کراچی(نمائندہ خصوصی)قائم مقام چیف جسٹس آف سندھ ہائی کورٹ جسٹس ظفر احمد راجپوت نے کہا ہے کہ حکومت سیاسی تقاضے پورے کرتی ہے دیگر شعبوں پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے،صحت کا شعبہ کمرشل اور بدعنوانیوں کا شکار نہیں ہونا چاہیے،طب کے شعبے میں برسوں سے کھلواڑ ہورہاہے جو کے لمحہ فکریہ ہے،وہ مقامی ہوٹل میں کنزیومر ایسوسی ایشن آف پاکستان کے زیر اہتمام 5ویں ہیلتھ کئیر سمٹ 2025ءاور ہیلتھ کئیر ایوارڈ دینے کی تقریب سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کررہے تھے،اس موقع پر میزبان چئیرمین کنزیومر ایسوسی ایشن آف پاکستان کوکب اقبال ،پیپلزپارٹی کے رکن قومی
اسمبلی ویمن کے اعزازی قونصل جنرل ڈاکٹر مرزا اختیار بیگ،معروف بزنس مین و موزمبیق کے اعزازی قونصل جنرل خالد تواب ،وزارت خارجہ کراچی کے ڈائریکٹر جنرل عرفان سومرو،انڈس اسپتال کے سربراہ ڈاکٹر الباری خان،منصب ابرار،ڈاکٹر شیخ شکیل ،جاوید چھتاری ایڈوکیٹ ،ملک خدا بخش ،ریحان ہاشمی،عاطف احمد خان،ڈاکٹر ذوالفقار تنیو ،برگیڈئیر (ر)ملک وقار اعوان،ڈاکٹر رفیق خانانی،اسد اللہ لاڑک ،حننا فرحان عیسیٰ نے بھی خطاب کیا،تقریب میں کیک کاٹا گیا اور مہمان خصوصی چیف جسٹس سمیت صحافیوں ودیگر کو ایوارڈ تقسیم کئیے گئے،چیف جسٹس نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دوائیں لکھنے کے لئے ہر قسم کی پبلک سٹی پر پابندی ہونی چاہئیے،صورتحال یہ بن چکی ہے کہ جو ڈاکٹر کسی کمپنی کی میڈیسن زیادہ لکھتا ہے اسے بھوربھن کی سیر کرائی جاتی ہے اور بیرون ملک سوئزر لینڈ ،جرمنی ودیگر ممالک میں بھیجا جاتا ہے اور انہیں تحفے و تحائف پیش کئیے جاتے ہیں،یہ عمل رشوت کے زمرے میں آتا ہے جو ختم ہونا چاہئیے،انہوں نے کہا کہ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او)کے پاس جتنی میڈیسن رجسٹرڈ ہیں اس سے کئیں زیادہ پاکستان میں دوائیں رجسٹرڈ ہیں،حکومت کو رجسٹریشن پر کنٹرول حاصل کرنے کی ضرورت ہے،طب کے شعبے میں رشوت اور بد عنوانیوں کا خاتمہ ضروری ہے،حکومت انصاف ،صحت اور تعلیم کے شعبے میں زیادہ توجہ دے،اس کے ساتھ دواو¿ں کی رجسٹریشن محدود کی جائے،میزبان کوکب اقبال کو حکومت کی جانب سے ایوارڈ
نہ دینے کے بارے میں چیف جسٹس نے کہا کہ ایک رائٹر کو جب نوبل انعام سے نوازا گیا تو اس کے بارے میں کہا گیا کہ اس رائٹر کا قد نوبل انعام سے بڑا ہے،اسی طرح میں یہ کہوں گا کہ کوکب اقبال کو حکومت کی جانب سے ایوارڈ نہ دئیے جانے سے کوئی فرق نہیں پڑتا ،وریسے کوکب اقبال ہمارے ہیرو ہیں اور انہیںحکومتی سطح سے ایوارڈ ملنا چاہیے،چیف جسٹس نے کہا کہ آئین کا آرٹیکل 9 ہر شہری کی زندگی کی ضمانت دیتا ہے،اسی طرح آئین کے آرٹیکل38 کے تحت حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ہر شہری کوصحت کی سہولت فراہم کرے،قوموں کی ترقی اچھی صحت سے جڑی ہوئی ہے،انہوں نے کہا کہ دنیا میں ترقی یافتہ معاشرے کی نشانی یہ ہے کہ خواتین کی ترقی پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے ،میزبان کوکب اقبال نے مہمانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ہیلتھ کئیر کمیشن آتائی ڈاکٹرز ،عوام کو لوٹنے والی اسپتالوں اور