• پاکستان
  • Discover more at Rejestracja w Alfcasino jest prosta i szybka, a wpłaty i wypłaty realizowane są natychmiastowo, co zapewnia płynne i bezstresowe doświadczenie w świecie gier onli.

  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
میاں طارق جاوید
  • پاکستان
  • Discover more at Rejestracja w Alfcasino jest prosta i szybka, a wpłaty i wypłaty realizowane są natychmiastowo, co zapewnia płynne i bezstresowe doświadczenie w świecie gier onli.

  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
No Result
View All Result
  • پاکستان
  • Discover more at Rejestracja w Alfcasino jest prosta i szybka, a wpłaty i wypłaty realizowane są natychmiastowo, co zapewnia płynne i bezstresowe doświadczenie w świecie gier onli.

  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
No Result
View All Result
میاں طارق جاوید
No Result
View All Result
Home پاکستان

2050 تک دنیا میں زرعی پیداوار میں تقریباً 50 فیصد تک کمی کا خدشہ ہے۔ اس وقت دنیا کی مجموعی آبادی تقریباً 8.2 ارب ہے، جو 2050 تک بڑھ کر 9.2 ارب ہو جائے گی۔ پروفیسرایمریطس ڈاکٹر محمد قیصر

پاکستان کے لئے موسمیاتی چیلنجز محض ایک سائنسی بحث نہیں بلکہ بقا کا مسئلہ ہیں۔وائس چانسلر پروفیسرڈاکٹر خالد محمودعراقی سیاسی حالات میں تبدیلی کے باعث مستقبل میں بہت سے افراد کے لئے خوراک کی دستیابی ایک سنگین مسئلہ بن سکتی ہے۔ شارجہ یونیورسٹی کے پروفیسرڈاکٹر علی الکبلوی جامعہ کراچی میں تین روزہ بین الاقوامی کانفرنس کی تقریب سے قومی وبین الاقوامی سائنسدانوں کا خطاب

Mian Tariq Javeed by Mian Tariq Javeed
جنوری 28, 2026
in پاکستان
0
2050 تک دنیا میں زرعی پیداوار میں تقریباً 50 فیصد تک کمی کا خدشہ ہے۔ اس وقت دنیا کی مجموعی آبادی تقریباً 8.2 ارب ہے، جو 2050 تک بڑھ کر 9.2 ارب ہو جائے گی۔ پروفیسرایمریطس ڈاکٹر محمد قیصر
0
SHARES
0
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

