اسلام آباد( نمائندہ خصوصی):سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے بحری امور کے چیئرپرسن سینیٹر فیصل واوڈا نے ہدایت کی ہے کہ تمام زیر التواء اراضی الاٹمنٹس کا جائزہ لیا جائے اور غیر قانونی الاٹمنٹس منسوخ کی جائیں۔ سینیٹ سیکرٹریٹ کے مطابق قائمہ کمیٹی برائے بحری امور کا اجلاس پیر کو چیئرپرسن سینیٹر محمد فیصل واوڈا کی صدارت میں ہوا۔اجلاس میں بحری شعبے سے متعلق اہم آپریشنل، انفراسٹرکچر اور گورننس امور کا جائزہ لیا گیا جس میں بالخصوص بندرگاہوں کی کارکردگی، ڈریجنگ آپریشنز، اراضی مینجمنٹ اور برآمدات میں سہولت پر توجہ دی گئی۔ کمیٹی کے چیئرمین نے تجاوزات شدہ اراضی خالی کرانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ بتایا گیا کہ کراچی انٹرنیشنل کنٹینر ٹرمینل (کے آئی سی ٹی) پر 239 کنٹینرز تاخیر کا شکار ہیں جس کی بنیادی وجہ کسٹمز میں تاخیر اور بین الاقوامی کمپنیوں کی شمولیت ہے۔کے آئی سی ٹی کو ہدایت کی گئی کہ تمام بیک لاگ
کلیئر کیا جائے ۔کمیٹی نے مشاہدہ کیا کہ کئی بورڈز خود مختار ہیں اور ان کا جائزہ ضروری ہے۔ سینیٹر واوڈا نے غیر موثر بورڈ ممبران کی تنظیم نو یا خاتمے کی ضرورت پر زور دیا۔کمیٹی نے مختلف علاقوں میں اراضی کی ملکیت سے متعلق ڈیٹا مرتب کرنے کی بھی ہدایت کی جس میں فشریز بھی شامل ہیں۔وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انور نے کمیٹی کو یقین دہانی کرائی کہ وزارت مثبت سمت میں پیش رفت کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام نظامی مسائل کو ایک ساتھ ختم کرنا ممکن نہیں، اس لیے وزارت مرحلہ وار طریقہ کار اختیار کر رہی ہے۔انہوں نے سینیٹ کمیٹی کی مکمل حمایت کی ضرورت پر زور دیا اور مزید کہا کہ وزارت اس وقت درست سمت میں کام کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے حال ہی میں ایک نیشنل ڈریجنگ کمپنی قائم کی ہے جو کم لاگت ہوگی اور برآمد کنندگان کے لیے زیادہ پرکشش ثابت ہوگی۔چیئرمین کراچی پورٹ ٹرسٹ (کے پی ٹی) نے بتایا کہ کے پی ٹی نے حال ہی میں تاریخ کا دوسرا بلند ترین کارگو حجم سنبھالا ہے۔ کے پی ٹی نے کنٹینر ہینڈلنگ میں 9 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا اور گزشتہ سال کے دوران بلند ترین کارگو ہینڈلنگ بھی حاصل کی۔انہوں نے مزید بتایا کہ بندرگاہ کے ڈرافٹ کی گہرائی بڑھانے کے لیے کام جاری ہے تاکہ 100,000 ٹن تک کے جہازوں کو سنبھالا جا سکے۔ مزید برآں جے پی ٹی 8 ملین ٹن ذخیرہ گنجائش کے ساتھ سب سے بڑی بلک ایکسپورٹ سہولت تیار کر رہا ہے اور کلنکر کی برآمدات کا حجم موجودہ 4.5 ملین ٹن سے بڑھ کر 8.5 ملین ٹن ہونے کی توقع ہے۔ دنیا بھر میں فعال تقریباً 400 بندرگاہوں میں سے کے پی ٹی اس وقت 90 ویں نمبر پر ہے۔ انہوں نے کہا کہ بندرگاہ پر ڈریجنگ سرگرمیاں مسلسل جاری ہیں۔سینیٹر روبینہ قائم خانی نے نشاندہی کی کہ بندرگاہ پر اب بھی کنٹینر کلیئرنس میں ڈویل ٹائم کے مسائل موجود ہیں۔وزیر نے جواب دیا کہ ڈویل ٹائم کے مسائل حل کرنے کے لیے ایک مخصوص کمیٹی تشکیل دی گئی ہے اور پہلے ہی نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔سینیٹر ندیم بھٹو نے نیشنل ڈریجنگ کمپنی کے کردار پر سوال اٹھایا۔ بتایا گیا کہ اے ڈی پورٹ کمپنی کو 60 ملین امریکی ڈالر مالیت کا کام دیا گیا ہے جبکہ باقی کام نیشنل ڈریجنگ کمپنی کو سونپا گیا ہے۔ مستقبل میں تمام ڈریجنگ کا کام نیشنل ڈریجنگ کمپنی کو دیا جائے گا۔وفاقی وزیر نے مزید بتایا کہ بندرگاہی آپریشنز میں سہولت کے لیے علیحدہ لیاری روڈ پر کام جاری ہے۔ملیر ایکسپریس وے بھی زیر تعمیر ہے اور توقع ہے کہ 2026ء کے وسط تک مکمل ہو جائے گی۔ یہ سڑکیں 24/7 کنٹینر ٹرانسپورٹیشن میں سہولت فراہم کریں گی۔ چیئرمین کے پی ٹی نے بتایا کہ جولائی 2026 تک چار فریٹ ٹرینیں برآمدات میں سہولت کے لیے فعال ہوں گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ کے پی ٹی سے ML-1 کنیکٹیویٹی تیز اور موثر کنٹینر ٹرانزٹ میں مدد دے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ وزارت اراضی کی واپسی، تجاوزات کے خاتمے اور پراپرٹی ڈیلرز کی مداخلت ختم کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔انہوں نے چیئرمین کمیٹی کا تعاون پر شکریہ ادا کیا اور مزید کہا کہ وزارت اراضی سے متعلق مقدمات نمٹانے اور ماضی میں زمینوں پر قبضے میں سہولت فراہم کرنے والے افراد کے خلاف کارروائی کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ کمیٹی کے اجلاس کے دوران سینیٹر شہادت اعوان کے سوالات کے جواب میں بتایا گیا کہ گزشتہ 15 برسوں میں 42 جائیدادیں الاٹ کی گئی تھیں۔سینیٹر شہادت اعوان نے نشاندہی کی کہ کورنگی فشریز ہاربر اتھارٹی نے اپنا ماسٹر پلان، اراضی الاٹمنٹ پالیسی یا قواعد و ضوابط اپنی سرکاری ویب سائٹ پر اپ لوڈ نہیں کیے۔ اتھارٹی نے کمیٹی کو یقین دہانی کرائی کہ مطلوبہ معلومات جلد از جلد کورنگی فشریز ہاربر اتھارٹی کی سرکاری ویب سائٹ پر اپ لوڈ کر دی جائیں گی۔اجلاس میں دیگر کے علاوہ سینیٹرز پرویز رشید، دنیش کمار، ندیم احمد بھٹو اور روبینہ قائم خانی نے شرکت کی۔ سینیٹرز شہادت اعوان، سید وقار مہدی اور سید مسرور احسن نے بھی ایجنڈا آئٹم کے محرک کے طور پر کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کی۔
