کیا حال ہیں برادر یہ ان کا مخصوص جملہ تھا، جو ان کی پہچان بن گیا۔ جسارت کی رپورٹنگ کے زمانے میں کورٹ رپورٹنگ کے حوالے سے دو ہی نام معتبر تھے۔ حریت کے منظور عباس اور جنگ کے برادر علی حمزہ خان ۔ برادر حمزہ کورٹ رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں کے استاد تھے، کورٹ کی رپورٹنگ میں آنے والے کوئی رپورٹر ان سے بچ کر نہیں نکل سکتا تھا۔ وہ صحافیوں سے زیادہ وکلاء میں مشہور تھے۔ ان کا زیادہ وقت دفتر کے بجائے عدالتوں میں گزرتا تھا۔ خبر بنانے کا جو ہنر برا در حمزہ کو حاصل تھا، اور عدالتوں کے ججوں کو جو اعتبار برادر کو تھا وہ مقام اردو صحافت میں کم لوگوں کو حاصل ہوتا تھا۔ وہ نہایت شفیق اور محبت کرنے والے استاد تھے، کوئی ان کے پاس جاتا تو تسلی سے بات سنتے ۔ بہترین مشورے سے نوازتے۔ مجھے ان دنوں سنڈیکیٹ کا مطلب سمجھ نہیں آتا تھا۔ پھر کسی نے بتایا کہ صحافیوں کی سنڈیکیٹ کا مطلب ہے، کسی بیٹ کے رپورٹر کا یکجا ہوکر کوئی خبر بنانا۔ اس سنڈیکیٹ میں رپورٹرز ایک دوسرے سے خبروں کا تبادلہ کرلیتے۔ یوں کسی رپورٹر سے کوئ خبر مس نہیں ہوتی ہے اور اگلے دن سارے اخبارات میں ایک جیسی خبریں چھپتی۔ عدالتوں کی خبریں جمع کرنے والے صحافیوں کی سنڈیکیٹ کی میٹنگ کا مرکز سٹی کورٹ میں عاشقین کی کینٹین تھی جو ایک گھنے درخت کے سائے تلے تھی۔ برادر علی حمزہ خان اس سنڈیکیٹ کے مرکز و محور تھے۔
حمزہ علی خان نے اپنی زندگی میں بہت محنت کی، ایک ہاکر کے طور پر اخبار بھی فروخت کیے۔ اور پھر اسی شعبے میں رپورٹنگ کرکے نام بھی کمایا۔اس کے ساتھ برسوں کام کرنے والے اور اس کیرئیر میں ان کی مدد کرنے والے ممتاز بزرگ صحافی عارف الحق عارف ان کی اس جدوجہد کو بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں ۔ ” بردار حمزہ نے ایک غریب خاندان میں آنکھ کھولی۔ذرابڑے ہوئے تو اسکول میں داخل ہوئے،گھریلو حالات ساز گار نہ تھے۔اس لئے تعلیم کے ساتھ ساتھ روزگار کی تلاش شروع کردی۔بابر مارکیٹ لانڈھی میں اخبار فروشی کا کام مل گیا اور وہ گھر گھر اخبار پہنچانے یا پھینکنے والے ہاکر بن گئے۔ اخبار بیچتے بیچتے اخبار نویسی کی طرف رجحان ہوا اور اس کو اپنا کریئر بنانے کا فیصلہ کیا۔ ہاکری کے ساتھ ساتھ تعلیم بھی جاری رکھی اور بی اے کرلیا۔ ۱۹۶۷ میں کراچی سے روزنامہ مشرق شائع ہونا شروع ہوا اور اس نے تھوڑے عرصے میں کرچی کے اخبارات میں اہم مقام حاصل کرلیا۔اس نے کراچی کے کئی نوجوانوں کو صحافت میں اپنا مستقبل بنانے اور طبع آزمائی کرنے کے مواقع فراہم کئے اور اردو صحافت کو بڑے بڑے صحافی فراہم کئے۔ان میں عرفان غازی،ارشاد احمد خان، اختر علی رضوی،اشرف شاد،نسیم شاد،ارشاد راؤ، مشتاق سہیل، ولی رضوی، ہمایوں عزیز ،شہریار جلیس، عبدالغفار رحمانی،نعیم آروی،راشدہ نثار،نظام صدیقی،فیضان دادا،
