• پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
میاں طارق جاوید
  • پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
No Result
View All Result
  • پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
No Result
View All Result
میاں طارق جاوید
No Result
View All Result
Home پاکستان

ایپسٹین فائلز حصہ سوم و آخر

مسعود انور

Mian Tariq Javeed by Mian Tariq Javeed
فروری 15, 2026
in پاکستان
0
ایپسٹین فائلز حصہ سوم و   آخر
0
SHARES
3
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

ایپسٹین فائلز سے متعلق اب تک جو کچھ بھی سوشل میڈیا اور مین اسٹریم میڈیا پر آیا ہے ، اُس سے جیفری ایپسٹین کی جو تصویر بنتی ہے وہ یہ ہے کہ اس نے اپنے تعلقات کو استعمال کرکے خوب دولت کمائی اور پھر اُس دولت کو ضرب دینے کے لیے اس نے ایک جزیرہ خریدا جہاں پر عیاشی کا ہر سامان مہیا کیا اور یوں وہ دنیا کی ایلیٹ کلاس کے لوگوں کو بلیک میل کرکے مزید دولت کماتا رہا ۔ دولت کمانے اور مطلب براری کے اس ماڈل پر پاکستان سمیت پوری دنیا میں ہزاروں افراد عمل کرتے ہیں ۔ وڈیو لیکس تو ہمارے ہاں بھی آتی رہی ہیں ۔
ذرا سی گہرائی میں جا کر دیکھیں تو جیفری ایپسٹین کی یہ تصویر اصل ہر گز نہیں ہے بلکہ اس کی اصل تصویر سے لوگوں کی توجہ ہٹانے کے لیے ایک اوباش جیفری ایپسٹین کی تصویر لوگوں کے سامنے پیش کی جارہی ہے ۔ بات یہ نہیں ہے کہ ایپسٹین ایسا نہیں تھا ۔ بالکل ایسا ہی تھا وہ مگر یہ اس کے کردار کے لیے ضروری تھا ۔ ایپسٹین فائلز کو ذرا توجہ اور غور سے دیکھیں تو ہمیں اس کے دو رخ دیکھنے کو ملتے ہیں ۔ پہلا رخ اس کا شیطان کے پجاری کا ہے جبکہ اس کا دوسرا رخ دنیا پر حکمرانی کا ہے ۔

ہم ان دونوں پہلوؤں کو تفصیل سے دیکھتے ہیں ۔ شیطان کا پہلا اور آخری مقصد یہ ہے کہ انسان اللہ کی ہدایت سے منہ موڑ کر ہر وہ حد توڑ دے جو اللہ نے قائم کی ہے ۔ جب جب اللہ کی قائم کردہ حد توڑی جائے ، شیطان بے انتہا خوش ہوتا ہے ۔ پہلے وہ چھوٹی موٹی بغاوت پر اکساتا ہے ، پھر غیرازدواجی تعلقات تک پہنچ جاتا ہے ، جب یہ حد بھی ٹوٹ جائے تو ہم جنسیت کا وبال لاتا ہے ، یہ حد بھی ٹوٹ جائے تو گھر کے محترم رشتے بھی تڑوادیتا ہے ، یہ حد بھی ٹوٹ جائے تو معصوم بچوں کی قربانی کرواتا ہے ، ان پر ظلم کے پہاڑ تڑواتا ہے ۔ جیسے جیسے ان معصوم بچوں کی چیخیں بلند ہوتی ہیں ، شیطان کے قہقہے تیز ہوتے جاتے ہیں ۔ یہ نہیں کہ ان سب سے اسے لذت ملتی ہے بلکہ اسے معلوم ہے کہ اس نے یہ سب کرنے والے انسانوں کو جہنم کے گڑھے میں دھکیل دیا ہے ۔ اس سے وہ اولاد آدم سے انتقام لیتا ۔ یہ اس کی کامیابی کے قہقہے ہوتے ہیں ۔ آپ ایپسٹین فائلز کو دیکھیے کہ کیا ہورہا ہے ۔ شیطان کی عملی طور پر پوجا، راگ رنگ کی محفلیں ، سیکس پارٹیاں ، معصوم بچیوں کے ساتھ درندگی ، ان کی قربانی اور ان کا بار بی کیو بنا کر پارٹی کرنا ۔ شیطانی عملیات کرنا ۔ جیسا کہ غلاف کعبہ کے آیات والے حصے منگوا نا ۔ وغیرہ وغیرہ ۔ ایپسٹین کے بینک اکاؤنٹ کا ٹائٹل ہی بعل دیوتا کے نام پر بعل ہے ۔

