• پاکستان
  • Discover more at Rejestracja w Alfcasino jest prosta i szybka, a wpłaty i wypłaty realizowane są natychmiastowo, co zapewnia płynne i bezstresowe doświadczenie w świecie gier onli.

  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
میاں طارق جاوید
  • پاکستان
  • Discover more at Rejestracja w Alfcasino jest prosta i szybka, a wpłaty i wypłaty realizowane są natychmiastowo, co zapewnia płynne i bezstresowe doświadczenie w świecie gier onli.

  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
No Result
View All Result
  • پاکستان
  • Discover more at Rejestracja w Alfcasino jest prosta i szybka, a wpłaty i wypłaty realizowane są natychmiastowo, co zapewnia płynne i bezstresowe doświadczenie w świecie gier onli.

  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
No Result
View All Result
میاں طارق جاوید
No Result
View All Result
Home کالمز

انوکھی اقلیت۔۔۔۔کھیلن کو مانگے "کھلواڑ”

نیوز روم/امجد عثمانی

Mian Tariq Javeed by Mian Tariq Javeed
جولائی 10, 2024
in کالمز
0
انوکھی اقلیت۔۔۔۔کھیلن کو مانگے "کھلواڑ”
0
SHARES
9
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

دو سال پہلے کی بات ہے۔۔۔۔لاہور کی شملہ پہاڑی پر جنوبی ایشیا کے خوب صورت ترین پریس کلب میں گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور کے پنجابی پروفیسر جناب ڈاکٹر کلیان سنگھ کلیان ساتھ چائے پیتے مجھے کرتار پور میں برسوں پہلے نوش کی ہوئی "یادگار چائے” یاد آگئی۔۔۔۔اس دن میں اور سنئیر اخبار نویس برادرم خالد منہاس صحن میں بیٹھے گپ شپ لگا رہے تھے کہ پروفیسر صاحب کا ادھر سے گذر ہوا۔۔۔۔خالد صاحب نے انہیں بیٹھنے کی دعوت دی تو وہ بخوشی ہمارے ساتھ بیٹھ گئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔تعارف پر کھلا کہ وہ استاد گرامی قدر ہیں تو ان کی قدر اور بھی بڑھ گئی۔۔۔۔قابل صد تکریم خالد صاحب نے ان کے اکرام میں چائے اور چپس منگوالی۔۔۔۔۔۔یوں یہ”پنجابی بیٹھک” ذرا "کرسپی” بھی ہو گئی۔۔۔…ایک عرصے سے میرے ذہن میں ایک سوال کلبلا رہا تھا کہ کبھی کوئی "ذمہ دار اقلیتی شخصیت” ملے تو ان سے پاکستان میں اقلیتوں کے عدم تحفظ کے حوالے سے منفی پراپیگنڈا پر بات کروں اور ان سے دل کی بات پوچھوں۔۔۔۔۔میں نے پروفیسر کلیان سنگھ کلیان کی” دستیابی” کو "غنیمت”جانا اور موقع ملتے ہی "مطلوبہ سوال” داغ دیا۔۔۔۔۔میں نے انتہائی ادب سے پوچھا سر کیا آپ سمجھتے ہیں کہ پاکستان میں اقلیتیں غیر محفوظ ہیں۔۔۔۔۔انہوں نے نفی میں جواب دیا اور دو ٹوک انداز میں کہا کہ یہاں نا صرف اقلیتیں انتہائی محفوظ ہیں بلکہ انہیں بھرپور مذہبی آزادی بھی حاصل ہے۔۔۔۔۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سکھ کمیونٹی کا تو "پروٹوکول” ہی "وکھرا”یے۔۔۔۔۔میں نے پروفیسر صاحب کو اپنے کرتار پور کے "تین وزٹس”کے بارے میں بھی بتایا۔۔۔۔ان وزٹس میں ایک کوئی ڈیڑھ دہائی پہلے ہوا،جس کی چائے مجھے اس نشست میں یاد آگئی۔۔۔