اسلام آباد۔( نمائندہ خصوصی):وزیردفاع خواجہ محمدآصف نے کہاہے کہ پاکستان میں ہندوستان کی ایما پرنئی جنگ لڑی جارہی ہے،بھارت افغانستان کے پلومیں چھپ کرپاکستان پروارکررہاہے، مسائل حل کرسکتے ہیں اورکریں گے پارلیمان مسائل کوحل کرے گا، پارلیمان اورجمہوریت کوفعال بناناہوگا، تاریخ نے ماضی کی غلطیوں کے ازالے اوردرست سمت کاموقع دیا ہے۔پیرکوقومی اسمبلی میں سانحہ ترلائی پربحث میں حصہ لیتے ہوئے وزیردفاع نے کہاکہ افغانستان پاکستان کوتسلیم کرنے والاآخری ملک تھا، آزادی کے بعد افغانستان نے دودفعہ پاکستان پرحملہ بھی کیا، یہ بھی تاریخ کاحصہ ہے،پاکستان افغان سرزمین پرلڑی جانے والی دوجنگوں میں فریق بنا،افغانستان میں کوئی جہادنہیں تھا،سوویت یونین افغان حکومت کی درخواست پرافغانستان آیا تھا ،یہ تھیوری امریکا کی ہے کہ سوویت یونین نے افغانستان پرجارحیت کی تھی،پاکستان کے دوآمروں کو قبولیت کیلئے سپرپاورکی تائیدچاہئے تھی اس لئے ان دونوں جنگوں میں پاکستان شامل ہوا، جب تک ہم اپنی غلطیوں کااعتراف نہیں کریں گے ہم آگے نہیں بڑھ سکتے ۔انہوں نے کہاکہ انہوں نے آمرانہ حکومت میں اپنے والد کی شرکت پرمعذرت کی ہے،ہم 22،23سالوں تک افغانستان میں ملوث
رہے ہیں اوردہشت گردی اسی کاردعمل ہے ، ضرورت اس امرکی ہے کہ ماضی کی غلطیاں درست کی جائیں ،ماضی میں پاکستان کوکسی کواپنا عقیدہ یامسلمانیت ظاہرکرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ انہوں نے کہاکہ ہم اپنی تاریخ میں اپنے ہیروزکیوں نہیں ڈھونڈتے جن کاتعلق اسی زمین سے تھا، برصغیرمیں آزادی کی جنگ میں ہمارے ہیروزرہے ہیں،آدھی سے زیادہ آبادی اپنی جڑیں اس مٹی سے باہرڈھونڈرہی ہے ،اگرکوئی باہرسے بھی آیاہے تواسے مقامی شناخت بنانا چاہئے،ہمیں اپنی جڑیں عرب ایران یاافغانستان میں ڈھونڈنے کی ضرورت نہیں ہے،ہمیں اس مٹی سے رابطہ جوڑناچاہئے، ہمیں ایسی قومی شناخت بنانا چاہئے جس پرکسی کواختلاف نہ ہو،افغانستان،دہلی اورلندن میں بیٹھنے کی بجائے ہمیں اپنے اختلافات مقامی طورپرطے کرنے ہے۔وزیردفاع نے کہاکہ دہشت گردی کی مذمت میں ہم متحدنہیں ہیں،فوج اورسیکورٹی اداروں کے آفیسراورجوان مٹی کیلئے اپناخون دے رہے ہیں اورقرض بھی اتاررہے ہیں جوان پرواجب بھی نہیں،کیاباقی قوم کیلئے مٹی پرقربان ہونا واجب نہیں ہے، سیاسی مفادات کے تحفظ کیلئے ہم ان کے جنازوں میں بھی نہیں جاتے اوران کی قربانیوں کی ملکیت نہیں لیتے۔وزیردفاع نے کہاکہ قومی مسائل پرہم سب کوسچ بولنا چاہیے۔اختلافات ہوسکتے ہیں مگرپاکستان اورپاکستان کی سالمیت اورملک کیلئے جانیں قربان کرنے والوں کی قربانیوں کااعتراف بھی ہم پرفرض ہے،اس کوسیاست کی نذرنہیں کرناچاہئے، ہم حالت جنگ میں ہیں اوراس پرکسی کوشک نہیں ہوناچاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان نے جوچارروزہ جنگ ہاری ہے وہ اب سٹیٹ ٹوسٹیٹ وارکی جرات نہیں کرے گا، جنگ کے بعدمودی ساری دنیا اورپنے ملک میں رل گیا ،وہ گھرکااورنہ ہی گھاٹ کا رہا ہے لیکن بدقسمتی سے ملک میں ایسے عناصرموجودہیں جودوسرے اورتیسرے ذریعہ سے ہندوستان کے مفادات کوآگے بڑھانے کیلئے تیارہیں،ہمیں دہشت گردی پرقومی اتفاق رائے کیلئے تیارہوناچاہئے۔