اسلام آباد۔(نمائندہ خصوصی):وفاقی اردو یونیورسٹی آف آرٹس، سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کی انتظامیہ نے کہا ہے کہ جامعہ میں جاری مثبت تعلیمی، تحقیقی اور بین الاقوامی سرگرمیوں سے بعض مفاد پرست اور انتشار پسند عناصر پریشان ہیں اور وہ معمولی معاملات کو بڑھا چڑھا کر پیش کرکے جامعہ اور وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ضابطہ خان شنواری کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں ۔انتظامیہ کے مطابق جامعہ اس وقت تعلیمی میدان، تحقیق اور بین الاقوامی روابط میں نمایاں کامیابیاں حاصل کر رہی ہے۔ ہفتہ کو جاری پریس ریلیز کے مطابق اساتذہ اور طلبہ نہ صرف قومی بلکہ عالمی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہے ہیں۔حال ہی میں جامعہ کے اساتذہ اور طلبہ نے امریکن کیمیکل سوسائٹی سے ہزاروں ڈالر کے تحقیقی منصوبے حاصل کیے، جو ادارے کےمضبوط تحقیقی معیار کا ثبوت ہیں۔اسی طرح روس کے شہر کازان میں منعقدہ روس-پاکستان بین الاقوامی کانفرنس میں جامعہ کے
اساتذہ اور طلبہ کی مؤثر شرکت نے پاکستان اور روس کے درمیان تعلیمی و تحقیقی تعاون کو مزید مضبوط بنایا۔انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وائس چانسلر کی قیادت میں جامعہ میں کفایت شعاری، شفافیت اور دیرپا انتظامی استحکام کے لیے عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ محدود وسائل کے باوجود مالی نظم و ضبط برقرار رکھا گیا، دو ماہ کی تنخواہیں جاری کی گئیں جبکہ ایندھن اور دیگر اخراجات میں نمایاں کمی سےلاکھوں روپے کی بچت ہوئی۔ انتظامیہ کے مطابق وائس چانسلر کے وژن کے تحت ایندھن کے اخراجات میں تقریباً 80 فیصد کمی ایک بڑی انتظامی کامیابی ہے۔بیان میں کہا گیا کہ جامعہ کو ایڈہاک نظام سے نکال کر مستقل اور میرٹ پر مبنی ڈھانچے کی جانب منتقل کیا جا رہا ہے تاہم بعض عناصر شفاف نظام اور مستقل وائس چانسلر سے ناخوش ہیں کیونکہ اب فیصلے ذاتی مفادات کے بجائے میرٹ اور ادارہ جاتی اصولوں کے مطابق کیے جا رہے ہیں۔انتظامیہ نے وائس چانسلر کے غیر ملکی دوروں کے لیے جامعہ کےوسائل کے استعمال کے تاثر کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ تمام دورے قواعد و ضوابط کے مطابق ہوتے ہیں اور کسی قسم کےوسائل کا غلط استعمال نہیں کیا جاتا۔جامعہ انتظامیہ نے خبردار کیا کہ سوشل اور الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے ادارے کے خلاف منفی پروپیگنڈا اور بے بنیادالزامات پھیلانا قواعد کی خلاف ورزی ہے اور ایسے عناصر کے خلاف یونیورسٹی قوانین کے تحت کارروائی کی جائے گی۔انتظامیہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ جامعہ کو ایک مضبوط، خودمختار، تحقیق پر مبنی اور بین الاقوامی معیار کی یونیورسٹی بنایا جائے گا اور منفی مہمات کو ترقی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننے دیا جائے گا۔