اب دوسرے پہلو کو دیکھیں ۔ ایپسٹین عملی طور پر پوری دنیا چلا رہا تھا ۔ وہ پاکستان تک کے انتخابات میں دلچسپی لیتا تھا ۔ وہ روس اور امریکا سمیت پوری دنیا میں field placement کر رہا ہے ۔ وہ بل گیٹس سے دنیا سے آبادی کے خاتمے کے منصوبے پر بات کررہا ہے ۔ وہ بل گیٹس سے کورونا وائرس کی وبا پھیلنے سے قبل اس موضوع پر بات کررہا ہے ۔ وہ دنیا میں طاقت کے توازن میں تبدیلی کے لیے بھارت اور اسرائیل کے درمیان معاہدے کرواتا ہے ۔ وہ اسرائیل کی شیطنیت کو مضبوط کروانے کے لیے مالی مدد کرواتا ہے وغیرہ وغیرہ ۔

ایک اور اہم بات پر غور کریں کہ اس کے جن لوگوں سے بھی تعلقات تھے ، یا جنہیں وہ احکامات جاری کرتا تھا کہ دنیا میں کیا کرنا ہے اور کیسے کرنا ہے ۔ دیکھنے میں یہ سب دنیا کے مالکان میں سے ہیں ۔چاہے یہ وال اسٹریٹ کے بینکر ہوں ، امریکی و دیگر سربراہان ہوں یا دیگر مملکتوں کے ولی عہد یا پھر بل گیٹس اور ایلون مسک جیسے افراد ۔ یہ سب لوگ وہ ہیں جو مختلف مناصب پر فائز ہیں جو احکامات پر عملدرآمد کرتے ہیں ، تو دنیا میں تبدیلی آجاتی ہے ۔ مگر یہ لوگ وہ نہیں ہیں جو اس دنیا پر ایک عالمگیر شیطانی حکومت کے قیام کے لیے براہ راست شیطان سے رابطے میں ہیں یا کوشاں ہیں ۔ اس کو ہم ایک مثال سے سمجھ سکتے ہیں ۔ دیکھنے میں نیسلے کمپنی کا سی ای او اس کا سربراہ ہے ۔ مگر حقیقت میں وہ سربراہ نہیں ہے بلکہ اونچے درجے کا ایک ملازم ہے ۔ وہ نہ تو کمپنی کی پالیسیاں بناتا ہے اور نہ ہی انہیں تبدیل کرنے کا اختیار رکھتا ہے ۔ اس کے اوپر ایک بورڈ آف ڈائریکٹرز بھی ہے جو سی ای او کو بھی تبدیل کرنے کا اختیار رکھتا ہے اور پالیسیاں بناتا ہے ، بنیادی فیصلے کرتا ہے ۔ مگر یہ بورڈ آف ڈائریکٹر بھی کمپنی کے حقیقی مالکان نہیں ہے ۔ حقیقی مالکان تو پس پردہ رہتے ہیں اور وہی اس بورڈ آف ڈائریکٹر کو ہدایات جاری کرتے ہیں ۔ پھر یہ بورڈ آف ڈائریکٹر سی ای او کو ہدایات جاری کرتا ہے جن پر عملدرآمد ہوتا ہے ۔

