پاکستان کرکٹ کی تاریخ میں کچھ فیصلے ایسے ہوتے ہیں جن کے اثرات صرف ایک میچ تک محدود نہیں رہتے بلکہ برسوں تک ٹیم کو اس کا نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ بابر اعظم اور محمد رضوان کی اوپننگ جوڑی کو توڑنا بھی ایسا ہی ایک فیصلہ تھا، جس کے نتائج آج پوری قوم کے سامنے ہیں۔ یہ وہ جوڑی تھی جو صرف رنز نہیں بناتی تھی بلکہ ٹیم کو اعتماد، استحکام اور ایک مضبوط
آغاز فراہم کرتی تھی۔ جب یہ دونوں کریز پر ہوتے تھے تو نہ صرف بولرز دباؤ میں ہوتے تھے بلکہ پوری ٹیم ایک الگ اعتماد کے ساتھ کھیلتی تھی۔مگر کچھ موجودہ اور سابق کرکٹرز اور سوشل میڈیا پر بیٹھے یوٹیوبرز نے مسلسل اس جوڑی کے خلاف فضا بنائی۔ کبھی اسٹرائیک ریٹ کا بہانہ بنایا گیا، کبھی جدید کرکٹ کا نام لے کر تنقید کی گئی، اور کبھی ٹیم کے مفاد کا لبادہ اوڑھ کر اس مضبوط بنیاد کو کمزور کیا گیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ٹیم کا وہ ستون ہی گرا دیا گیا جس پر کامیابی کی عمارت کھڑی تھی۔آج
ICC مینز ٹی20 ورلڈ کپ میں پاکستان قومی کرکٹ ٹیم اور بھارت قومی کرکٹ ٹیم کے درمیان ہونے والا میچ اسی حقیقت کی تلخ یاد دہانی تھا۔ بھارت نے ایک مضبوط مجموعہ بنایا، جبکہ پاکستان کی بیٹنگ ابتدا سے ہی غیر یقینی اور دباؤ کا شکار نظر آئی۔ اوپننگ میں وہ اعتماد، وہ تسلسل اور وہ ذہنی مضبوطی نظر نہیں آئی جو کبھی بابر اور رضوان کی موجودگی میں پاکستان کی پہچان ہوا کرتی تھی۔ وکٹیں جلدی گرنے سے پورا مڈل آرڈر دباؤ میں آ گیا اور ٹیم سنبھل نہ سکی۔یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ ٹیم کے مجموعی فیصلوں اور میدان میں حکمت عملی نے بھی شکست میں کردار ادا کیا۔ شاہین آفریدی
کا کردار بھی سوالات سے خالی نہیں تھا، کیونکہ ایک سینئر اور اہم کھلاڑی ہونے کے ناطے ٹیم کو مشکل لمحات میں بہتر ذمہ داری کی ضرورت ہوتی ہے۔ کرکٹ ایک ٹیم گیم ہے، اور جب اجتماعی کارکردگی اور فیصلے کمزور ہوں تو نتیجہ شکست ہی ہوتا ہے۔بابر اور رضوان کی جوڑی نے پاکستان کو بے شمار یادگار فتوحات دی تھیں۔ انہوں نے دنیا کی بہترین ٹیموں کے خلاف بڑے بڑے ہدف حاصل کئے، اور پاکستان کو ایک ایسی پہچان دی جس پر قوم کو فخر تھا۔ ان کی شراکت صرف رنز کا مجموعہ نہیں
تھی بلکہ ایک نفسیاتی برتری تھی جو مخالف ٹیم پر پہلے ہی اوور سے قائم ہو جاتی تھی۔آج جب وہ جوڑی ساتھ نہیں ہے تو ٹیم میں وہ تسلسل بھی نہیں رہا، وہ اعتماد بھی نہیں رہا، اور وہ استحکام بھی نظر نہیں آتا۔ ہر میچ میں نیا تجربہ، نئی تبدیلی اور نئی غیر یقینی صورتحال ٹیم کو مزید کمزور کر رہی ہے۔ کرکٹ میں کامیابی ہمیشہ تسلسل، اعتماد اور درست فیصلوں سے آتی ہے، نہ کہ بار بار کی تبدیلیوں اور غیر ضروری تجربات سے۔سچ یہ ہے کہ مضبوط بنیادوں کو خود کمزور کیا گیا، اور آج ٹیم اسی کمزوری کا خمیازہ بھگت رہی ہے۔ قوم کے دل میں آج بھی یہ سوال زندہ ہے کہ اگر وہ کامیاب جوڑی برقرار رہتی تو شاید پاکستان کرکٹ کی موجودہ تصویر مختلف ہوتی۔

