اسلام آباد( نمائندہ خصوصی):خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (ایس آئی ایف سی) کے اصلاحاتی اقدامات کے نتیجے میں قومی اقتصادی اور ٹیکنالوجی منصوبوں کو عملی پیش رفت حاصل ہو رہی ہے۔ پاکستان میں مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے ’’انڈس اے آئی ویک 2026‘‘ اسلام آباد میں منعقد ہوا جس میں قومی سطح کے سٹریٹجک فورم پر مختلف سرگرمیاں پیش کی گئیں۔ایس آئی ایف سی حکام کے مطابق ایونٹ کے دوران ’’اے آئی فار ہر‘‘، نیشنل اے آئی بوٹ کیمپ، گلوبل گیم جیم، ٹیک مقابلے اور گورنمنٹ و ڈیفنس ٹیک نمائش کا انعقاد کیا گیا، جن میں نوجوانوں، ماہرین اور اداروں نے
بھرپور شرکت کی۔اے آئی ڈیٹا اینالسٹ محمد احمد نے ایونٹ کو نہایت اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس عظیم پروگرام کے انعقاد اور پاکستان کی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کا موقع فراہم کرنے پر وہ ایس آئی ایف سی کے شکر گزار ہیں۔ چیف بزنس آفیسر ڈیوسِنک عطا الرحمٰن نے کہا کہ وہ ایس آئی ایف سی، پاشا، پی ایس ای بی اور وزارتِ آئی ٹی کے شکر گزار ہیں، یہ اقدام اے آئی سے متعلق آگاہی اور مہارتوں کے فروغ میں معاون ثابت ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ایس آئی ایف سی کی اسٹریٹجک معاونت قومی اے آئی ایکوسسٹم کے فروغ اور ٹیکنالوجی کے میدان میں پیش رفت کے لیے کلیدی کردار ادا کر رہی ہے۔انڈس ہفتۂ مصنوعی ذہانت (9 تا 14 فروری) کے موقع پر ایک منفرد ورکشاپ بھی منعقد ہوئی، جس کا اہتمام یو این ڈی پی، وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن اور وزارتِ منصوبہ بندی نے مشترکہ طور پر کیا۔ یہ ورکشاپ صرف ایک رسمی اجتماع نہیں بلکہ ملک میں ترقیاتی حکمت عملی کو شفاف، شمولیتی اور مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ بنانے کے لیے اداروں کے درمیان ہم آہنگی، پالیسی مکالمے اور عملی اے آئی تیاری کے جائزے کا ایک مؤثر پلیٹ فارم ثابت ہوئی۔ پاکستان اب مصنوعی
ذہانت کو ’’اُڑان پاکستان‘‘ کے پانچ ستونوں پر نافذ کر رہا ہے۔انسانی وسائل کی ترقی: وژن 2010 اور وژن 2025 کے تحت 10 ہزار اسکالرشپس فراہم کی گئیں، جس سے اے آئی، ڈیٹا سائنس اور دیگر جدید ٹیکنالوجیز میں ہنر مند افراد کی مضبوط بنیاد قائم ہوئی۔جدت کے لیے قومی ڈھانچہ: اے آئی، سائبر سیکیورٹی، جی آئی ایس، جینومکس، نینو ٹیکنالوجی اور اطلاقی ریاضی میں نیشنل سینٹرز قائم کیے گئے، جو تحقیق، سیکھنے اور عملی حل کے لیے پلیٹ فارم فراہم کرتے ہیں۔مستقبل کی سمت اور عملی منصوبہ بندی:تمام شعبوں میں مصنوعی ذہانت کا فروغ: ہر شعبے میں اے آئی کو شامل کیا جا رہا ہے تاکہ خدمات کی فراہمی مؤثر ہو، ترقیاتی پروگرام نتیجہ خیز ہوں اور وسائل کا بہترین استعمال ممکن ہو۔انسانی وسائل میں سرمایہ کاری: تعلیم، تحقیق اور مہارت کی تربیت پر توجہ دی جا رہی ہے تاکہ نوجوان چوتھے صنعتی انقلاب کے چیلنجز اور مواقع کے لیے تیار ہوں۔قومی جدت کا ماحول: اے آئی، کوانٹم کمپیوٹنگ، نینو ٹیکنالوجی اور جدید مینوفیکچرنگ کے مراکز قائم اور وسعت دی جا رہی ہے تاکہ تحقیق اور جدید حل کی راہیں کھلیں۔ڈیٹا پر مبنی حکمرانی: پالیسی ساز بہتر فیصلے کر سکیں، وسائل کا درست استعمال ممکن ہو اور حکمرانی شواہد پر مبنی ہو۔نیشنل نصاب سمٹ: نصاب کو ازسر نو ڈیزائن کیا جا رہا ہے تاکہ رٹنے کے بجائے تنقیدی سوچ، تحقیق اور مسئلہ حل کرنے کی صلاحیتیں فروغ پائیں اور جدت و اختراع کی ثقافت کو فروغ ملے۔