فوٹو گرافر وقار حسن، فوٹو گرافرزیدی،ارشاد جعفری، اشتیاق علی خان، آفاق فاروقی،اور شاہد حسین بخاری خاص طور پر یاد ہیں۔ تھوڑے عرصے بعد اس صف میں علی حمزہ بھی شامل ہوگئے۔ ماتحت عدالتوں کی رپورٹنگ سے اپنے صحافتی کیریئر کا آغاز کیا اور بہت کم عرصے کی محنت اور کام میں توجہ اور لگن سے اپنی شناخت بنالی۔عدالتی شعبے سے تعلق رکھنے والے عملے سے قریبی تعلقات استوار کئے جس کی وجہ سے اچھی خبروں کے حصول میں انہیں کبھی مشکل اور دشواری کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔بہت جلد انہوں نے ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے بڑے بڑے مقدمات کی رپورٹنگ میں بھی اپنا نام بنا لیا اور وہ اعلی عدالتوں کے وکلاءاور ججوں میں بھی ایک اچھے اخبار نویس کی حیثیت سے مشہور ہوگئے۔کراچی بار اور ہائی کورٹ بار میں ان کاانتظار کیا جاتا تھا۔کہ وہ آئیں تو ان کو خبر دی جائے۔ان کے ماتحت اور اعلی عدالتوں کے ججوں سے بھی دوستانہ تعلقات تھے۔ان کو ان ججوں سے ان کے چیمبر میں ملاقات میں کوئی مشکل پیش نہیں آتی تھی۔”
عدالتی فیصلوں کی خبریں اخبار میں چھپتی تو رہتی تھیں، لیکن ان خبروں پر عدالت کی جانب سے توہین عدالت کے نوٹس بھی آیا کرتے تھے۔ جنگ کے ایڈیٹر انچیف میر خلیل الرحمن ا ن نوٹس نسے بہت گھبراتے تھے۔ برادر علی حمزہ کی رپورٹنگ ایسی تھی کہ وہ کبھی ایسے توہین عدالت کے نوٹس کی زد میں نہ آئے۔ ان کی رپورٹنگ کی مہارت’ خبر کا کھوج لگانے کی جستجو’ وکلا اور ججز سے ان کے تعلقات’ فیصلوں کو غوز سے پڑھنا، انھیں سمجھنے کے لیے وکلاء اور ججوں سے معاونت حاصل کرنے سے ان کی خبر اعتبار کی بلندی چھو لیتی ۔ ان کا یہ وصف بھی قابل ذکر ہے کہ وہ عدالتوں میں سائلین کی مدد پر ہر وقت آمادہ رہتے ، مظلوموں کی مدد اور سفارش بھی کرتے ۔ وہ قانون کی موشگافیوں’ عدالت میں پولیس کی کارستانیوں’ شہادتوں اور گواہیوں کی ہیرا پھیریاں۔ عدالتی کوریڈور کے لین دین اور سودے بازیاں سے پورے طورپر واقف تھے۔ یہ عدالتی قوانین انہیں ازبر تھے ۔ وہ ماتحت عدالتیں ہوں یا اعلیٰ عدالتیں، عدالتوں کے مزاج’ انداز’ طریقہ کار اور برتاؤ ہر بات سے آگاہ تھے۔ اس لیے کوئی انھیں ڈاج نہیں دے سکتا تھا۔ خبر برادر علی حمزہ کا اوڑھنا بچھونا تھا۔ وہ مقدمات میں ہونے والی پیش رفت سے آگاہ رہتے ۔ اس آگہی ، لگن ، اور سوجھ بوجھ کے سب معترف تھے۔ اس لیے کراچی پریس کلب میں جب ان کی پذیرائی کی تقریب منعقد ہوئی تو اس تقریب کیلیے چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ جسٹس مشیر عالم, ندیم شیخ ایڈووکیٹ اور تمام کورٹ رپورٹرز نے بھرپور شرکت کی ۔
ممتاز سینئر صحافی شہزاد چغتائی کی برادر علی حمزہ خان سے رفاقت چار دہائیوں پر مشتمل رہی ۔ وہ انھیں” پاکستان کے سب سے بڑے کورٹ رپورٹر” کہتےہیں۔ شہزاد چغتائی اس زمانے کو یاد کرتے ہیں۔ "اس زمانے میں کورٹ رپورٹنگ بہت جید صحافی کرتے تھے جن میں سرورکنول میاں منظور قدوس فائق منظورعباس تنویر بیگ مشتاق شاہ شامل تھے کنور افضالی بھی کبھی کبھی عاشقین کی کینٹن میں باقاعدہ آتے تھے جنگ کے فوٹو گرافر قاضی فیروز روز سٹی کورٹ میں ڈیوٹی لگتی تھی علی حمزہ خان ویسے تو سب کے محبوب تھے لیکن منظور عباس سے ان کی بہت زیادہ دوستی تھی دونوں کا مزاج ایک ہی جیسا تھا ہر وقت کسی نہ کسی کی مدد اور سفارش کے لئے تیار رہتے تھے کوئی ان سے کہتا تھا کہ برادر ذرا فلاں جج سے سفارش کر دیں تو وہ شخص ان کا جاننے والا ہو یا نہ ہو اس کے ساتھ روانہ ہو جاتے تھے۔ جب میں جنگ اخبار میں تھا تو میر جاوید رحمان نے میٹنگ میں حکم دیا کل سے کورٹ کی خبریں آپ دیا کریں گے جو لوگ جاوید رحمان مرحوم کوجانتے ہیں ان کو پتہ ہے کہ میر جاوید الرحمان کے پاس حکم عدولی کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی تھی میں نے حامی بھر لی پھر میں نے کئی ماہ کورٹ رپورٹنگ اس طرح کی کہ شام کو دفتر آکر علی حمزہ خان کو فون کرتا تھا جو اس وقت مشرق میں تھے اور ان سے کورٹ کی ساری خبریں میں فون پر لکھ لیا کرتا تھا ۔” سنیئر صحافی اور خوبصورت اردو لکھنے والے سہیل دانش نے ان کو خراج عقیدت پیش کرکے ان بارے میں اپنے خاکے میں لکھا۔”ایک شخص جس نے زندگی کے سارے مزے چکھے’ سارے رنگ دیکھے’ بے شمار نشیب و فراز پھلانگے’ وہ نہ جانے کتنے تلخ و کٹھن مراحل سے گزر گیا’ لیکن مجال ہے کہ حالات کی کڑواہٹ کبھی اس کی شخصیت کی شگفتگی اور حلاوت پر حاوی ہوئی ہو۔ غربت و عسرت کے بوجھ نے اسے گھائل بھی کیا’ لیکن محنت اور نیک نیتی کا دامن اس نے کبھی نہیں چھوڑا۔”
وہ درجنوں نوجوان کورٹ رپورٹروں کے استاد تھےاور بابائے کورٹ رپورٹرز بھی کہلاتے تھے۔ بردرحمزہ نا صرف بہت اچھے رپورٹر رہے بلکہ ہر عمر کے ساتھی کے بہترین دوست اور استاد بھی رہے۔ ممتاز کورٹ رپورٹر عمر اصغر اس بارے میں بتاتے ہیں کہ ” وہ اپنے ساتھیوں کے انداز نشست و برخاست, مجلسی آداب اور شخصیت کی بھی تربیت کرتے, داڑھی رکھنے والے نوجوانوں کا احترام کرتے لیکن جو داڑھی نہیں رکھتا اسے ہر روز شیو کی تاکید کرتے,ڈانٹ ڈپٹ اور محبت کا بہترين ملاپ اگر دیکھنا ہو تو وہ برادر کی شخصیت میں ملے گا, انتہائی وسیع ظرف اور روشن خیال تھے, ہر مذہب, مسلک اور زبان سے تعلق رکھنے والے کی عزت کرتے۔ اپنے ہم عمر ساتھیوں کو برادر اور جونیئرز کو امروہے کے مخصوص انداز میں لونڈے کہہ کر پکارتے, "لونڈے کتنی خبریں جمع کر لی ہیں” یہ روزانہ کا جملہ تھا جو وہ ہر شاگرد سے روزانہ کہتے,, کبھی ریلیکس ہو کر پاوں پر پاوں رکھ کر بیٹھ جاتے تو فورا ٹوکتے میاں کیا کبھی لکھنئو گئے ہو۔ ہمیں فورا احساس ہوجاتا کہ غلطی ہوگئی ہے کیونکہ اس طرح بیٹھنے سے جوتے کا رخ دوسرے آدمی کی طرف ہوجاتا جو بد تہذیبی ہے۔ برادر چلتے پھرتے اسلامی اور مشرقی تہذیب کا نمونہ تھے۔ برادر علی حمزہ نے اپنے بیٹوں کی تعلیم پر توجہ دی ۔ ان کے دو بیٹے عبید حمزہ اور طارق حمزہ ہیں۔دونوں کو انہوں نے وکالت کی تعلیم دلوائی۔حمزہ ست نہال عاشمی کی لاء فرم میں انٹرن شپ کی اور اب وہ ڈسٹکٹ اور سیشن جج کے عہدے پر فائز ہیں جب کہ طارق حمزہ سندھ ہائی کورٹ کا اچھا وکیل ہے۔جنگ کے سابق ایڈیٹر ممتاز کالم نگار صحافی محمود شام نے ان کے بارے میں کہا "ایک عہد عدالتی رپورٹنگ کا ان کے ساتھ رخصت ہوگیا ۔

