کراچی ( نمائندہ خصوصی ۔ ہیلتھ رپورٹرز)وفاق سے سندھ گورنمنٹ کو ملنے والے "جناح اسپتال ” میں مافیا کے ہاتھوں لوٹ مار ۔اقربا پروری اور کرپشن کا بازار گرم ہوگیا ۔ مریضوں کو مفت ادویات آڑ میں 5ارب روپے کا سالانہ بجٹ مبینہ طور پر ہضم کر لیا جاتا ہے گریڈ17کا ایک جونئیر افسر” پیپرا” اور سپیرا”رولز کی خلاف ورزی کر تے ٹینڈز کر کے خفیہ طریقے سے بھاری مالی فوائد حاصل کرکے عوام کی پیسہ ڈکارنے لگا ۔جبکہ 400سے زائد ڈاکٹر اور میڈیکل اسٹاف کی بھرتیوں میں تھرڈ پارٹی کے صرف 150کے قریب بھرتیاں اور نوکریاں کروڑوں روپے بیچنے اور 400سےزائد اسٹاف اور ڈاکٹر کا سالانہ بجٹ ہضم کرنے کی تیاریاں کر لی گئیں ہیں.کرپشن کے خلاف بولنے والوں کے بے اختیار کرکے سائڈ لائن کردیا
گیاجبکہ کرپٹ مافیا کے دباؤ اسپتال کے معاملات دخل اندازی۔اور لوٹ مار کے باعث سابق ایگزیکٹو ڈائریکٹر” ہارٹ ایٹک "کی وجہ سے زندگی کی بازی ہار گئے تھے تفصیلات کے مطابق وفاقی حکومت سے سندھ گورنمنٹ کو دئیے گئے این آئی سی سی ڈی کی طرح جناح اسپتال میں بھی کرپشن ۔اقربا پروری اختیارات کا ناجائز استعمال کرنے والے مافیا کے لوٹ مار کا بازار گرم کردیا ہے ۔اربوں روپے کے بجٹ میں کرکے گریڈ 17کا ڈاکٹر ارب پتی بن گیا ۔نیب اور اینٹی کرپشن کے محکمے سو گئے ہیں ۔زرائع کے مطابق جناح اسپتال کا سالانہ 5ارب سے زائد کا بجٹ صرف عوام مفت ادویات کی فراہمی کے لیے مختص کیا جاتا۔جبکہ عوام کے مقدر میں ادویات کے نام خالی پرچیاں زلت اورخواری ملتی ہے ۔زرائع کے مطابق کروڑوں کی کرپشن کرنے والوں نے آئندہ لوٹ کرنے کے لئے جناح اسپتال میں پنجے گاڑ دیئے ہیں ۔نئی بھرتیوں اور دیگر ٹینڈر میں گورنمنٹ آف پاکستان کے قوانین کی کھلی ورزیاں بے نقاب ہو گئی ہیں زرائع کے مطابق گزشتہ دنوں ڈاکٹر نرسز اور میڈیکل اسٹاف کی بھرتیوں کے لیے دئیے ٹینڈر میں پپپرااور سیپرا رولز کی خلاف ورزیاں کی گئی ہیں۔گریڈ 17 تعینات ڈاکٹر بھرتیوں کے ٹینڈر میں ملوث ہیں ۔زرائع مطابق جناح اسپتال میں مافیا نے4 سو سے زائد اسٹاف میں سے صرف 150
اسٹاف بھرتیوں کا تھرڈ پارٹی ٹینڈر کیا جبکہ 250سے اسٹاف بھرتیوں کی بجائے نوکریاں بیچی جائیں گی ۔کررڑوں روپے غبن ۔اور لوٹ مار جاری ہو گئی ہے۔زرائع کے مطابق سندھ گورنمنٹ کی ہدایات کی آڑ میں 400 سے زائد ڈاکٹر نرسز اور میڈیکل اسٹاف کی بھرتیوں میں کروڑوں کا غبن کے لئےمافیا نے پر تول لئے ہیں زرائع کے مطابق ماسٹر ملٹی ٹیک نامی کمپنی کو ماہانہ 30لاکھ روپے کمپنی پروفائل استعمال کرنے کے”مد” دئیے جا رہے ہیں جبکہ مذکورہ کمپنی سے کنٹریکٹ کی وجہ 60 لاکھ روپے ماہانہ سندھ گورنمنٹ کو نقصان ہو رہا ہے ۔