تب کرتار پور ایک جنگل بیابان کا منظر پیش کر رہا تھا اور "امن راہداری” کسی کے حاشیہ خیال میں بھی نہیں تھی۔۔۔۔۔۔۔ہوا یوں کہ میں مدینہ منورہ میں مقیم نامور اسلامی سکالر جناب ڈاکٹر احمد علی سراج کے ساتھ ایک "سیرت کانفرنس”میں شرکت کے لیے شکرگرھ جا رہا تھا۔۔۔۔۔دوپہر کے کھانے کے لیے نارووال رکے تو میں نے ڈاکٹر صاحب سے کہا کہ آپ بین المذاہب ہم آہنگی کے بھی داعی ہیں۔۔۔۔کیوں نہ آپ کو گوردوارہ ڈیرہ صاحب کرتارپور دکھائیں جہاں بابا گورونانک ابدی نیند سو رہے ہیں۔۔۔۔۔انہوں نے کہا کیوں نہیں ضرور چلتے ہیں۔۔۔۔میں نے نارووال شہر کے اکلوتے دانشور اخبار نویس بزرگوارم ملک سعید الحق کو فون کیا۔۔۔۔۔یہ وہ کھلے دل کے ملک سعید الحق ہیں جو "خشک زاہد” احسن اقبال کے پہلو میں بیٹھے بھی صوفیانہ مسکراہٹیں بکھیرتے رہتے ہیں۔۔۔یہ وہ ملک سعید الحق ہیں جنہیں اپنے عہد کے بڑے کالم نگار جناب رفیق ڈوگر نے”چن پیر کا وہابی مرید”قرار دیا تھا۔۔۔۔خیر ملک صاحب نے کرتار پور کے نگران سکھ دوست کو فون کر دیا۔۔۔۔۔۔۔۔ادھر پہنچے تو سکھ منتظمین ہمیں دیکھ کر باغ باغ ہو گئے۔۔۔۔۔۔ ہمارا پرتپاک استقبال اورخوب آئو بھگت کی ۔۔۔۔۔گپ شپ کے دوران چائے آگئی۔۔۔۔۔۔ہمارے ساتھ دو "ملاں”بھی تھے۔۔۔۔چاہت بھری چائے دیکھ کر ناجانے دونوں حضرات کو کیا ہوا کہ وہاں سے” کھسک” گئے؟ڈاکٹر صاحب نے سیرت کے بہتیرے حوالے دیے کہ بھائی چائے لے لیں کچھ نہیں ہوتا مگر وہ چٹان کی طرح "ڈٹ” گئے۔۔۔۔۔۔۔میں نے استفسار کیا شیخ خلوص بھری دعوت کو ٹھکرانا اسلام کی کون سی خدمت ہے؟ڈاکٹر احمد علی سراج نے سرد آہ بھری اور کہا کہ ایسے لوگ اسلام کے مہکتے گلستان میں پھولوں کے ساتھ” کانٹے” ہیں۔۔۔۔۔ویسے ایسے "خار دار لوگ” ہر کہیں پائے جاتے ہیں۔۔۔۔میں نے پروفیسر کلیان سنگھ کلیان کو بتایا کہ یہ وہی ڈاکٹر احمد علی سراج ہیں جنہوں نے لاہور کی صحافی کالونی کے لیے آئیڈیل جامع مسجد اور قرآن سنٹر کا تحفہ دیا اور وہ اس "دینی پراجیکٹ”کے منتظم اعلی ہیں۔۔۔۔۔۔صحافی کالونی کی مسجد کا ذکر سنتے ہی پروفیسر صاحب بولے کہ ہم بھی ادھر ہی رہائش پذیر ہیں۔۔۔۔کہنے لگے میں تو اس مسجد کی اپنی یونیورسٹی میں بھی اکثر مثال دیتا ہوں کہ یہ ایک رول ماڈل مسجد ہے۔۔۔۔۔۔۔ شاید ہی لاہور میں ایسی کوئی مسجد ہو کہ جہاں تمام مکاتب فکر ایک ساتھ نماز پڑھتے ہیں۔۔۔۔۔
بات ہورہی تھی اقلیتوں کے تحفظ اور مذہبی آزادی کی۔۔۔میرے خیال میں اس حوالے سے پروفیسر کلیان سنگھ کی گواہی معتبر یے۔۔۔۔۔باقی اکا دکا ناخوشگوار واقعات دنیا میں ہر کہیں ہوتے ہیں لیکن انتہا پسند کسی بھی ملک کا چہرہ نہیں ہوتے۔۔۔۔رہے "لبرل شبرل” تو ان کے مسائل اور ہیں۔۔۔۔ان کے ہاں "زبانی جمع خرچ” چلتا ہے۔۔۔۔۔یہ کسی کے درد کا درمان نہیں کرتے بلکہ وہ "درد” بیچتے ہیں۔۔۔۔۔اور پرچون کی طرح بیچتے ہیں۔۔۔۔پنجابی کے بڑے شاعر بابا نجمی نے کہا تھا کہ مجھے پتہ ہے مزدور کا پسینہ کیا ہوتا ہے اور میں ہی مزدور کا نوحہ بہتر انداز میں کہہ سکتا ہوں کہ میں نے کراچی کی سڑکوں پر پتھر کوٹے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایک چھوٹا سا دعویٰ یہ خاکسار بھی کر سکتا ہے۔۔۔۔