اسلام آباد۔:( نمائندہ خصوصی)وفاقی وزیر برائے بورڈ آف انویسٹمنٹ قیصر احمد شیخ نے کہا ہے کہ کارپوریٹ سوشل رسپانسبلیٹی آج کے جدید کاروباری حکمت عملی کا لازمی حصہ بن چکی ہے اور سرمایہ کاری محض اقتصادی اعداد و شمار تک محدود نہیں بلکہ یہ زندگیوں کو بہتر بنانے، روزگار کے مواقع پیدا کرنے، غربت کم کرنے اور سماجی استحکام مضبوط کرنے کا ذریعہ بھی ہے۔انہوں نے جمعرات کو 18ویں سالانہ سی ایس آر سمٹ اور ایوارڈز 2026 میں شرکت کی اور خطاب کیا جسے این ایف ای ایچ (نیشنل فورم فار انوائرنمنٹ اینڈ ہیلتھ) نے منعقد کیا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ کارپوریٹ سوشل رسپانسبلیٹی آج کے جدید کاروباری حکمت عملی کا لازمی حصہ بن چکی ہے اور سرمایہ کاری محض اقتصادی اعداد و شمار تک محدود نہیں بلکہ یہ زندگیوں کو بہتر بنانے، روزگار کے مواقع پیدا کرنے، غربت کم کرنے اور سماجی استحکام مضبوط کرنے کا ذریعہ بھی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ آج کاروبار معاشرتی ترقی میں اقتصادی ترقی کے ہمراہ کلیدی شراکت دار ہیں۔وزیراعظم محمد شہباز شریف کی قیادت میں، حکومتِ پاکستان جامع ریگولیٹری اصلاحات اور سرمایہ کاری دوست پالیسیاں نافذ کر رہی ہے تاکہ قومی معیشت
کو مستحکم اور مضبوط بنایا جا سکے، کاروبار میں آسانی بڑھانے، ریگولیٹری شفافیت کو یقینی بنانے اور سرمایہ کاروں کی سہولت کے لئے اقدامات بروقت کئے جا رہے ہیں۔مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو متوجہ کرنے کے لئے خصوصی اقتصادی زونز میں انکم ٹیکس چھوٹ اور کسٹمز ڈیوٹی کی مراعات فراہم کی جا رہی ہیں۔ وفاقی وزیر نے خصوصاً بزنس فسیلیٹیشن سینٹر (بی ایف سی ) کو اجاگر کیا جو سرمایہ کاروں کے لئے ایک ونڈو سہولت فراہم کرتا ہے جس سے منظوری کے عمل کو آسان، وقت کو کم اور آپریشنل مسائل کا مؤثر حل ممکن بنایا جاتا ہے۔وفاقی وزیر نے چین کے پائیدار ترقی کے سفر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پچھلے چار دہائیوں میں چین نے طویل مدتی منصوبہ بندی، صنعتی پالیسی، تکنیکی ترقی اور تعلیم و ہنر کی مسلسل سرمایہ کاری کے ذریعے کروڑوں افراد کو غربت سے نکالا۔ انہوں نے کہا کہ چین کی اقتصادی تبدیلی اس بات کا ثبوت ہے کہ معیاری تعلیم، جدت اور انسانی سرمایہ کی ترقی پائیدار ترقی کے بنیادی ستون ہیں۔انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کو بھی انسانی سرمایہ کاری کو اولین ترجیح دینی چاہیے۔اپنے طویل عرصے سے فاسٹ نیشنل یونیورسٹی سے تعلق کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کے اعلیٰ تعلیمی ادارے نوجوانوں کو آئی ٹی اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز میں عالمی سطح کے قابل مہارت سے لیس کر رہے ہیں جو علم پر مبنی معیشت کے قیام کے لئے ضروری ہیں۔وفاقی وزیر نے کہا کہ انسانی وسائل میں سرمایہ کاری غربت میں کمی اور اقتصادی استحکام کی کلید ہے، بغیر تعلیم، تحقیق اور ہنر کی ترقی کو مضبوط کئے پائیدار ترقی حاصل نہیں کی جا سکتی۔ انہوں نے دہرایا کہ پبلک–پرائیویٹ شراکت داری شمولیتی اور طویل المدتی ترقی کے لئے لازمی ہے۔انہوں نے سرمایہ کاروں، صنعتکاروں اور کاروباری رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ اپنے سرمایہ کاری کے اہداف کو سماجی ذمہ داری کے ساتھ ہم آہنگ کریں اور تعلیم، صحت، ماحولیاتی تحفظ، ہنر کی ترقی اور کمیونٹی ویلفیئر میں سی ایس آر اقدامات کو وسعت دیں۔قیصر احمد شیخ نے یقین دہانی کرائی کہ بورڈ آف انویسٹمنٹ شفاف اور مؤثر ون ونڈو آپریشنز کے ذریعے سرمایہ کاروں کو زیادہ سے زیادہ سہولت اور رہنمائی فراہم کرنے کے لئے پوری طرح پرعزم ہے۔انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ حکومت اور نجی شعبے کے درمیان مضبوط تعاون کے ذریعے پاکستان پائیدار، شمولیتی اور سرمایہ کاری دوست اقتصادی ترقی حاصل کر سکتا ہے۔
