اسلام آباد۔( نمائندہ خصوصی):جنگ ستمبر 1965 کے اکیسویں روز سیالکوٹ کے محاذ پر ہونے والی ٹینکوں کی سب سے بڑی لڑائی میں افواجِ پاکستان نے شجاعت، مہارت اور قربانی کی بے مثال داستان رقم کرتے ہوئے دشمن کو فیصلہ کن شکست سے دوچار کر دیا تھا ۔ پاک فوج نے دشمن کے درجنوں ٹینک تباہ کر کے اس کی پیش قدمی کو نہ صرف روکا بلکہ اسے پسپائی پر مجبور کر
دیا۔سیالکوٹ، کھیم کرن اور حسینی والا کے محاذوں پر پاک فوج نے بھرپور جوابی کارروائیاں کرتے ہوئے اہم جنگی کامیابیاں حاصل کیں۔ سیالکوٹ میں دشمن کے 6 ٹینک تباہ کیے گئے، جبکہ فاضلکے سیکٹر میں 11 ٹینک، 6 مشین گنیں اور بڑی مقدار میں گولہ بارود قبضے میں لے لیا گیا۔ اسی کارروائی میں دشمن کی 3 اینٹی ٹینک گنز بھی تباہ کر دی گئیں۔ راجستھان سیکٹر میں بھارتی افواج نے پیش قدمی کی کوشش کی، مگر پاکستانی سپاہیوں نے جوانمردی سے مقابلہ کرتے ہوئے دشمن کو نہ صرف پسپا کیا بلکہ جنگی ساز و سامان سمیت کچھ علاقہ بھی اپنے قبضے میں لے لیا۔فضاؤں میں بھی پاک فضائیہ نے اپنی برتری ثابت کرتے
ہوئے سرگودھا کے قریب بھارتی جنگی طیارہ کینبرا اور لاہور کے قریب ایک ہنٹر طیارہ مار گرایا۔ اس کے علاوہ بھارت کے اندر واقع اہم فضائی اڈوں آدم پور، ہلواڑہ اور جودھ پور پر حملے کر کے دشمن کو بھاری نقصان پہنچایا گیا۔پاک بحریہ بھی دشمن کی کسی بھی جارحیت کا جواب دینے اور پاکستان کی سمندری حدود کی حفاظت کے لیے مکمل طور پر چوکس اور تیاررہی۔ افواجِ پاکستان کی یہ شاندار کامیابیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دشمن کی کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا، اور مادرِ وطن کے ایک ایک انچ کی حفاظت کی جائے گی، چاہے اس کے لیے کوئی بھی قربانی کیوں نہ دینی پڑے۔
