کراچی (رپورٹ۔اسلم شاہ)ورلڈ بینک کے قرضے سے کراچی میں مہنگی ترین عمارت تعمیر ہونے کا انکشاف ہوا ہے،تمام منصوبے میں افسران لوٹ مار کررہے ہیں،عمارت کی تعمیر میں چیف انجینئر، سپریٹنڈنٹ انجینئر، ایگزیکٹیو انجینئر کے بجائے نان ٹیکنکل پی آئی یو عثمان معظم کے ذریعے تعمیر کی جارہی ہے، واٹر کارپوریشن کارساز پر 60 ہزار اور تین دیگر سینٹر پر 20 ہزار روپے اسکوائر فٹ کے حساب سے کنسڑیکشن ورک پر خرچ ہوئے ہیں، جو عالمی ریکارڈ قرار دی جارہی ہے جبکہ کراچی میں عمارتوں کی تعمیراتی اخراجات 3000 سے لیکر 4000 روپے فی اسکوائر فٹ ہے۔KWSSIP نے کراچی میں چار کنزیومر سروسز سینٹر کی تعمیر ڈھائی ارب سے تجاوز کر گئی ہے تاہم ایک ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ اخرجات پانچ ارب روپے سے تجاوز کر چکا ہے۔ تعمیرات میں زمین مفت واٹر کارپوریشن نے فراہم کی ہے، یہ بات واٹر کارپوریشن کی ایک بریفنگ میں KWSSIP کے افسر نے کیا تھا۔واٹر کارپوریشن کی دو ہزار اسکوائر فٹ کی تعمیرات پر 60 ہزار اسکوئر فٹ کے حساب سے تعمیر پر تمام حلقے حیرت زدہ ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ واٹر کارپوریشن کے احاطے میں زمین پر ایک ارب 20 کروڑ روپے، سخی حسن پر 41 کروڑ روپے، ہارون آباد پر 40
کروڑ روپے کی عمارت تعمیر ہوئی ہے،ہارون آباد پر ایک دوسرا سینٹر بھی 40 کروڑ روپے میں تعمیر کیا جارہا ہے۔ ایل ایس آر گلشن اقبال کی تعمیر نہ ہو سکی۔صارفین سینٹر کے ٹینڈر میں المصور کنسٹریکشن کارپوریشن نے 43 کروڑ، وہاج علی خان اینڈ کمپنی نے 44 کروڑ روپے اور یاور بلڈرز نے 41 کروڑ 94 لاکھ روپے کی پیشکش کی تھی جبکہ KWSSIP کے ایک افسر کے مطابق منصوبے پر پانچ ارب روپے خرچ ہو چکے ہیں جو ایک سوالیہ نشان ہے اور تحقیقاتی اداروں کے سامنے ورلڈ بینک کے فنڈز میں لوٹ مار جاری ہے۔ تمام منصوبے کے پروجیکٹ ڈائریکٹر عثمان معظم تھے۔ انہیں حال ہی میں تبدیل کرکے گریڈ 20 کی خاتون افسر عائشہ حمید کو تعینات کیا گیا ہے، جو مبینہ طور پر عثمان معظم کی رشتہ دار بتائی جاتی ہیں۔ان تمام منصوبے کے کنسلٹنٹ نسپاک اور کنٹریکٹر ہارون بلڈر ہیں،تمام منصوبے کی زمین واٹر کارپوریشن نے مفت فراہم کی ہے۔ دو دو ہزار اسکوائر فٹ زمین پر بننے والی عمارت کی تعمیر دو لاکھ روپے فی اسکوائر فٹ کنسٹریکشن ورک کے اخرجات بتائے جاتے ہیں۔ ورلڈ بینک کے قرضے سے جس قدر لوٹ مار کھلے عام کی جارہی ہے یہ لمحہ فکریہ ہے۔ قرضے پر عیاشی کارپوریشن کے افسران کررہے ہیں جبکہ یہ قرضے ساڑھے کروڑ کراچی کے شہری 40 سال تک ادا کریں گے۔ ان تمام سینٹر کی تعمیر کراچی واٹر اینڈ سیوریج سروسز امپرومنٹ پروجیکٹ(KWSSIP) کی پروجیکٹ ڈائریکٹر عائشہ حمید کی نگرانی میں پروجیکٹ امپلیمنٹیشن یونٹ (PIU) کررہی ہیں۔ اس کا نسپاک کنسلٹنٹ فرم سے KWSSIP کے درمیان تمام کنسلٹینسی کا معاہدہ 2021ء میں ہوا تھا،جن کے دفتر کا ایڈریس G-40/1 اسٹریٹ 40 بلاک 6 پی۔ای۔سی ایچ سوسائٹی پر واقع ہے۔ KWSSIP نے ورلڈ بینک کے 342 ارب روپے کے قرضے سے کراچی کے پانی و سیوریج کی سہولیات کو بہتر بنانا ہے،ساتھ ادارے کی مالیاتی اور آپریشن کو بھی بہتر بنانا شامل ہیں۔