ہمارا دین محبت کاآفاقی پیغام دیتاہے،ہم نے مذہب کی بھی فرنچائز بنائی ہیں، یہ 30 40سال پہلے نہیں تھا،پاکستان اچھا ملک تھا اورلوگوں کے ملک سے محبت کیلئے سوالیہ نشان نہیں بنائے جاتے تھے۔یہ درست ہے کہ غلطیاں ہوئی ہیں، اللہ نے ہمیں بنگال سے تعلقات نئی شرائط پراستوارکرنے کاموقع دیا ہے،ماضی میں استحصال بھی ہواہے مگراتنے وسائل ہیں کہ ہم بیرونی سپانسرکے بغیر مسائل حل اوروسائل بانٹ سکتے ہیں، ہمیں کلیریٹی ہونی چاہئے کہ ملک کی حفاظت فوج کی ذمہ داری ہے مگرہمارے ذہنوں میں کوئی نہ کوئی شرط آجاتی ہے۔ وزیردفاع نے کہاکہ وہ پہلی دفعہ ڈی جی آئی ایس آئی کے ساتھ افغانستان گئے تھے،وہاں ساری حکومت موجودتھی،افغان حکام نے بتایا کہ وہ دہشت گردوں کودوربسانا چاہتے ہیں اور اس کیلئے 10ارب روپے بھی مانگے گئے، ہم یہ بھی دیدیتے لیکن وہ گارنٹی دینے کیلئے تیارنہیں تھے، اس کے بعد بات دوحہ اوراستبول سمیت بات چیت کے جتنے ادوارہوئے ہیں ان تمام میں انہوں نے ہماری باتیں 100فیصدتسلیم کی ہیں لیکن گارنٹی دینے کیلئے تیارنہیں،ملایعقوب سے تین دفعہ میری ملاقات ہوئی ہے،دہشت گردی میں افغان ریکروٹس براہ راست ملوث ہیں کیاافغان حکومت کواس کا پتہ نہیں ہے،یہ ہندوستان کی ایماء پرنئی جنگ لڑی جارہی ہے، وہ افغانستان کے پلومیں چھپ کرپاکستان پروارکررہاہے،ہم نے افغانستان کے خلاف کبھی جارحیت نہیں کی۔انہوں نے کہاکہ اختلافات ہوتے رہتے ہیں،یہ بات مسلمہ ہونی چاہئے اورایک نکتہ پراتحادہوناچاہیے کہ ہندوستان پراکسی وارلڑرہاہے اوردہشت گردوں کا ہمارے مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہے،یہاں فرقے اورقومیتیں موجود ہیں، ہم اپنے مسائل حل کرسکتے ہیں اورکریں گے ، یہ ہائوس ان مسائل کوحل کرے گا،ہمیں اس ہائوس اورجمہوریت کوفعال کرنا چاہیے، قومی مفادات کے اوپرسیاسی اختلافات اورنظریات کومقدم رکھنے سے ملک کی مشکلات شروع ہوجاتی ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ پارلیمان میں بیٹھے ہوئے افراد سب سے پہلے حلف کی وفاداری نبھائیں، باقی وفاداری اس کے بعدآتی ہے، اس ملک میں 78سال میں اختلافات آتے رہے ہیں،یہاں نیشنل عوامی پارٹی کے رہنمائوں نے جیلیں کاٹی ہیں، ولی خان 12لاشیں اٹھاکریہاں سے خاموشی سے چلے گئے تھے کیونکہ وہ پاکستان کی وحدت پریقین رکھتے تھے،48میں بابڑہ فائرنگ ہماری تاریخ کاحصہ ہے، ہمیں تاریخ نے ماضی کی غلطیوں کے ازالہ اوردرست سمت کاموقع دیا ہے،لافانی چیز ریاست ہے،ہمارا اس کے کے ساتھ لازوال رشتہ ہونا چاہیے۔انہوں نے کہاکہ وسائل پرصوبوں کاپہلے حق ہے اس کے بعد وفاق آتا ہے لیکن صوبوں کووسائل کوامانت سمجھ کراستعمال کرنا چاہیے،اقتدارذاتی منفعت کیلئے نہیں بلکہ ملک اورلوگوں کی فلاح وبہبود کیلئے استعمال میں لانا ہوگا، سیاست کوریاست کے تابع کرنا ہوگا۔انہوں نے کہاکہ ہمیں وطن کی محبت سے سرشار ہوکراس جنگ کوپورے عزم کے ساتھ لڑنا ہوگا، مگراس کیلئے ریاست سے وفاداری بلامشروط ہونی چاہیے، موجودہ حالات میں اتفاق واتحاد کی ضرورت ہے،ہمیں شہداء کے دکھ کواپنا دکھ سمجھ کران کی قربانیوں کااعتراف کرنا چاہیے۔
