اسلام آباد ( نمائندہ خصوصی) :پاکستان ایک بار پھر ایک غیر مستحکم خطے میں امن اور استحکام کی علامت بن کر ابھرا ہے ، چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے وسیع تر تنازع کو روکنے میں کلیدی کردار ادا کیا اور گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران فیلڈ مارشل کا تہران کا دورہ ممکنہ سفارتی پیش رفت کی بنیاد بن گیا ہے۔یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اشارہ دیا کہ مشرقِ
وسطیٰ کی جنگ کے خاتمے کے لیے ایران کے ساتھ معاہدہ قریب ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امکان ہے کہ ایران ہفتہ کے روز تک کسی معاہدے کو قبول کر لے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امکان موجود ہے کہ آج، کل یا اگلے چند دنوں میں ہمارے پاس کوئی اہم اعلان ہو۔روبیو نے اچھی خبرکی امید بھی ظاہر کی جو واضح سفارتی پیش رفت کی نشاندہی ہے۔فیلڈ مارشل کے مختصر مگر انتہائی نتیجہ خیزسرکاری دورۂ ایران کے دوران مذاکرات کا مرکز جاری ثالثی کوششوں کو تیز کرنا تھا تاکہ کشیدگی میں کمی لائی جا سکے اور 8 اپریل 2026 کی جنگ بند ی کے بعد جاری علاقائی تناؤ کے تناظر میں ایک حتمی معاہدے تک پہنچا جا سکے۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ایرانی صدر مسعود پیزشکیان، ایرانی پارلیمنٹ کے
اسپیکرمحمد باقر غالباف ، وزیر خارجہ عباس عراقچی اور ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی سے ملاقاتیں کیں۔آئی ایس پی آر کے مطابق تفصیلی مذاکرات کے نتیجے میں حتمی مفاہمت کی جانب حوصلہ افزا پیش رفت ہوئی۔ ایرانی قیادت نے پاکستان کے مخلصانہ اور تعمیری کردار کو سراہتے ہوئے خطے کے مسائل کے پُرامن حل کے لیے اس کی کوششوں کو قابلِ قدر قرار دیا۔ بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مسلسل سفارتی رابطوں کے ذریعے پاکستان کی قیادت نے مذاکرات کے لیے اہم گنجائش پیدا کی جس سے یہ ثابت ہوا کہ اسلام آباد محض خاموش تماشائی نہیں بلکہ عالمی امن کے لیے ایک
مؤثر اور فیصلہ کن فریق ہے۔چند ہفتے قبل دنیا اس وقت شدید خدشات کا شکار ہو گئی تھی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے سے متعلق مطالبات نہ مانے توآج رات ایک پوری تہذیب تباہ ہو جائے گی جو کبھی واپس نہیں آ سکے گی۔اسی نازک مرحلے پر پاکستان کی قیادت نے ابتدائی جنگ بندی کرانے میں کامیاب کردار ادا کیا جسے بعد ازاں پاکستان کی درخواست پر توسیع دی گئی اور یوں مستقل اور جامع امن معاہدے کے لیے اہم وقت میسر آیا۔وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے کردار کو وسیع پیمانے پر فیصلہ کن قرار دیا جا رہا ہے۔ دونوں رہنماؤں نے دن رات سفارتی کوششیں جاری رکھیں اور
ایسے وقت میں امن کی راہ ہموار کی جب خطہ بڑے تصادم کے دہانے پر کھڑا تھا۔صدر ٹرمپ ماضی میں بھی فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کھل کر تعریف کر چکے ہیں۔ انہوں نے انہیں اپناپسندیدہ فیلڈ مارشل، بہترین سپہ سالار، انتہائی قابلِ احترام جنرل اورغیر معمولی انسان قرار دیا۔ ٹرمپ نے مختلف علاقائی بحرانوں میں کشیدگی کم کرنے اور ممکنہ ایٹمی تصادم کو روکنے میں بھی عاصم منیر کے کردار کو سراہا۔اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس ، یورپی رہنماؤں اور خلیجی قیادت نے بھی پاکستان کے اس کردار کو سراہا جس کے ذریعے رابطے کا ایک مؤثر سفارتی پل قائم کیا گیا اور خطے کو بڑے بحران سے بچانے میں مدد ملی۔پاکستان کی ثالثی اس کی اسٹریٹجک بصیرت اور بین الاقوامی ساکھ کی عکاس ہے۔ جب دیگر قوتیں جنگ کے خدشات ظاہر کر رہی تھیں، پاکستان نے کشیدگی کم کرنے اور امن کے فروغ کے لیے عملی اقدامات کیے۔جو عناصر کبھی اسلام آباد کی سفارتی اہمیت پر سوال اٹھاتے تھے انہیں اب تسلیم کرنا ہوگا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی غیر معمولی کوششوں کے باعث پاکستان آج عالمی امن کے لیے ایک سنجیدہ، مؤثر اور باوقار کردار ادا کر رہا ہے۔


