مرینہ خان پاکستانی ٹیلی ویژن کی ایک ایسی مایہ ناز شخصیت ہیں جن کا 1980 اور 1990 کی دہائیوں کا کام پی ٹی وی کے "سنہری دور” کی پہچان بنا۔ اپنی قدرتی اداکاری، بے پناہ دلکشی اور ترقی پسند کرداروں کے انتخاب کی بدولت، وہ اسکرین پر ایک جدید اور خودمختار شہرہِ آفاق خاتون کا چہرہ بن کر ابھریں۔
مرینہ خان 26 دسمبر 1962 کو پشاور میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد پشتون خاندان سے تعلق رکھتے تھے اور پاکستان ایئر فورس میں خدمات انجام دیتے تھے، جبکہ ان کی والدہ انگریز تھیں۔ والد کی ملازمت کی وجہ سے بچپن میں ان کے خاندان کو ملک کے مختلف شہروں میں رہائش اختیار کرنی پڑی۔انہوں نے ٹیلی ویژن پر اپنی اداکاری کا آغاز 1982 میں
پی ٹی وی کے لانگ پلے "نشانِ حیدر” (راشد منہاس شہید پر مبنی قسط) سے کیا۔ تاہم، مشہور ڈرامہ نگار حسینہ معین کے تحریر کردہ شاہکار ڈراموں نے انہیں شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا:تنہائیاں (1985): اس ڈرامے میں "سانیا احمد” کے ایک زندہ دل، ذہین اور انتہائی حساس کردار کو نبھا کر انہوں نے کروڑوں دلوں میں جگہ بنائی۔ ان کے چھوٹے بال (Short
Haircut) اور چنچل انداز اس دور کے نوجوانوں میں ایک مقبول ٹرینڈ بن گئے۔دھوپ کنارے (1987): اس کلاسک ڈرامے میں انہوں نے ایک لاپرواہ اور نوجوان ڈاکٹر "زویا خان” کا کردار ادا کیا۔ راحت کاظمی کے مدمقابل ان کی شاندار اداکاری اور محبت و پیشہ ورانہ زندگی کے اتار چڑھاؤ کو سمیٹتی اس کہانی نے انہیں پورے جنوبی ایشیا میں ایک مقبول ترین اسٹار بنا دیا۔