کراچی ( نمائندہ خصوصی)جامعہ کراچی کے سابق وائس چانسلر ومعروف ماہرنباتیات پروفیسرایمریطس ڈاکٹر محمد قیصر نے کہا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی اس وقت انسانی معاشرے کو درپیش سب سے بڑی آفات میں سے ایک بن چکی ہے۔ عالمی حدت، درجۂ حرارت میں مسلسل اضافہ، اور موسمیاتی شدت نے زرعی پودوں کی افزائش کے حالات کو نہایت مشکل بنا دیا ہے۔ ان حالات میں ضروری ہے کہ ہم موسمیاتی تبدیلی کا مقابلہ کرنے کے لیے نئے طریقے، نئے وسائل اور زیادہ مزاحم اقسام (ریزیلینٹ ورائٹیز) دریافت کریں۔انہوں نے مزید کہا کہ دوسری جانب دنیا کی آبادی نہایت تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ اس وقت دنیا کی مجموعی آبادی تقریباً8.2 ارب ہے، جو 2050 تک بڑھ کر 9.2 ارب ہو جائے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ ہم پودوں اور حیاتیاتی تنوع (بایو ڈائیورسٹی) کو انتہائی تیزی سے کھو رہے ہیں۔ کسی ایک نوع (اسپیشیز) کا خاتمہ صرف اسی نوع کا نقصان نہیں بلکہ اس کے اندر موجود جینیاتی تنوع کا ضیاع بھی ہے، جو موسمیاتی تبدیلی کے ساتھ ہم آہنگ ہونے اور نئی اقسام کی تیاری کے لیے نہایت اہم ہے۔ان خیالات کا اظہارانہوں نےجامعہ کراچی میں قائم ڈاکٹر محمد اجمل خان انسٹی ٹیوٹ آف سسٹین ایبل ہیلوفائٹ یوٹیلائزیشن کے زیراہتمام اور زیبسٹ یونیورسٹی کے اشتراک سے جامعہ کراچی میں منعقدہ تین روزہ بین الاقوامی کانفرنس بعنوان:” ایکو اسمارٹ زراعت: غذائی تحفظ اور مستقبل کے لیے دباؤ برداشت کرنے والے پودوں کا مؤثر استعمال”کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ڈاکٹر محمد قیصر نےبتایا کہ 2050 تک دنیا میں زرعی پیداوار میں تقریباً 50 فیصد تک کمی کا خدشہ ہے۔ یہ کمی گندم، مکئی، چاول اور آلو جیسی اہم فصلوں میں متوقع ہے، جو انسانی خوراک کی بنیادی ضروریات پوری کرتی ہیں۔انہوں نے تاریخی تناظر بیان کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں تقریباً 3 ہزار پودوں کو خوراک کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا، جبکہ موجودہ دور میں تقریباً 9,200 پودے انسانی خوراک کا حصہ ہیں۔ تاہم ان ہزاروں پودوں میں سے صرف 4 سے 5 اقسام، جیسے گندم، چاول اور مکئی، عالمی خوراک کا بڑا حصہ فراہم کر رہی ہیں۔ اس صورتحال سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہمارا جینیاتی ذخیرہ (جین پول) انتہائی محدود ہو چکا ہے۔ڈاکٹر محمد قیصر نے زور دیا کہ اس جینیاتی ذخیرے کو وسعت دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اگر جین پول کو وسیع نہ کیا گیا تو مستقبل میں 9.2 ارب آبادی کو خوراک فراہم کرنا ایک بڑا چیلنج بن جائے گا، خاص طور پر اس صورت میں جب زرعی پیداوار میں بھی کمی واقع ہو رہی ہو۔انہوں نے کہا کہ اس ضمن میں فصلوں سے متعلق جنگلی اقسام (وائلڈ ریلیٹوز آف کراپس) نہایت اہمیت رکھتی ہیں۔ بدقسمتی سے دنیا بھر کے جین بینکس میں ان جنگلی اقسام کا جراثیمی ذخیرہ (جرم پلازم) صرف 5 سے 6 فیصد تک محدود ہے، حالانکہ یہی جنگلی اقسام نئی اور زیادہ مزاحم فصلوں کی تیاری کی بنیاد ہیں۔ڈاکٹر محمد قیصر کے مطابق ان جنگلی اقسام میں خشک سالی، شدید موسمی حالات اور دیگر ماحولیاتی دباؤ کے خلاف قدرتی مزاحمت پائی جاتی ہے، جو مستقبل کی زرعی ضروریات اور موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔شارجہ یونیورسٹی کے پروفیسرڈاکٹر علی الکبلوی (Prof. Dr. Ali El-Keblawy )نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ بالخصوص عرب ممالک کو غذائی تحفظ کے حوالے سے شدید چیلنجز کا سامنا ہے۔ جیسا کہ تمام ماہرین نے نشاندہی کی ہے، غذائی تحفظ کا تصور تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔ سیاسی حالات میں تبدیلی کے باعث مستقبل میں بہت سے افراد کے لئے خوراک کی دستیابی ایک سنگین مسئلہ بن سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہماری زمین زوال کا شکار ہو چکی ہے اور موسمی حالات میں نمایاں تبدیلی آ چکی ہے، لہٰذا ان مسائل کے حل کے لیے ہمیں اپنے مقامی وسائل پر انحصار کرنا ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں قیمتی قدرتی وسائل عطا کئے ہیں، اور ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم ان کا دانشمندی سے استعمال کریں۔ڈاکٹر علی الکبلوی نے بتایا کہ آج ہم اس بات پر توجہ دے رہے ہیں کہ کس طرح بائیوٹیکنالوجی کے ذریعے ان وسائل کو موثر انداز میں بروئے کار لا کر زراعت کو محفوظ اور پائیدار بنایا جا سکتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت عرب خطے میں زراعت شدید بحران کا شکار ہے۔ ہمارے قدرتی مساکن اور زرعی ماحولیاتی نظام دائمی ماحولیاتی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں، جن میں زمین کی شوریدگی اور پانی کی قلت نمایاں ہیں۔ڈاکٹر علی الکبلوی کے مطابق غیر متوقع موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث بار بار خشک سالی، درجہ حرارت میں اضافہ اور زمین کی نمکیات میں اضافہ ہو رہا ہے، جو ہماری فصلوں پر شدید دباؤ ڈال رہا ہے اور زرعی پیداوار کے لیے سنگین چیلنجز پیدا کر رہا ہے۔انہوں نےمقامی وسائل پر مبنی ایکو-اسمارٹ زراعت کے تصور پربھی روشنی ڈالی۔جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسرڈاکٹر خالدمحمود عراقی نے کہا کہ خوراک کا تحفظ ایک عالمی مسئلہ بن چکا ہے۔ترقی یافتہ ممالک میں زرعی شعبے سے وابستہ افراد کی تعداد کم ہونے کے باوجود وہ اپنی ضروریات پوری کرنے کے لئے وافر مقدار میں زرعی پیداوار حاصل کر رہے ہیں، جس کی بنیادی وجہ جدید ٹیکنالوجی کا موثر استعمال اور زرعی پیداوار میں اضافہ ہے۔