میڈیسن کی قیمتیں بڑھانے والی کمپنیوں کے خلاف کارروائی کرنے میں ناکام ثابت ہوا ہے،انہوں نے کہا کہ کمپنیوں کی جانب سے کمیشن دینے کا سلسلہ بند ہونا چاہیے،دوسری جانب اسپتالوں کے بھاری بلز اور آتائی ڈاکٹرز کے خلاف کارروائی کرنے میں بھی ہیلتھ کمیشن ناکام ثابت ہوا ہے،کوکب اقبال نے کہا کہ ہمارا کام کنزیومر کے حقوق کا تحفظ کرنا ہے ،اس بارے میں قانونی ٹیم کی مدد بھی حاصل کریں گے،لوگوں کی جانوں سے کھیلنے کی کسی کو اجازت نہیں دی جاسکتی،ڈاکٹر اختیار بیگ نے کہا کہ کوکب اقبال کی کوششوں سے صارف کے حقوق کا تحفظ کرنے کا قانون سب سے پہلے صوبے سندھ میں بنا ہے ،لیکن اس پر عملدرآمد میں تاخیر سمجھ سے بالا ترہے،انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ کی یہاں موجودگی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ صارفین کے حقوق کے لئیے کوکب اقبال عالیٰ عدلیہ سمیت سب سے رابطے کرتے ہیں ،خالد تواب نے کہا کہ اس وقت سب سے زیادہ ضرورت لوگوں کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی ہے،معیاری پانی نہ ملنے کے سبب کالا یرقان ودیگر بیماریاں تیزی سے پھیل رہی ہیں،انہوں نے کہا کہ لوگ بیماری کی حالت میں اسپتالوں کا رخ کرتے ہیں ،لیکن انہیں اس وقت مایوسی ہوتی ہے جب فوری علاج نہ کیا جائے،ڈاکٹر زو طبی عملہ بیمار پر توجہ نہ دے،ڈاکٹر عبدالباری خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ 18 برس قبل 10کڑور روپے فنڈ،150 بیڈز پر قائم ہونے والا انڈس اسپتال اس وقت ملک میں 13 برانچوں میں لوگوں کو معیاری طبی سہولیات فراہم کررہا ہے اور ہمارا بجٹ 61 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے،عرفان سومرو نے کہا کہ 5 ویں ہیلتھ کئیر سمٹ منعقد کرانے پر میں کوکب
اقبال کو مبارک باد پیش کرتا ہوں ،میںنے (یو این او) کے ساتھ کام کیا ہے اس لئیے صحت کے شعبے کی اہمیت کا اندازہ ہے،کنزیومر ایسوسی ایشن آف پاکستان کا صحت کے شعبے میں فوکس کرنا صارفین کی حقیقی ترجمانی ہے،ڈاکٹر شیخ شکیل نے کہا کہ سندھ کے بڑے شہروں میں ملیریا تیزی سے پھیل رہا ہے،اس بیماری کو ایک روز میں قابو کیا جاسکتا ہے،ورنہ بیماری بڑھنے سے مریض کی موت بھی واقع ہوسکتی ہے،جاوید چھتاری ایڈوکیٹ نے کہا کہ سی ایس آر کے پیسے کے بارے میں ہم نے 250 کمپنیوں کو نوٹسز جاری کئیے اور یہ جاننا چاہا کہ پیسے کہاں خرچ ہورہے ہیں،لیکن کمپنیوں کی جانب سے یہ کہا گیا کہ آپ کون ہوتے ہیں ہم سے معلومات کرنے والے ،تو ہم بتانا چاہتے ہیں کہ ہمیں یہ پوچھنے کا حق حاصل ہے کہ عوام کا پیسہ کہاں خرچ ہورہا ہے،تقریب میں کچھ قرار دادیں بھی پاس کرائی گئیں،تقریب میں چیف جسٹس ،کوکب اقبال ،اختیار بیگ،عرفان سومرو ،ریحان ہاشمی ،مدثر عالم،ذاہد کرانی،منصف ابرار،پروفیسر ڈاکٹر فوزیہ ،اقبال یوسف،ڈاکٹر مالا ،ڈاکٹر عبید علی،ڈاکٹر واصف ،ڈاکٹر ذوالفقار تنیو ،رفیق خانانی،زیشان ہاشمی،ملک خدا بخش،ڈاکٹر احسن عباس،عبداسلام دادا بھائی،تحسین فاطمہ،ڈاکٹر سعادت ،رانا محمد سلیم،اسلم خان،اکرم راجپوت،صبا ءلطیف،محمد سعاد سلیم،عابد عباس،نجمہ غفار،ڈاکٹرمنہاج قدوائی ودیگر کو شیلڈ پیش کی گئی،تقریب میں انڈونیشیاءکے قونصل جنرل نے بھی شرکت کی۔

