اسلام آباد۔10فروری (اے پی پی):چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا ہے کہ نیشنل جوڈیشل اینالیٹکس ڈیش بورڈ عدالتی نظام میں شفافیت، کارکردگی کی نگرانی اور باخبر پالیسی سازی کے فروغ میں اہم کردار ادا کرے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے نیشنل جوڈیشل اینالیٹکس ڈیش بورڈ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کے دوران کیا۔
سپریم کورٹ کے شعبہ تعلقات عامہ کے جاری اعلامیہ کے مطابق پاکستان میں عدالتی اصلاحات کے سفر میں ایک اہم سنگِ میل کے طور پر نیشنل جوڈیشل اینالیٹکس ڈیش بورڈ کا باضابطہ اجرا کر دیا گیا جسے نیشنل جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی (این جے پی ایم سی) کے طویل عرصے سے زیرِ غور ادارہ جاتی وژن کی عملی تعبیر قرار دیا جا رہا ہے۔یہ ڈیش بورڈ لا اینڈ جسٹس کمیشن آف پاکستان نے نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ (این آئی ٹی بی) کے تکنیکی تعاون سے تیار کیا ہے، جس میں سپریم کورٹ آف پاکستان، فیڈرل شریعت کورٹ اور ملک بھر کی ہائی کورٹس کے آئی ٹی ڈائریکٹوریٹس نے قریبی اشتراک کیا ہے۔اس پلیٹ فارم کا مقصد عدالتی ڈیٹا کو ایک مربوط اور ریئل ٹائم اینالیٹکس نظام میں یکجا کرنا ہے تاکہ شواہد پر مبنی فیصلہ سازی، ادارہ جاتی شفافیت اور کارکردگی پر مبنی گورننس کو فروغ دیا جا سکے۔تقریب میں چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی، نیشنل جوڈیشل آٹومیشن کمیٹی کے چیئرمین جسٹس محمد علی مظہر، سپریم کورٹ اور فیڈرل آئینی عدالت کے معزز ججز، ملک بھر کی ہائی کورٹس کے چیف جسٹسز، رجسٹرارز، پاکستان بار کونسل کے نمائندگان، وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن کے سیکرٹری، این آئی ٹی بی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اور سینئر عدالتی و تکنیکی حکام نے شرکت کی۔جسٹس محمد علی مظہر نے اپنے ابتدائی کلمات میں منصوبے کی تیاری کے مراحل اور نمایاں خصوصیات پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ یہ ڈیش بورڈ عدالتی ڈیٹا کو ایک جامع اور مربوط نظام میں سمو کر فیصلہ سازی، اسٹریٹجک منصوبہ بندی اور ادارہ جاتی احتساب کو مؤثر بنائے گا۔وزارتِ آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن کے سیکرٹری نے اس موقع پر بین الادارہ جاتی تعاون کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ حکومت عدالتی نظام سمیت تمام سرکاری اداروں میں ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال کے لیے پُرعزم ہے۔بعد ازاں چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے نیشنل جوڈیشل اینالیٹکس ڈیش بورڈ کا باضابطہ افتتاح کیا، جس کے بعد شرکاء کو راہ راست عملی مظاہرہ کے ذریعے ڈیش بورڈ کی تجزیاتی صلاحیتوں، ریئل ٹائم مانیٹرنگ سسٹم اور بصری ڈیٹا آرکیٹیکچر سے آگاہ کیا گیا۔ چیف جسٹس نے اپنے خطاب میں ڈیش بورڈ کو عدالتی نظام کے لیے ایک مؤثر گورننس ٹول قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ نظام شفافیت، پیش بینی اور کارکردگی کی نگرانی کو بہتر بنانے میں مدد دے گا۔انہوں نے لا اینڈ جسٹس کمیشن آف پاکستان، این آئی ٹی بی اور عدالتی آئی ٹی ٹیموں کی کاوشوں کو سراہا جنہوں نے عدالتی اصلاحات کے دیرینہ تصور کو عملی شکل دی۔تقریب کے اختتام پر نیشنل جوڈیشل آٹومیشن کمیٹی اور منصوبے کی مرکزی ترقیاتی ٹیموں کے ارکان میں یادگاری شیلڈز تقسیم کی گئیں۔نیشنل جوڈیشل اینالیٹکس ڈیش بورڈ کے اجرا کو عدالتی نظام میں ڈیٹا پر مبنی گورننس کی جانب ایک بڑا قدم قرار دیا جا رہا ہے، جو عدلیہ کے نظام کی جدیدکاری، مؤثر پالیسی سازی اور عوام دوست انصاف کی فراہمی کے عزم کا عکاس ہے۔