یہ خود نمائی نہیں لبرل کے لیے ترغیب ہے کہ وہ بھی” تھیوری ایکسپرٹ” کے بجائے "پریکٹیکل” ہو جائیں۔۔۔۔چند سال پہلے ایک مسیحی خاندان دو برس کے لیے ہمارا ہمسایہ ٹھہرا۔۔۔۔۔۔۔۔ہم نے ان دو سال میں ان کو دو مرتبہ کرسمس پر کیک بھجوایا۔۔۔۔ان کے والد کے انتقال پر ان کے پاس جاکر ان سے اظہار افسوس کیا۔۔۔۔۔۔ان کی بیٹی کی منگنی پر اپنے رواج مطابق "سلامی” دی۔۔۔۔۔۔دو سال بعد جب وہ رخصت ہونے لگے تو ان کی بیٹیاں بچوں کی طرح رونے لگیں کہ ہمارا یہاں سے جانے کو دل نہیں کر رہا ۔۔۔دعا کریں کہ ہمیں آگے بھی کوئی ایسا پڑوسی مل جائے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مجھے یاد ہے کہ میں اکثر ان کے بیٹے کے ساتھ مذہبی ہم آہنگی پر بات کرتا۔۔۔۔میں اسے بتاتا کہ قرآن مجید بھی کیا ہی معتدل کتاب ہے کہ اس میں کسی خاتون کے نام سے صرف ایک ہی سورت ہے اور وہ حضرت عیسی علیہ السلام کی والدہ ماجدہ حضرت مریم سے منسوب ہے۔۔۔۔میں اسے بتاتا کہ قرآن مجید میں حضرت عیسی علیہ السلام کا اسم گرامی بھی بار بار آیا ہے۔۔۔۔۔میں نے انہی دنوں ایک غیر ملکی ٹی وی چینل کے پاکستان میں نمائندے سے سوال کیا کہ آپ لوگ کن خبروں پر فوکس کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔انہوں نے کہا کہ اقلیتوں پر۔۔۔۔۔میں نے کہا کہ آپ سمجھتے ہیں کہ واقعی پاکستان میں اقلیتیں اتنی غیر محفوظ ہیں۔۔۔۔۔کہنے لگے نہیں۔۔۔۔۔میں نے کہا اپنے چینل کو حقائق بتایا کریں کہ یہ ملک کی عزت کا مسئلہ ہے تو وہ بات گول کر گئے۔۔۔۔۔میں نے کہا کہ میری سٹڈی کے مطابق ایک ہی اقلیت مغرب کا مسئلہ ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو اقلیت ماننے کو ہی تیار نہیں۔۔۔وہ مقننہ کے متفقہ فیصلے کو مانتی ہے نہ ملک کے قانون کو۔۔۔۔۔یہی وہ آئین "شکن گروہ” ہےجو وطن عزیز کو ملک ملک بدنام کر رہا ہے۔۔۔میں نے کہا کہ مجھے لاہور رہتے تئیس سال بیت گئے ہیں ۔۔۔۔میں بریلوی ۔۔۔۔دیوبندی اور اہلحدیث مسلک کی مساجد میں اہتمام کے ساتھ نماز جمعہ پڑھ رہا ہوں۔۔۔۔۔۔میں نے آج تک محراب و منبر سے مغرب کی اس پسندیدہ اقلیت کیخلاف ایک اشتعال انگیز جملہ نہیں سنا۔۔۔۔۔کسی خطیب اور امام کو اس اقلیت کا نام لیتے بھی نہیں دیکھا۔۔۔۔۔نہیں تو تین چار جمعے خود مختلف مساجد کا سروے کر کے دیکھ لیں۔۔۔۔۔۔انہوں نے میری بات سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ میرا تجربہ بھی یہی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔عہد ساز اخبار نویس جناب عباس اطہر نے اس "ممنوع گروہ” کے بارے میں حرف بہ حرف سچ لکھا تھا کہ عجب لوگ ہیں اسی آئین اور قانون سے حقوق مانگتے ہیں جس آئین اور قانون کو مانتے ہی نہیں۔۔۔۔۔۔مطلب یہ کہ حقوق لینے سے پہلے اس کتاب کا ماننا ضروری ہیں جس میں فرائض بھی درج ہوتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔کاش امام اہلسنت کے "غامدی پوتے” ہی یہ "قانونی نکتہ”قادیانیہ کے گوش گزار کردیں۔۔۔۔۔۔دنیا کی انوکھی اقلیت ہے کہ کھیلن کو مانگے کھلواڑ اور وہ بھی شعائر اسلام کے ساتھ۔۔۔۔!!!

