کراچی ( نمائندہ خصوصی )ایس آئی یو ٹی مریم بشیر داود چلڈرن اسپتال میں ورلڈ پیشنٹ سیفٹی ڈے 2025 نہایت جوش و خروش سے منایا گیا، جہاں بچوں کی محفوظ دیکھ بھال، ان کی تعلیم اور آگاہی کو اجاگر کرنے کے لیے مختلف سرگرمیوں کا اہتمام کیا گیا۔ اس موقع پر ماہرینِ طب نے زور دیا کہ مریضوں کی حفاظت اور بہتر علاج کے لیے والدین، معالجین اور معاشرے کو اجتماعی طور پر آگے آنا ہوگا۔واضح رہے کہ ایس آئی یو ٹی میں مریضوں کوتمام طبی سہولیات ، بلا تفریق مفت فراہم کی جاتی ہیں۔اس سال کا موضوع ’’ہر نوزائیدہ اور ہر بچے کے لیے محفوظ نگہداشت‘‘ رکھا گیا، جس کے تحت ماہرین نے واضح کیا کہ بالخصوص ایسے بچے جو پیدائشی یورولوجی یا قلبی امراض میں مبتلا ہوں، وہ زیادہ خطرات سے دوچار رہتے ہیں۔ مزید برآں،
مقررین نے کہا کہ مریضوں کی حفاظت محض ایک پیشہ ورانہ ذمہ داری نہیں بلکہ ایک اخلاقی فریضہ بھی ہے، جو معیارِ صحت کی ضمانت فراہم کرتا ہے۔تقریب میں گردہ اور دل کے امراض میں مبتلا بچوں اوران کے والدین کے لیے آگاہی پر مبنی دلچسپ سرگرمیاں منعقد کی گئیں۔ جس میں ، ڈاکٹروں، والدین اور تیمارداروں کی حقیقی کہانیاں پیش کی گئیں، جنہوں نے واضح کیا کہ کس طرح روزمرہ زندگی میں کیے جانے والے چھوٹے چھوٹے اقدامات، چاہے وہ علاج کے دوران ہوں یا گھر کی دیکھ بھال میں، بڑی تبدیلی لا سکتے ہیں اور قیمتی جانیں بچا سکتے ہیں۔علاوہ ازیں، ماہرین نے توجہ دلائی کہ بچوں اور نوزائیدہ
مریضوں کی حفاظت کو مضبوط بنانا نہایت ضروری ہے تاکہ پانچ برس سے کم عمر بچوں کی اموات میں نمایاں کمی لائی جا سکے۔ چنانچہ، انہوں نے زور دیا کہ محفوظ زچگی، نوزائیدہ بچوں کی نگہداشت، دواؤں کا درست استعمال، انفیکشن سے بچاؤ، حفاظتی ٹیکوں کا بروقت انتظام، درست تشخیص ، اچھی خوراک اور صحت کی بحالی جیسے شعبوں میں مزید بہتری لانے کی
ضرورت ہے۔تاہم، ماہرین نے یہ بھی کہا کہ والدین اور معالجین کی شراکت داری کے بغیر یہ مقصد حاصل نہیں ہو سکتا۔ یوں، اجتماعی کوششوں سے ہی صحت مند معاشرہ تشکیل دیا جا سکتا ہے۔ اس موقع پر بچوں، والدین، معالجین اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد نے شرکت کی، جس سے یہ تقریب ایک مؤثر اور یادگار دن ثابت ہوئی۔
