اسلام آباد( نمائندہ خصوصی):ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی)کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر نیاز احمد اختر نے کہا ہے کہ جرمنی پاکستان کے ساتھ اعلیٰ تعلیم کے روابط کو مضبوط بنانے میں ایک کلیدی شراکت دار ہے اور انجینئرنگ و ٹیکنالوجی کے شعبوں میں جرمنی کی عالمی قیادت سے استفادہ کرتے ہوئے پاکستان کے صنعتی اور تعلیمی ڈھانچے کو جدید خطوط پر استوار کیا جا سکتا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایچ ای سی سیکریٹریٹ میں پاکستان میں تعینات جرمن سفیر اینا لیپل سے ملاقات کے دوران کہی۔ ملاقات میں ایگزیکٹو ڈائریکٹر ایچ ای سی ڈاکٹر ضیاء الحق اور جرمن اکیڈمک ایکسچینج سروس (ڈی اے اے ڈی) کے نمائندگان بھی موجود تھے۔چیئرمین ایچ ای سی نے کہا کہ تکنیکی تعلیم اور ہنر پر مبنی تربیت کے میدان میں جرمنی کا ماڈل
دنیا بھر کے لیے مثال ہے۔ پاکستانی جامعات اور جرمن جامعات کے مابین روابط کو مزید مستحکم بنا کر طلبہ اور محققین کو جدید مہارتوں سے آراستہ کیا جا سکتا ہے، جو قومی معیشت کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کریں گی۔اس موقع پر جرمن سفیر نے ایچ ای سی کے وژن کے لیے جرمنی کی مسلسل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلیمی اور سائنسی تعاون بین الاقوامی شراکت داری کی مضبوط بنیاد ہے اور اسے مزید وسعت دینے کی ضرورت ہے۔ملاقات میں جامعہ سے جامعہ تعاون کے فروغ، مشترکہ تحقیقی منصوبوں میں اضافے اور فیکلٹی ایکسچینج پروگرامز کو وسعت دینے پر اتفاق کیا گیا۔ فریقین نے نصاب کی جدت اور تحقیق و اختراع کے فروغ کے لیے منظم فریم ورک تشکیل دینے کی ضرورت پر زور دیا۔چیئرمین ایچ ای سی نے پاکستانی سکالرز کی جرمن جامعات میں تعداد بڑھانے کی تجویز بھی پیش کی، جس میں قلیل المدتی تحقیقی دوروں اور طویل المدتی ڈگری پروگرامز کے مواقع میں اضافہ شامل ہے تاکہ پاکستانی ماہرین جرمنی کے جدید تعلیمی معیار اور عالمی معیار کی لیبارٹری سہولیات سے مستفید ہو سکیں۔اجلاس میں پاکستان میں موجود جرمن جامعات کے سابق طلبہ کے نیٹ ورک کو مزید فعال بنانے پر بھی غور کیا گیا تاکہ ان کی مہارتوں سے قومی سطح پر مؤثر انداز میں فائدہ اٹھایا جا سکے۔چیئرمین ایچ ای سی نے دی اے اے ڈی کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ جرمن ادارے کی جانب سے اسکالرشپس اور تعلیمی تبادلوں کی سہولت پاکستانی طلبہ اور محققین کو عالمی معیار کی تعلیم تک رسائی فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔
C
