مکہ مکرمہ (نمائندہ خصوصی):وفاقی وزیر برائے مذہبی امور سردار محمد یوسف نے مشائر مقدسہ (منیٰ، عرفات اور مزدلفہ) کے اہم ترین دنوں میں پاکستانی عازمینِ حج کی بہترین رہنمائی اور انہیں ہر ممکن سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے خدام الحجاج، ناظمین اور سیزنل ڈیوٹی سٹاف کی کڑی نگرانی کا فیصلہ کیا ہے۔ وفاقی وزیر نے ہدایت جاری کی ہے کہ عازمین کی خدمت کے معیار کو جانچنے کے لیے خصوصی طور پر لانچ کیے گئے ‘کے پی ایم ایس’ پروگرام کے ذریعے مشاعر ڈیز کے دوران تمام مانیٹرنگ کو انتہائی سخت اور فعال بنایا جائے، کیونکہ اللہ کے مہمانوں کی خدمت کرنا ایک بہت بڑی سعادت اور بھاری ذمہ داری ہے جس میں کوئی کوتاہی برداشت نہیں کی جا سکتی۔سیکرٹری
مذہبی امور ابرار احمد مرزا نے وفاقی وزیر کے فیصلوں کی روشنی میں واشگاف الفاظ میں متنبہ کیا ہے کہ عازمینِ حج کی خدمت میں کسی قسم کی سستی یا لاپرواہی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ مشائر ایام کے دوران جو خدام اور ناظمین اپنے تفویض کردہ فرائض میں غفلت کے مرتکب پائے گئے، ان پر ہمیشہ کے لیے حج مشن کا حصہ بننے پر پابندی عائد کر دی جائے گی اور انہیں آئندہ کبھی اس مقدس مشن کے لیے منتخب نہیں کیا جائے گا۔کے پی ایم ایس کے کوآرڈینیٹر احمد ندیم خان کے مطابق اس سسٹم کو لانے کا بنیادی مقصد تمام خدام الحجاج اور مکتب ناظمین کی اپنے مخصوص پوائنٹس پر 100 فیصد حاضری کو یقینی بنانا ہے۔انہوں نے کہا کہ مشائر کے دنوں میں رش اور نقل و حمل کے چیلنجز کے پیشِ نظر کوآرڈینیشن کو مزید تیز کر دیا گیا ہے تاکہ فیلڈ میں موجود ہر خادم عازمین کی مدد کے لیے ہمہ وقت الرٹ رہے۔نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ (این آئی ٹی بی) کے پروگرام مینیجر محمد اویس نے تکنیکی معاونت کے حوالے سے بتایا کہ حج آپریشن کی تاریخ میں پہلی مرتبہ اس ڈیجیٹل سسٹم کے ذریعے تمام خدام کی لائیو ٹریکنگ کی جا رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے مکہ مکرمہ کے کنٹرول روم سے تمام خدام اور ناظمین کی لوکیشن اور کارکردگی کی لائیو مانیٹرنگ کی جائے گی تاکہ کوئی بھی خادم اپنی تفویض کردہ ڈیوٹی اور پوائنٹ سے غائب نہ رہ سکے اور عازمین کو فوری ریلیف فراہم کیا جا سکے۔