ڈاکٹر خالد نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان جیسے ممالک، جہاں وسائل محدود ہیں، وہاں مقامی اور دیسی ٹیکنالوجی کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ ہماری تحقیق کا زیادہ تر دارومدار امریکہ، میکسیکو اور دیگر ممالک میں ہونے والی پیش رفت پر ہوتا ہے، تاہم مقامی حالات کے مطابق دیسی ٹیکنالوجی ہی ہمارے لئے آگے بڑھنے کا موثر راستہ ثابت ہو سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس کانفرنس میں موسمیاتی تبدیلی اور موسمیاتی اقدامات جیسے اہم موضوعات پر بھی بھرپور انداز میں گفتگو کی گئی۔ انہوں نے اقوامِ متحدہ کے پائیدار ترقیاتی اہداف کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ان میں دوسرا ہدف "بھوک کا خاتمہ” ہے، جو براہِ راست خوراک کی تحفظ سے جڑا ہوا ہے، جبکہ سترہواں ہدف "موسمیاتی اقدام” ہے اوریہ دونوں اہداف اس کانفرنس کے موضوع سے نہایت متعلق اور بروقت ہیں۔ڈاکٹر خالد عراقی نے مزید کہا کہ پاکستان کے لیے موسمیاتی چیلنجز محض ایک سائنسی بحث نہیں بلکہ بقا کا مسئلہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ذمہ داری صرف محققین تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ ایک قوم کی حیثیت سے ہمیں اس سنگین مسئلے کا سامنا کرنا ہوگا۔ اگرچہ بعض موسمیاتی مسائل انسانی کنٹرول سے باہر ہیں، تاہم پاکستان میں موسمیاتی مسائل کی بڑی وجہ انسانی سرگرمیاں ہیں۔انہوں نے شہری علاقوں کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے شہروں میں مربوط شہری موسمیاتی منصوبہ بندی کا فقدان ہے، اور پالیسیاں و پروگرامز عقلی بنیادوں پر تشکیل نہیں دیئے جاتے۔ انہوں نے اس موقع پر محققین اور بالخصوص طلبہ سے اپیل کی کہ تحقیق کا مقصد صرف تحقیق تک محدود نہ ہو بلکہ اسے معاشرتی مسائل کے حل سے جوڑا جائے۔انہوں نے کہا کہ جب تحقیق کو عملی طور پر سماجی مسائل کے حل کے لیے استعمال کیا جائے گا تو ترقی ممکن ہو سکے گی، اور اسی صورت میں ایک مضبوط اور باوقار قوم ہونے کا دعویٰ کیا جا سکتا ہے۔ڈاکٹر خالد عراقی نے امید ظاہر کی کہ ماہرین کے مابین ہونے والی گفتگو اور تبادلہ خیال غذائی تحفظ کے مسائل کے حل کے لئے نئی سوچ کو جنم دے گا اور جدید ٹیکنالوجی کے موثر استعمال کو فروغ دے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ روایتی طریقۂ کار موجودہ چیلنجز سے نمٹنے کے لئے ناکافی ثابت ہو رہا ہے۔زیبسٹ یونیورسٹی کے ڈین پروفیسرڈاکٹر شاہد نے کہا کہ میرا پختہ یقین ہے کہ اس نوعیت کی کانفرنسز نوجوان طلبہ کے لیے ایک نہایت موثر پلیٹ فارم فراہم کرتی ہیں، جہاں انہیں نہ صرف سیکھنے کے مواقع میسر آتے ہیں بلکہ وہ زرعی اور دیگر حیاتیاتی علوم کے شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دینے والے سائنسدانوں سے متاثر بھی ہوتے ہیں۔ مزید برآں، یہ کانفرنس ہمارے اُن نوجوان محققین کے لیے بھی ایک اہم موقع ہے جو اس فورم پر اپنی تحقیقی کاوشیں پیش کر رہے ہیں۔رئیس کلیہ علوم جامعہ کراچی پروفیسرڈاکٹر بلقیس گل نے کہا کہ ڈاکٹرمحمداجمل خان انسٹی ٹیوٹ آف سسٹین ایبل ہیلوفائٹ یوٹیلائزیشن کا قیام ایک واضح وژن کے تحت عمل میں لایا گیا، جس کا مقصد سائنسی جدت کے ذریعے موجودہ عالمی چیلنجز—جیسے زمین کی بگڑتی ہوئی حالت، مٹی کی شورزدگی، پانی کی قلت اور غذائی عدم تحفظ—سے نمٹنا اور قدرتی وسائل کے پائیدار استعمال کو فروغ دینا ہے۔آج دنیا ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے۔ موسمیاتی تبدیلی، مٹی کی شورزدگی، پانی کی کمی، زمین کی زوال پذیری اور آبادی میں تیز رفتار اضافہ ہماری اس صلاحیت پر بے مثال دباؤ ڈال رہے ہیں کہ ہم دنیا کو محفوظ، پائیدار اور منصفانہ طریقے سے خوراک فراہم کر سکیں۔ صرف روایتی طریقۂ کار ان پیچیدہ مسائل کا حل پیش کرنے کے لیے کافی نہیں رہے۔اس وقت ہمیں فوری طور پر نئے خیالات، نئی شراکت داریوں اور فطرت کے خلاف نہیں بلکہ فطرت کے ساتھ مل کر کام کرنے کے نئے طریقوں کی ضرورت ہے۔ اسی تناظر میں، ایکوسمارٹ زراعت محض ایک جدید اصطلاح نہیں بلکہ ایک ناگزیر ضرورت ہے۔ یہ ہمیں ایسے زرعی نظام وضع کرنے کی دعوت دیتی ہے جو پیداواری بھی ہوں، وسائل کے مؤثر استعمال کے حامل بھی، موسمی دباؤ کے مقابلے میں مضبوط بھی، ماحولیاتی طور پر ذمہ دار بھی اور سماجی طور پر جامع بھی ہوں۔قبل ازیں ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد اجمل خان انسٹی ٹیوٹ آف سسٹین ایبل ہیلوفائٹ یوٹیلائزیشن جامعہ کراچی پروفیسرڈاکٹر عرفان عزیزنے خطبہ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس کانفرنس کا بنیادی مقصد سائنس دانوں، محققین، اساتذہ اور پیشہ ور افراد کو ایک کثیر الشعبہ پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے تاکہ وہ پائیدار اور ایکو اسمارٹ زراعت کے میدان میں اپنے خیالات، تحقیقی نتائج اور جدید ٹیکنالوجی کا تبادلہ کر سکیں۔ ڈاکٹر عرفان عزیز نے بتایا کہ کانفرنس میں چین، جرمنی، آسٹریلیا، ملائیشیا اور شارجہ سمیت چھ مختلف ممالک سے غیر ملکی اساتذہ شرکت کر رہے ہیں، جن میں سے بعض ذاتی طور پر جبکہ بعض آن لائن لیکچرز کے ذریعے اپنے خیالات پیش کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ اسلام آباد، لاہور، ملتان، بہاولپور، گلگت بلتستان، آزاد جموں و کشمیر اور خیبر پختونخوا سمیت ملک بھر سے نامور سائنس دان اور اساتذہ بھی اس کانفرنس میں شریک ہیں۔

