ پیدا کیا ہے۔ ان کے اشعار دل کی دھڑکنوں میں تحلیل ہو جاتے ہیں اور قاری کو خود سے مکالمہ کرنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔

اس مجموعے میں شامل نظم "لکیریں” ایک علامتی، فلسفیانہ اور وجودی نوعیت کی نظم ہے۔ شاعر قبرستان جاتا ہے، ایک مردے کے ہاتھ میں زندگی کی لمبی لکیر دیکھتا ہے، مگر مردہ پھر بھی مردہ ہے۔ یہ نظم تقدیر، زندگی اور موت کے باہمی تعلق پر گہرا سوال اٹھاتی ہے۔ کامران مغل یہاں انسانی زندگی کے اس تضاد کو نمایاں کرتے ہیں کہ قسمت کی لکیریں چاہے کتنی ہی لمبی کیوں نہ ہوں، موت ان سب پر ایک ابدی خطِ تنسیخ کھینچ دیتی ہے۔ یہ نظم انسان کی بے بسی، فنا کے احساس، اور زندگی کی ناپائیداری کا گہرا استعارہ ہے۔ شاعر نے ایک سادہ منظر کے ذریعے فلسفے کی گہرائی کو چھو لیا ہے۔

نظم "لاشے پر بیٹھا بچہ” دل دہلا دینے والی منظر کشی لیے ہوئے ہے۔ دہشتگردوں کے ظلم کی کہانی شاعر نے ایک معصوم بچے کی آنکھوں سے سنائی ہے۔ وہ بچہ جو اپنے باپ کے لاشے پر بیٹھا ہے، باپ کے خون آلود جسم کو تکتے ہوئے اپنے چھنے ہوئے کھلونے کے غم میں گم ہے۔ یہ منظر صرف ایک فرد کا نہیں بلکہ ایک پورے معاشرے کے مردہ ضمیر کا نوحہ ہے۔ کامران مغل نے معصومیت کے کرب کو اس شدت سے پیش کیا ہے کہ قاری کے اندر کی انسانیت جاگ اٹھتی ہے۔ یہ نظم ایک احتجاج بھی ہے اور ایک التجا بھی — کہ ظلم کے خلاف خاموشی بھی جرم ہے۔

"پاکستان میری جان” اور "اے پاک وطن” میں شاعر کا لہجہ جذبات سے لبریز مگر سلیقہ مند ہے۔ وہ حب الوطنی کو محض نعروں میں نہیں بلکہ احساس اور ذمہ داری کے ساتھ برتتے ہیں۔ ان نظموں میں وطن کی مٹی کی خوشبو، شہداء کی قربانیوں کا فخر، اور ایک بہتر، مضبوط پاکستان کا خواب جھلکتا ہے۔ کامران مغل اپنے وطن سے محبت کو نہایت خلوص، احترام اور فکری نرمی کے ساتھ بیان کرتے ہیں۔ ان کے لفظ وطن کے لیے ایک دعا بن جاتے ہیں، ایک امید کہ یہ دھرتی امن، انصاف اور روشنی کا استعارہ بنے۔نظم "اے وادی کشمیر” میں شاعر کا دل زخمی ہے، مگر اس کے لہجے میں امید بھی ہے۔ وہ ظلم، بربریت اور جبر کے خلاف انسانیت کی آواز بن کر ابھرتے ہیں۔ ان کے اشعار کشمیر کی خوبصورت وادیوں میں بسنے والے معصوموں کی چیخوں کا ترجمہ ہیں۔ وہ بندوق کی گولی سے زیادہ تیز لفظ کا تیر چلاتے ہیں۔ شاعر کشمیر کی آزادی نہیں بلکہ وہاں کے انسان کے حقِ زندگی کی بات کرتا ہے اور یہی اس نظم کو عالمی احساس کا درجہ دیتا ہے۔

یوں "ہاں! کوئی ہے” میں شامل یہ تمام نظمیں اور غزلیں مجموعی طور پر انسانیت، درد، احساس، امید، وطن سے محبت، اور ظلم کے خلاف بغاوت کی کہانی سناتی ہیں۔ کامران مغل نے ان نظموں میں تخیل کے پردے سے حقیقت کی آنکھ دکھائی ہے۔ ان کی شاعری قاری کے دل پر دستک دیتی ہے، اور دیر تک روح میں ارتعاش پیدا کرتی ہے۔ ان کے ہاں لفظ صرف اظہار نہیں، ایک عہد، ایک پیغام اور ایک احساسِ ذمہ داری ہیں۔یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ کامران مغل نے لفظوں سے وہ آئینہ تراشا ہے جس میں قاری اپنا چہرہ، اپنا درد، اور اپنی شناخت دیکھ سکتا ہے۔ "ہاں! کوئی ہے” اردو شاعری کے منظرنامے پر تازگی، فکری بیداری اور تخلیقی صداقت کی علامت ہے، اور آنے والے وقت میں یقیناً اردو ادب کی ایک نمایاں کتاب کے طور پر یاد رکھی جائے گی۔

پچھلی پوسٹ

اسٹیٹ بینک میوزیم اینڈ آرٹ گیلری میں علامہ اقبال کی زندگی اور فلسفے پر یادگار نمائش کا آغاز

اگلی پوسٹ

پاکستان کینیڈا کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کا خواہاں ہے، وزیراعظم شہباز شریف کی کینیڈین ہائی کمشنر طارق علی خان سے گفتگو

Mian Tariq Javeed

Mian Tariq Javeed

Next Post
پاکستان کینیڈا کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کا خواہاں ہے، وزیراعظم شہباز شریف کی کینیڈین ہائی کمشنر طارق علی خان سے گفتگو

پاکستان کینیڈا کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کا خواہاں ہے، وزیراعظم شہباز شریف کی کینیڈین ہائی کمشنر طارق علی خان سے گفتگو

زمرہ کے لحاظ سے براؤز کریں۔

  • پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • صحت
  • کھیل
No Result
View All Result
  • Hrajte své oblíbené kasinové hry kdykoli a kdekoli na svém chytrém telefonu nebo tabletu s Posido casino, které vám nabízí skvělou zábavu a příležitosti k výhře.

  • Εγγραφείτε εύκολα, πραγματοποιήστε γρήγορες καταθέσεις και απολαύστε ταχύτατες πληρωμές στο Vegashero, όπου η εμπειρία του online καζίνο σας περιμένει με συναρπαστική δράση.

  • صفحہ اول
  • انٹرنیشنل افیئرز
  • پاکستان
  • بزنس
  • کھیل
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • صحت
  • دلچسپ

© 2022 Develop by Newspaper