واٹر کارپوریشن میں ریفارمز کرنا،پانی و سیوریج کی فراہمی کو بہتر بنانا، سرمایہ کاری اور انفرا اسٹریکچر کو ,,بہتر بنانا،ترقیاتی منصوبے کے نظام میں بہتر بنانا شفافیت لانا،ورلڈ بینک کے مالی قرضے سے پانی کی کوالٹی کو دو مراحلے میں بہتر بنانا،ورلڈ بینک کے قرضے سے ادارے میں خواتین و ملازمین میں تفرق و مختلف حراسانی کے واقعات کو ختم کرنے کی تربیت،ورلڈ بینک کے قرضے سے سوشل اور ماحولیاتی ایشوز کی تربیت شامل ہیں۔مبینہ طور پر واٹر کارپوریشن کے مرکزی دفتر کارساز میں تعمیر ہونے والا سینٹر میں عارضی طور پر تعینات ہونے والے چیف ایگزیکٹیو آفیسر، چیف آپریشن آفیسر، چیف فنانس آفیسر، چیف کمرشل آفیسر، چیف ہیومین رسورسز مینجمنٹ آفیسر، چیف انفارمیشن ٹیکنالوجی آفیسر، چیف انٹر اڈیٹر آفیسر و دیگر افسران کے دفاتر کے ساتھ KWSSIP کے افسران بھی ایک چھت کے نیچے بیٹھے گے اور صارفین کو سہولیات فراہم کی جائے گی۔ذرائع کا
کہنا ہے کہ کراچی واٹر سیوریج سسٹم امپرومنٹ پروجیکٹ(KWSSIP) نے ورلڈ بینک کے 342 ارب روپے سے نہ کراچی کی کچی آبادیوں، گوٹھ آباد کے علاوہ ٹیکس نہ دینے والے علاقوں کا سروے مکمل نہ ہوسکا، اور نہ پانی، سیوریج کی بہتری ہوسکی، نہ کچی آبادیوں کو بہتر بنایا جاسکا اور نہ کچی آبادیوں کو اپ گریڈ کیا جاسکا۔کراچی واٹر اینڈ سیوریج سروسز امپرومنٹ پروجیکٹ میں پروجیکٹ ڈائریکٹر کی تبدیلی سے عالمی مالیاتی اداروں کی سرمایہ کاری خطرے میں پڑ گئی ہے،توجہ طلب امر یہ ہے کہ ورلڈ بینک کی سرمایہ کاری 140 ملین ڈالر یعنی 40 ارب 20 کروڑ روپے خرچ ہو چکے ہیں۔ پروجیکٹ میں شامل پانی کا اہم منصوبہ K-4 پروجیکٹ کی تکمیل کے بعد شہر میں فراہمی آب کا نظام،سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس کا منصوبہ، صنعتی زون میں ٹریٹمنٹ کا نظام واضح کرنا شامل ہیں۔ کراچی کے ساڑھے تین کروڑ شہریوں کو ورلڈ بینک کے 342 ارب روپے کا قرض دار بنا دیا گیا ہے۔ یہ قرضہ سندھ سرکار اور KWSSIP کے بدعنوان سسٹم کا نظام چلانے والے افسران نے کراچی کے شہریوں پر 40 سال تک ٹیکس نافذ کریں گے۔ قرضے کے 50 فیصد یعنی دو سو ارب روپے تاحال خرچ ہوچکے ہیں لیکن نظم میں کوئی بہتری نظر نہیں آرہی۔ قرضے سے نہ کراچی کے پانی کا مسئلہ ہوا، نہ کراچی کے تباہ حال سیوریج لائنوں کو درست کیا گیا نہ بارشوں کے دوران سیلابی ریلے سے جان چھوٹی، نہ واٹر کارپوریشن کی حالت بہتر ہوئی نہ اس کا انفرا اسٹرکچر بہتر ہوا ہے اور نہ کسی قسم کی ریفارمز ادارے میں کی گئی ہے۔ KWSSIP کے بدعنوان افسران نے قرضے کی رقم ٹھیکیداروں کے فنڈز سے کئی غیر ملکی دورے، شاپنگ، منگے داموں کی خریداری، شاہانہ اخراجات، ذاتی گاڑیاں، گھروں، دفاتر پر خرچے عروج پر ہیں کیونکہ مال مفت دل بے رحم والی مثال ہے۔ جرمنی، چین،برطانیہ اور امریکہ کے دورے سول انجینئرز ہیوی مشینری کی خریداری کے نام پر متعدد دورے کر چکے ہیں۔ ان کی جانچ پڑتال اور چھان بین پر آواز بننے والے میڈیا سمیت دیگر شعبے جات کا KWSSIP کے دفتر میں داخلے پر مکمل طور پر پابندی لگادی گئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پروجیکٹ ڈائریکٹر عثمان معظم کے ملازمین اور بیٹے نے گاڑیوں کو برباد کرنے کے بعد ان کی مرمت کے نام پر متعدد بار ورلڈ بینک کے فنڈز اس طرح خرچ کیئے ہیں جیسے وہ ان کے باپ کی ملکیت ہو۔

