کراچی (خصوصی رپورٹ)فوجی اڈے مشرق وسطیٰ میں بنانے میں امریکہ نے ستائیس سال صرف کیے، جہاں 55,000 سے زیادہ فوجی تعینات تھے۔ تقریباً 150 بلین ڈالر کے لگ بھگ اخراجات آئے، جن میں آدھے سے زیادہ اخراجات عرب ممالک نے دیے۔ایران نے محض دس دن میں ائر ڈیفینس سسٹم سمیت سب کچھ ملیا میٹ کر کے واپس امریکہ بھیج دیا۔بصورت دیگر یہ سامان کبھی واپس نہ جاتا۔ ایران نے امریکہ کو اس کی اصل اوقات یاد دلا دی اور عرب ممالک پر احسان کیامشرق وسطیٰ کی موجودہ جنگ نے عالمی سیاست کو ایک نہایت نازک موڑ پر لا کھڑا کیا ہے جہاں ہر گزرتا دن طاقت کے توازن کو ہلاتا محسوس ہوتا ہے۔ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی محض دو ریاستوں کے ٹکراؤ تک محدود نہیں رہی بلکہ اس کے اثرات پوری دنیا کی سیاست، معیشت اور سلامتی کے ڈھانچے پر گہرے اور دیرپا اثرات مرتب کر رہے ہیں۔اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کی حکومت مسلسل اس تنازع کو اپنی بقا اور قومی سلامتی کا سوال قرار دیتی رہی ہے، جبکہ ایران کی قیادت خصوصاً علی خامنہ ای نے خطے میں طاقت کے توازن کو بدلنے اور اسرائیل کی عسکری برتری کو چیلنج کرنے کی حکمت عملی اپنائی ہے۔اس بڑھتے ہوئے تناؤ کے دوران عالمی رہنماؤں کے بیانات اس حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں کہ دنیا واضح طور پر دو بڑے سفارتی
اور تزویراتی دھڑوں میں تقسیم ہوتی جا رہی ہے۔ ایک طرف ریاست ہائے متحدہ امریکہ اور اس کے قریبی اتحادی ہیں، جبکہ دوسری طرف چین، روس، جاپان اور بھارت سمیت بعض بڑی ریاستیں ایک متبادل عالمی نظام یا نئے اتحاد کی تشکیل کی سمت بڑھتی دکھائی دیتی ہیں۔اس جنگ کا ایک نہایت اہم پہلو یہ ہے کہ اس نے خلیج کی ریاستوں کو انتہائی محتاط حکمت عملی اختیار کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر اور دیگر عرب ممالک بظاہر براہِ راست جنگ میں شامل نہیں ہوئے، مگر وہ مسلسل یہ جائزہ لے رہے ہیں کہ اگر جنگ مزید پھیلتی ہے تو ان کے معاشی اور تزویراتی مفادات کس طرح متاثر ہوں گے۔خلیجی ممالک کے لیے تیل کی ترسیل کے راستے عالمی معیشت کی شہ رگ کے برابر اہمیت رکھتے ہیں، اور اگر یہ راستے متاثر ہوتے ہیں تو اس کے اثرات یورپ، ایشیا اور امریکہ تک محسوس ہوں گے۔اسی لیے کئی عرب ممالک کشیدگی کم کرنے اور توازن قائم رکھنے کی کوشش میں مصروف ہیں، کیونکہ ایک وسیع جنگ نہ صرف خطے بلکہ عالمی نظام کے لیے بھی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔اس بحران میں امریکہ کی پالیسی خاص طور پر اہم رہی ہے، کیونکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ ایک طرف اسرائیل کو عسکری اور سفارتی حمایت فراہم کر رہی ہے، مگر دوسری طرف واشنگٹن کو یہ بھی احساس ہے کہ طویل جنگ امریکی معیشت اور عالمی ساکھ دونوں کے لیے ایک بھاری بوجھ بن سکتی ہے۔ اسرائیل کی عسکری برتری برقرار رکھنے کے لیے امریکہ کو مسلسل مالی اور دفاعی امداد فراہم کرنا پڑ رہی ہے، جس سے یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا امریکہ واقعی اپنی طاقت کے عروج پر ہے یا وہ ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے جہاں اس کی عالمی گرفت بتدریج کمزور ہو رہی ہے۔اسی دوران چین کے صدر شی جن پنگ اور روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن کی حکمت عملی بھی معنی خیز نظر آتی ہے۔ چین خطے میں اپنے معاشی مفادات کو محفوظ رکھنے اور تزویراتی توازن قائم رکھنے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ روس مغربی اثر و رسوخ کے مقابلے میں ایک متبادل عالمی اتحاد کو مضبوط کرنے پر زور دے رہا ہے۔تجزیہ نگار ایک ایسے ممکنہ عالمی بلاک کا ذکر کرتے ہیں جسے کور پانچ کے نام سے جانا جاتا ہے، جس میں امریکہ، روس، جاپان، چین اور بھارت شامل ہیں۔ ایسے کسی اتحاد کی تشکیل کے لیے پاکستان کی شمولیت ناگزیر ہے، کیونکہ جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا اور مشرق وسطیٰ کے سنگم پر واقع پاکستان خطے کی سیاست میں ایک کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشمکش نے یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ جنگ صرف روایتی عسکری طاقت کے بل پر نہیں جیتی جاتی۔محدود وسائل کے باوجود ایران نے مزاحمت اور جوابی حکمت عملی کے ذریعے عالمی مبصرین کو حیران کیا اور متعدد محاذوں پر امریکہ اور اسرائیل کو مسلسل دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔ اس سے یہ تاثر بھی پیدا ہوتا ہے کہ اگر ایک ملک جسے روایتی عسکری پیمانے پر کمزور سمجھا جاتا ہے، بڑی طاقتوں کو طویل کشمکش میں الجھا دے تو عالمی طاقت کے پرانے تصورات پر سوال اٹھنا فطری ہے۔اسی تناظر میں قطر کے سابق وزیر اعظم حماد بن جاسم سے جب صحافیوں نے سوال کیا کہ عرب ممالک ایران پر حملہ کیوں نہیں کر رہے تو انہوں نے کہا کہ جیسے ہی عرب ممالک ایران پر حملہ کریں گے، امریکہ بیچ سے نکل جائے گا اور دونوں فریقوں کو اسلحہ بیچنا شروع کر دے گا تاکہ وہ ایک دوسرے کو تباہ کریں اور یوں اسرائیل کا مقصد پورا ہو جائے۔اس بیان نے خطے کی پیچیدہ سیاست کے ایک اہم پہلو کی طرف اشارہ کیا اور یہ واضح کیا کہ عرب دنیا کے کئی حلقے اب بڑی طاقتوں کے کھیل کو بہتر طور پر سمجھنے لگے ہیں