پچھلی پوسٹ

کیا اب سرقہ کرنے والا بڑا شاعر کہلاۓ گا ( افتخار عارف پر میرا مقدمہ ادب کی عدالت میں )

اگلی پوسٹ

خیبر پختونخوا کے عوام کی خوشحالی ان کا بنیادی حق ہے، بدقسمتی سے کوئی بھی سنجیدگی سے صوبے کی ترقی کیلئے نہیں سوچ رہا، عطاء اللہ تارڑ

Mian Tariq Javeed

Mian Tariq Javeed

Next Post
خیبر پختونخوا کے عوام کی خوشحالی ان کا بنیادی حق ہے، بدقسمتی سے کوئی بھی سنجیدگی سے صوبے کی ترقی کیلئے نہیں سوچ رہا، عطاء اللہ تارڑ

خیبر پختونخوا کے عوام کی خوشحالی ان کا بنیادی حق ہے، بدقسمتی سے کوئی بھی سنجیدگی سے صوبے کی ترقی کیلئے نہیں سوچ رہا، عطاء اللہ تارڑ

زمرہ کے لحاظ سے براؤز کریں۔

  • پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • صحت
  • کھیل
No Result
View All Result
  • Hrajte své oblíbené kasinové hry kdykoli a kdekoli na svém chytrém telefonu nebo tabletu s Posido casino, které vám nabízí skvělou zábavu a příležitosti k výhře.

  • Εγγραφείτε εύκολα, πραγματοποιήστε γρήγορες καταθέσεις και απολαύστε ταχύτατες πληρωμές στο Vegashero, όπου η εμπειρία του online καζίνο σας περιμένει με συναρπαστική δράση.

  • صفحہ اول
  • انٹرنیشنل افیئرز
  • پاکستان
  • بزنس
  • کھیل
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • صحت
  • دلچسپ

© 2022 Develop by Newspaper