پچھلی پوسٹ

خیبر پختونخوا میں 6 ماہ کے دوران 640 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز: کالعدم ٹی ٹی پی کے 297 دہشت گرد ہلاک

اگلی پوسٹ

تحریک آزادی کشمیر کی مضبوط آواز، پاکستان کیساتھ الحاق کے پرجوش حامی۔۔۔مجاہد اول سردار محمد عبدالقیوم خان

Mian Tariq Javeed

Mian Tariq Javeed

Next Post
تحریک آزادی کشمیر کی مضبوط آواز، پاکستان کیساتھ الحاق کے پرجوش حامی۔۔۔مجاہد اول سردار محمد عبدالقیوم خان

تحریک آزادی کشمیر کی مضبوط آواز، پاکستان کیساتھ الحاق کے پرجوش حامی۔۔۔مجاہد اول سردار محمد عبدالقیوم خان

Please login to join discussion

زمرہ کے لحاظ سے براؤز کریں۔

  • پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • صحت
  • کھیل
No Result
View All Result
  • Hrajte své oblíbené kasinové hry kdykoli a kdekoli na svém chytrém telefonu nebo tabletu s Posido casino, které vám nabízí skvělou zábavu a příležitosti k výhře.

  • Εγγραφείτε εύκολα, πραγματοποιήστε γρήγορες καταθέσεις και απολαύστε ταχύτατες πληρωμές στο Vegashero, όπου η εμπειρία του online καζίνο σας περιμένει με συναρπαστική δράση.

  • صفحہ اول
  • انٹرنیشنل افیئرز
  • پاکستان
  • بزنس
  • کھیل
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • صحت
  • دلچسپ

© 2022 Develop by Newspaper