زرائع کے مطابق سندھ گورنمنٹ نے25 کروڑ روپے سالانہ جناح اسپتال کو مزید افرادی قوت بڑھانے کے دے رہی ہے جس پر مافیا مبینہ طور پر ہڑپ کرنے کے لیے پر تول رہی ہے جبکہ سرکاری فنڈز کھانے کے لیے سوئپر کمپینوں جو 15 سے 20سال جناح اسپتال میں کا م رہی ہیں جن الباسط اور ماسٹر ملٹی ٹیک ہیں ان کمپنیوں کے ایک ہی منجیر کمپنیاں چلا رہا ہے جبکہ الباسط کا مالک نہیں ہونے پر کمپنی غیر قانونی ہیں جبکہ کمپنی کو منجیر مافیا کی ملی بھگت سے چلا رہا ہے زرائع کے مطابق الباسط اور ماسٹر ملٹی ٹیک کو مافیا کے آشیرباد کے سبب کوالیفائی کیا جاتا ہے جبکہ ٹینڈر میں کم پیسوں میں کام کرنے والی کمپنیوں کو ڈس کوالیفائی کر دیا جاتا ہے زرائع کے مطابق اے ڈی ایم میں گریڈ 4 ملازم عماد کو سرکاری ادویات کی چوری کے
کیس اثرورسوخ کے باعث نکالا گیا جبکہ ادویات کی چوری ملوث ملزمان کے وڈیو دستاویزی ثبوت اور ایف آئی آر جیسے ثبوت ہونے کے باوجود چوری کیس سے مکھن سے بال کی طرح نکالا گیا ۔زرائع کے مطابق جناح اسپتال گریڈ 17 آفیسر کے عزیر سندھ گورنمنٹ کے ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ میں بااثر اسپشل سیکرٹری ہیں ۔جس کی ایما پر گریڈ 17 افسر اپنا اثرورسوخ استعمال کرکے انتظامیہ کو بلیک میل بھی کرتاہے ۔دوسری جانب جناح اسپتال کے زرائع مطابق کرپٹ مافیا کے کرپشن میں رکاوٹ بننے پر سابق اکاؤنٹ آفیسر رانا مہر دین جو کہ ریٹائرمنٹ کے بعد اسپتال انتظامیہ نے بطور ایکسپرٹ کنٹریکٹ خدمات انجام رہے تھے کو فارغ کردیا گیا جبکہ ایڈمن ون حیدر علی سپرنٹینڈنٹ آف جے پی ایم سی ڈیپارٹمنٹ
آف لاء میں ایکسپرٹ خدمات انجام دے رہے تھے کرپشن میں رکاوٹ پر ہٹا دئیے گئے ہیں جبکہ کرونا میں کنٹریکٹ پر خدمات انجام دینے والے اسٹاف کو بھرتی کرنے پر مافیا نے انتظامیہ کے خلاف میڈیا ٹرائل کرایا گیا۔زرائع کے مطابق جناح اسپتال سول اور این آئی سی ڈی کرپشن اور لوٹ پر آنکھیں بند کرنے والے میڈیا اور ہیلتھ رپورٹرز ایسوسیشنز کے نام نہاد عہدیدار رشوت اور اسپتالوں میں اپنی کمپنیوں کے نام ٹھیکے لینے میں ملوث ہیں نام نہاد صحافیوں اور عہدیداروں کی کمپنیوں لسٹ بھی جلد شائع کی جائے گی۔ جبکہ جناح اسپتال میں مافیا کی کرپشن کی تحقیقات کے جلد دوسری قسط میں کرپٹ عناصر کی ویڈیو تصاویر اور دستاویزی ثبوت شائع کئے جائیں گےکرپشن حوالے سے جب ڈپٹی ایگزیکٹو ڈائریکٹر جناح اسپتال ڈاکٹر سلمان سے رابطے کیا تو انھوں کرپشن کی تعریف نہیں کی بلکہ بتایا کہ انکوائری جاری ہے جلد میڈیا کو بریف کیا جائے گا جناح اسپتال کی انتظامیہ کرپشن پر اپنا موقف پیش کرنا چاہے تو ہماری ویب سائٹ حاضر ہے ۔


