ڈھاکہ( نمائندہ خصوصی):بنگلہ دیش کے متوقع وزیر اعظم طارق رحمٰن نے انتخابات میں بھاری اکثریت سے کامیابی کو جمہوریت کیلئے قربانیاں دینے والوں کے نام کرتے ہوئے 2024 کی بغاوت کے بعد پہلے انتخابات کے بعد اتحاد پر زور دیا۔ بنگلہ دیش
نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے سربراہ 60 سالہ طارق رحمان جو کہ ایک انتہائی طاقتور سیاسی خاندان کے فرزند ہیں جمعرات کو ہونے والے انتخابات میں کامیابی کے بعد 170 ملین آبادی والے جنوبی ایشیائی ملک کی قیادت کرنے والے ہیں۔انتخابات کے بعد اپنے پہلے خطاب میں انہوں نے کہا کہ یہ جیت بنگلہ دیش اورجمہوریت کی ہے،یہ جیت ان لوگوں کی ہے جنہوں نے جمہوریت
کیلئے قربانیاں دیں۔واضح رہے کہ وہ ایک عبوری حکومت کا عہدہ سنبھالیں گے جس نے اگست 2024 میں طلباء کی قیادت میں ہونے والی بغاوت کے بعد شیخ حسینہ کی حکمرانی کے خاتمے کے بعد بنگلہ دیش کو آگے بڑھایا ہے۔بی این پی کے سربراہ طارق
رحمان کی کامیابی ایک ایسے شخص کی قابل ذکر تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہے جو ڈھاکہ کے سیاسی بحران سے بہت دور برطانیہ میں 17 سال کی جلاوطنی کے بعد دسمبر میں بنگلہ دیش واپس آئے تھے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق جماعت اسلامی کی قیادت والے اتحاد کی 77 نشستوں کے مقابلے میں بی این پی اتحاد نے 212 نشستیں حاصل کیں۔