یہاں پر ایپسٹین بورڈ آف ڈائریکٹر کا کردار ادا کررہا تھا جو مختلف اداروں کے سی ای اوز کو ہدایات جاری کررہا تھا اور ان کے کام کی نگرانی کررہا تھا ۔ اس سے اوپر کے مالکان کا تو کہیں پر نام ہی نہیں ہے ۔ حقیقی مالکان ہیں وہ ڈیڑھ سو blue blood خاندان جو دنیا پر حکمرانی کر رہے ہیں ۔ جو دنیا بھر کے مرکزی بینکوں ، بینک آف انٹرنیشنل سیٹلمنٹ ، انشورنس کمپنیوں ، اسلحہ ساز کمپنیوں ، جہاز راں کمپنیوں ، ادویہ ساز کمپنیوں ، تیل و گیس کے ذخائر ، سونے اور دیگر دھاتوں کے ذخائر ، معدنیات کے ذخائر وغیرہ وغیرہ کے مالکان ہیں ۔ ان کا تو کہیں پر کوئی ذکر ہی نہیں ہے ۔جب ریس کا گھوڑا کام کے قابل نہیں رہتا تو اسے گولی مار دی جاتی ہے ۔ کچھ یہی حال ایپسٹین کا ہوا ۔ جب مالکان کو اندازہ ہوا کہ اب معاملات محکومین کی نظر میں آگئے ہیں تو نہ صرف اسے راستے سے کامیابی سے ہٹا دیا گیا بلکہ سارے کا سارا ملبہ بھی اس پر ڈال دیا گیا ۔ بالکل اسی طرح جب کوئی طیارہ کسی حادثے کا شکار ہوتا ہے تو سارے کا سارا ملبہ پائلٹ پر ڈال کر طیارہ ساز کمپنی سے لے کر انتظامیہ تک سب دودھ کے دھلے بن جاتے ہیں ۔عیاشی ، درندگی کو ایک طرف رکھیں کہ اب تو ایپسٹین ختم ہوچکا ہے ۔ اس میں زیادہ سے زیادہ یہ ہوسکتا ہے کہ اس خوفناک جرم میں شامل دیگر کرداروں کو عبرتناک سزائیں دی جائیں اور متاثرین کو بھاری بھرکم معاوضہ دلوایا جائے ۔ یہ سب انفرادی طور پر متاثرین تھے ۔ مگر دنیا بھر میں جنگوں ، وباؤں کے پھیلاؤ ، آبادی میں کمی کے لیے جو ہدایات جاری کی گئیں اور جن پر من و عن عمل بھی کیا گیا ، ان کی طرف بھی تو نگاہ ڈالی جائے ۔ یا لوگوں کو چسکے کی طرف ڈال کر سب گنگا نہا جائیں گے ۔سمجھنے کی بات یہ ہے کہ ایپسٹین محض ایک کردار تھا ، اس طرح کے نہ جانے کتنے کردار اب بھی مصروف عمل ہیں، جن کی انگلی کے اشارے پر یہ سارے حکمراں ناچ رہے ہیں ۔ یہ سب شیطان کے پیروکار ہیں اور اس دنیا پر شیطان کی براہ راست رہنمائی میں شیطان کی حاکمیت کے لیے کوشاں ہیں ۔ روز ایک پھیلتا ہوا فتنہ جس پر نہ صرف سب خاموش ہیں بلکہ عملی طور پر مددگار بھی ، کا مطلب صرف اور صرف شیطان کو خوش کرنے کے لیے اللہ کی حدوں کو توڑنا ہے ۔اس دنیا پر ایک عالمگیر شیطانی حکومت کے قیام کی سازشوں سے خود بھی ہشیار رہیے اور اپنے آس پاس والوں کو بھی خبردار رکھیے ۔ ہشیار باش ۔

پچھلی پوسٹ

وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کا سندھ پولیس کو مضبوط بنانے کا عزم، فوڈ الاؤنس 10 ہزار روپے کرنے کا اعلان

اگلی پوسٹ

آلو کے کاشتکاروں کیلئے خوشخبری! آلو کے کاشتکاروں کیلئے وزیراعلی مریم نواز شریف نے وزیراعظم محمد شہباز شریف کو خط لکھ دیا

Mian Tariq Javeed

Mian Tariq Javeed

Next Post
آلو کے کاشتکاروں کیلئے خوشخبری!  آلو کے کاشتکاروں کیلئے وزیراعلی مریم نواز شریف نے وزیراعظم محمد شہباز شریف کو خط لکھ دیا

آلو کے کاشتکاروں کیلئے خوشخبری! آلو کے کاشتکاروں کیلئے وزیراعلی مریم نواز شریف نے وزیراعظم محمد شہباز شریف کو خط لکھ دیا

زمرہ کے لحاظ سے براؤز کریں۔

  • پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • صحت
  • کھیل
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • انٹرنیشنل افیئرز
  • پاکستان
  • بزنس
  • کھیل
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • صحت
  • دلچسپ

© 2022 Develop by Newspaper