مکہ مکرمہ (نمائندہ خصوصی):پاکستان حج مشن کی جانب سے حج 2026 کے مناسک کے باقاعدہ آغاز کے لیے مکہ مکرمہ کی رہائشی عمارتوں سے منیٰ کی طرف عازمینِ حج کو لانے کے لئے آپریشن کا آغاز کل(اتوار)مغرب کی نماز کے بعد شروع ہوگا۔ 9 گھنٹوں پر محیط اس منتقلی آپریشن میں 1750 بسوں کے ذریعے ہر عازمین حج کو منی تک پہنچایا جائے گا ۔ پیر کی صبح فجر کی اذان تک ایک لاکھ 18 ہزار سے زائد پاکستانی حجاجِ کرام کو بحفاظت منیٰ کے خیموں میں پہنچا دیا جائے گا۔ڈپٹی کوآرڈینیٹر آپریشنز مکہ صداقت علی اعوان نے اس میگا آپریشنل ہدف کی تفصیلات بتاتے ہوئے واضح کیا کہ اس بار مکہ کی سڑکوں پر عازمین کی فول پروف اور آرام دہ منتقلی کے لیے 1,750 سے زائد جدید ترین بسوں کا بیڑا تیار کیا گیا ہے۔ ٹریفک جام سے بچنے اور عازمین کو تھکن سے محفوظ رکھنے کے لیے اس 9 گھنٹے کے آپریشن کو تین تیز رفتار شفٹوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پہلے مرحلے کا آغاز اتوار کی شام مغرب کے فوراً بعد ہوگا جس میں سب سے بڑا
ہدف یعنی 70 ہزار عازمین کو پہلی ہی شفٹ میں منیٰ روانہ کیا جائے گا۔اس کے بعد دوسری شفٹ رات 11 بجے اور تیسری و آخری شفٹ رات 4 بجے مکہ سے نکلے گی، جس کے نتیجے میں فجر کی پہلی اذان کے ساتھ ہی تمام ایک لاکھ 18 ہزار حجاجِ کرام منیٰ میں موجود ہوں گے۔ اس کے برعکس، فقہ جعفریہ سے تعلق رکھنے والے عازمینِ حج کو ان کے مخصوص مناسک کے مطابق 8 ذوالحجہ کی رات کو براہِ راست میدانِ عرفات منتقل کیا جائے گا۔صداقت علی اعوان نے مزید بتایا کہ امسال حج کے دوران 50 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے والی شدید اور غیر معمولی گرمی سے حجاج کو محفوظ رکھنے کے لیے پاکستان حج مشن نے پہلی بار آرٹیفیشل انٹیلیجنس (اے آئی )، اینیمیٹڈ ویڈیوز اور ایک منفرد ’’ناظم سسٹم‘‘ نافذ کیا ہے۔ اس سسٹم کے تحت ہر 188 حجاج کے گروپ پر ایک نگران ’ناظم‘ مقرر کیا گیا ہے جو منیٰ منتقلی سے لے کر مناسک کی ادائیگی اور واپسی تک عازمین کے ساتھ رہے گا۔انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ منیٰ کے خیموں میں عازمین کے لیے پاکستانی ذائقے کے مطابق تینوں وقت کے تازہ کھانے کی فراہمی کا انتظام مکمل ہے۔اگلے بڑے مراحل کا خاکہ پیش کرتے ہوئے ڈپٹی کوآرڈینیٹر آپریشنز نے بتایا کہ 8 ذوالحجہ کو مغرب کے وقت حجاج کرام بسوں اور ٹرین نیٹ ورک کے ذریعے میدانِ عرفات پہنچیں گے، جہاں 9 ذوالحجہ کو حج کے رکنِ اعظم (وقوفِ عرفات) کے دوران شدید دھوپ سے بچنے کے لیے عازمین کو خیموں کے اندر رہنے کی سخت ہدایت کی گئی ہے۔عرفات سے مغرب کے وقت عازمین مزدلفہ روانہ ہوں گے اور 10 ذوالحجہ کی صبح جمرات پر رمی (شیطان کو کنکریاں مارنے) کے لیے ’’ناظم سسٹم‘‘ کا فیلڈ ٹیسٹ ہوگا۔ انہوں نے حجاج کے لیے ایک بہترین متبادل آپشن کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ رمی کے بعد طوافِ زیارت کے لیے حرم شریف تک خصوصی شٹل سروس تو دستیاب رہے گی، لیکن حجاج چاہیں تو منیٰ کے خیموں کی بھیڑ سے بچنے کے لیے جمرات کے قریب مکہ میں موجود اپنی اصل رہائشی بلڈنگز میں بھی آ کر آرام کر سکتے ہیں، جو اے سی کی سہولت اور پاکستانی معاونین کے ساتھ 24 گھنٹے کھلی رہیں گی۔

