ہانگژو۔(نمائندہ خصوصی):وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ہانگژو میں مختلف اہم چینی کمپنیوں کے اعلیٰ عہدیداران سے ملاقاتیں کیں اور پاکستانی اور چینی کمپنیوں کے درمیان بزنس ٹو بزنس تعاون کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس سے پاکستان اور چین کے درمیان موجود برادرانہ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔ اتوار کو وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق چین کے کارپوریٹ شعبے کے ساتھ روابط کے فروغ کے سلسلے میں وزیراعظم نے شینگ ہوا
نینگ یوان کے جی کمپنی، سی اے ٹی ایل، اسٹارچارج اور شیوژینگ فارماسیوٹیکل گروپ کے نمائندوں سے ملاقاتیں کیں۔وزیراعظم نے شینگ ہوا نینگ یوان کے جی کمپنی کی چیف ایگزیکٹو آفیسر ایگنس سیو سے ملاقات کی۔ملاقات میں قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعظم نے پاکستان میں ابھرتی ہوئی قابلِ تجدید توانائی کی مارکیٹ اور اس شعبے میں بڑھتی ہوئی طلب کو اجاگر کیا۔ انہوں نے خاص طور پر شمسی توانائی کے فروغ کے لیے حکومت کی جانب سے کیے گئے پالیسی اقدامات پر روشنی ڈالی۔ وزیراعظم نے سی اے ٹی ایل کے ایگزیکٹو صدر آسکر لوؤسے بھی ملاقات کی۔ اس موقع پر گفتگو میں جدید بیٹری ٹیکنالوجی، توانائی ذخیرہ کرنے کے نظام اور شمسی
توانائی سے منسلک منصوبوں میں تعاون پر بات چیت کی گئی تاکہ پاکستان کی صاف توانائی کی جانب منتقلی میں مدد فراہم کی جا سکے۔وزیراعظم کی اسٹارچارج گروپ کی چیئرپرسن ڈین وے شاؤ سے بھی ملاقات ہوئی ملاقات میں الیکٹرک گاڑیوں کے چارجنگ انفراسٹرکچر اور اسمارٹ موبیلیٹی سسٹمز پر تعاون پر گفتگو کی گئی۔شیوژینگ فارماسیوٹیکلز کے صدر ژن یوان نے بھی وزیراعظم سے ملاقات کی۔ شیوژینگ فارماسیوٹیکل گروپ کے ساتھ گفتگو میں دواسازی کی صنعت، صحت کے شعبے میں تعاون اور پاکستان کے تیزی سے ترقی کرتے طبی شعبے میں سرمایہ کاری کے
مواقع زیرِ بحث آئے۔ملاقاتوں کے دوران پاکستان میں سرمایہ کاری میں اضافے، نئی پیداواری فیکٹریوں کے قیام اور پہلے سے موجود فیکٹریوں و پلانٹس کی توسیع کے امکانات پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقاتوں میں وزیراعظم نے پاکستان میں کاروبار میں آسانی کے لیے حکومت کی پالیسیوں اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے اٹھائے گئے اقدامات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے پاکستانی اور چینی کمپنیوں کے درمیان بزنس ٹو بزنس تعاون کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس سے پاکستان اور چین کے درمیان موجود برادرانہ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔

