• پاکستان
  • Discover more at Rejestracja w Alfcasino jest prosta i szybka, a wpłaty i wypłaty realizowane są natychmiastowo, co zapewnia płynne i bezstresowe doświadczenie w świecie gier onli.

  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
میاں طارق جاوید
  • پاکستان
  • Discover more at Rejestracja w Alfcasino jest prosta i szybka, a wpłaty i wypłaty realizowane są natychmiastowo, co zapewnia płynne i bezstresowe doświadczenie w świecie gier onli.

  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
No Result
View All Result
  • پاکستان
  • Discover more at Rejestracja w Alfcasino jest prosta i szybka, a wpłaty i wypłaty realizowane są natychmiastowo, co zapewnia płynne i bezstresowe doświadczenie w świecie gier onli.

  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
No Result
View All Result
میاں طارق جاوید
No Result
View All Result
Home کالمز

کیا اب سرقہ کرنے والا بڑا شاعر کہلاۓ گا ( افتخار عارف پر میرا مقدمہ ادب کی عدالت میں )

نقد ونظر : فرحت عباس شاہ

Mian Tariq Javeed by Mian Tariq Javeed
جنوری 28, 2026
in کالمز
0
یہ سرقہ نہیں خرقہ ہے
0
SHARES
2
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

سرقے اور شعری فریب کاری جیسے موضوع کو اگر محض ذاتی رائے یا وقتی جذباتی ردِّعمل سمجھ لیا جائے تو یہ علمی ناانصافی ہو گی، اس لیے ضروری ہے کہ اسے ادبی اصولوں، روایت، اور تنقیدی معیارات کی روشنی میں دیکھا اور سمجھا جائے۔ اصل میں اوریجنل شاعر اور نان اوریجنل شاعر کے فرق کو سمجھے بغیر سرقے کا مسئلہ کبھی واضح نہیں ہو سکتا۔ اوریجنل شاعر لازماً اپنے عہد، اپنے ماحول، اپنی روایت اور اپنے پیش روؤں سے سیکھتا ہے، ان سے اثر قبول کرتا ہے اور اسی اثر کو اپنی ذات، اپنے تجربے اور اپنی داخلی کائنات میں جذب کر کے ایک نئی تخلیقی صورت میں پیش کرتا ہے۔ یہی عمل تخلیقی استفادہ کہلاتا ہے۔ اس کے برعکس نان اوریجنل شاعر نہ صرف خیال، مضمون یا جذبہ مستعار لیتا ہے بلکہ اکثر اوقات شعر کا پورا در و بست، نحوی ساخت، فکری زاویہ اور حتیٰ کہ مرکزی مصرع تک چرا لیتا ہے، اور پھر اس سرقے کو اپنی فنی عظمت کا ثبوت بنا کر پیش کرتا ہے، جو تخلیق نہیں بلکہ ادبی جعل سازی ہے۔
افتخار عارف کے حوالے سے سرقے، خوشامد، درباری ذہنیت اور احسان فراموشی کی بات کوئی واحد یا انفرادی آواز نہیں رہی ، یہ ایک ایسا عمومی تاثر بن چکا ہے جسے نظر انداز کرنا خود ادبی دیانت کے خلاف ہے۔ جب کسی شاعر کے بارے میں مختلف زمانوں، مختلف حلقوں اور مختلف مزاج کے قارئین و ناقدین ایک ہی نوعیت کی شکایات دہرا رہے ہوں تو وہاں خاموشی خود ایک سوال بن جاتی ہے۔ اس تناظر میں افتخار عارف کی زیرِ بحث غزل کا سحر انصاری کی غزل کے بالمقابل آنا محض اتفاق نہیں بلکہ ایک مستند شہادت ہے جو پورے مسئلے کو عیاں کر دیتی ہے۔
اگر دونوں غزلوں کو سامنے رکھ کر دیکھا جائے تو بات صرف زمین، ردیف یا قافیہ کی مشابہت تک محدود نہیں رہتی بلکہ فکری سمت، جذباتی سفر، استعاروں کی ترتیب اور مرکزی تجربے کی نوعیت تک پھیل جاتی ہے۔ سحر انصاری کی غزل ایک داخلی، ذاتی اور وجودی تجربے سے جنم لیتی ہے جہاں سفر، ہم سفر، خواب، ہجر اور ہنر کی ناقدری سب ایک ہی داخلی کرب سے جڑے ہوئے ہیں۔ اس کے برعکس افتخار عارف کی غزل میں وہی عناصر ایک ایسے سانچے میں ڈھالے گئے ہیں جو پہلے سے تیار شدہ محسوس ہوتا ہے، گویا شاعر نے تخلیق سے پہلے ایک مکمل نقشہ سامنے رکھ لیا ہو اور پھر اسی کے اندر الفاظ کو ادھر اُدھر فِٹ کر دیا ہو۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں تخلیقی استفادہ ختم ہو کر جبری اتباع اور پھر واضح سرقے میں بدل جاتا ہے۔
خصوصاً وہ مقامات جہاں پورے کا پورا مصرع بعینہٖ نقل ہو، یا جہاں کسی غزل کا فکری مرکز ۔۔۔ جیسے ” سفر تمام ہوا ہم سفر نہیں آیا ” یا ” سلیقۂ عرضِ ہنر نہیں آیا” ۔۔۔ بغیر کسی شعوری مکالمے یا حوالہ جاتی دیانت کے دوسری غزل میں منتقل کر دیا جائے، وہاں کسی بھی سنجیدہ تنقیدی معیار کے تحت دفاع ممکن نہیں رہتا۔ یہ نہ روایت کا حصہ ہے، نہ تضمین، نہ جوابِ غزل، بلکہ محض اس سہولت پسندی کا اظہار ہے جو کمزور اور نان جینوئن شاعر کو وقتی شہرت تو دے سکتی ہے مگر ادب کے سامنے اسے برہنہ بھی کر دیتی ہے۔
اس سے بھی زیادہ سنگین پہلو یہ ہے کہ ایسے شاعر اکثر انہی لوگوں کے راستے کاٹنے کی کوشش کرتے ہیں جن سے انہوں نے فکری یا شعری مواد مستعار لیا ہوتا ہے۔ ادبی اداروں، ایوانوں اور طاقت کے مراکز سے قربت پیدا کر کے اصل تخلیقی آوازوں کو حاشیے پر دھکیل دینا محض شخصی اخلاقیات کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے ادبی کلچر کے لیے زہرِ قاتل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اردو ادب میں سرقے کا مسئلہ صرف ایک شاعر یا ایک غزل تک محدود نہیں بلکہ ایک ایسی روش بن چکا ہے جس کے خلاف علمی اور تنقیدی سطح پر بات کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔
چنانچہ زیرِ بحث مضمون کا مقصد کسی فرد کی کردار کشی نہیں بلکہ ایک ادبی رویے کی نشان دہی ہے۔ جب ایک غزل دوسری غزل کے نیچے اوندھے منہ پڑی محسوس ہو، جب ہزار کوشش کے باوجود وہ اس کے نیچے سے سرک نہ پائے، تو اس کا مطلب یہی ہوتا ہے کہ تخلیق کی بنیاد کمزور ہے اور سہارا کسی اور کی فکری عمارت کا لیا گیا ہے۔ اردو ادب کی صحت مند روایت کا تقاضا یہی ہے کہ ایسے معاملات کو شخصی عقیدت یا ادارہ جاتی خوف کے بغیر، خالصتاً کلام کی بنیاد پر پرکھا جائے، کیونکہ آخرکار ادب میں فیصلہ نام کا نہیں بلکہ کلام کا ہوتا ہے۔

سحر انصاری کی غزل دیکھیے

کہیں وہ چہرہ ِ زیبا نظر نہیں آیا
گیاہ شخص تو پھر لوٹ کر نہیں آیا

کہوں تو کس سے کہوں آ کے اب سر ِ منزل
سفر تمام ہوا ، ہم سفر نہیں آیا

صبا نے فاش کیا رمز ِ بوۓ گیسوۓ دوست
یہ جرم اہل محبت کے سر نہیں آیا

پھر ایک خواب وفا بھر رہا ہے آنکھوں میں
یہ رنگ ہجر کی شب جاگ کر نہیں آیا

کبھی یہ زعم کہ خود آگیا تو مل لیں گے
کبھی یہ فکر کہ وہ کیوں ادھر نہیں آیا

میں وہ مسافر دشت غم محبت ہوں
جو گھر پہنچ کے بھی سوچے کہ گھر نہیں آیا

مرے لہو کو مری خاک ِ ناگزیر کو دیکھ
یونہی سلیقہء عرض ہنر نہیں آیا

فغاں کہ آٸینہ و عکس میں بھی دنیا کو
رفاقتوں کا سلیقہ نظر نہیں آیا

مالِ ضبط تمنا سحر پہ کیا گزری
بہت دنوں سے وہ آشفتہ سر نہیں آیا

( مجموعہ کلام ، ” نمود ” اشاعت اگست 1976، ناشر ، ادبستان جدید کراچی )
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور اب دیکھٸیے
افتخار عارف کی غزل
عذاب یہ بھی کسی اور پر نہیں آیا
کہ ایک عمر چلے اور گھر نہیں آیا

اس ایک خواب کی حسرت میں جل بجھیں آنکھیں
وہ ایک خواب کہ اب تک نظر نہیں آیا

کریں تو کس سے کریں نا رسائیوں کا گلہ
سفر تمام ہوا ہم سفر نہیں آیا

دلوں کی بات بدن کی زباں سے کہہ دیتے
یہ چاہتے تھے مگر دل ادھر نہیں آیا

عجیب ہی تھا مرے دور گمرہی کا رفیق
بچھڑ گیا تو کبھی لوٹ کر نہیں آیا

حریم لفظ و معانی سے نسبتیں بھی رہیں
مگر سلیقۂ عرض ہنر نہیں آیا

( مجموعہءکلام ، ” مہر ِ دونیم ” ، اشاعت اگست 1983 , حسین پبلشرز لندن )
۔۔۔۔۔

میرے اس مقدمے کی نوعیت محض تاثراتی نہیں بلکہ تقابلی، مواد بنیاد اور فنی شہادتوں پر قائم ہے، اس لیے اس کا جواب بھی تاثراتی ردِّعمل کے بجائے ایک ایک شعر کی سطح پر زمین، ردیف، قافیہ، نحوی ساخت، استعاراتی سمت اور فکری حرکت کو سامنے رکھ کر دینا ضروری ہے۔ ذیل میں دونوں غزلوں کا شعر بہ شعر تقابلی و تنقیدی جائزہ پیش ہے تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ کہاں تخلیقی استفادہ ختم ہو کر جبری اتباع اور پھر سرقے کی صورت اختیار کرتا چلا گیاہے۔

۱۔ مطلع کی سطح پر مماثلت
سحر انصاری:
کہیں وہ چہرۂ زیبا نظر نہیں آیا
گیا وہ شخص تو پھر لوٹ کر نہیں آیا

افتخار عارف:
عذاب یہ بھی کسی اور پر نہیں آیا
کہ ایک عمر چلے اور گھر نہیں آیا

یہاں بظاہر الفاظ مختلف ہیں مگر نحوی سانچہ، اختتامی مصرع کی ساخت (نہیں آیا)، اور مرکزی احساس (عدمِ واپسی ، محرومی) ایک ہی نفسیاتی سانچے میں ڈھلے ہوئے ہیں۔ سحر کے ہاں شخصی اور حسی تجربہ ہے، جب کہ اتے بھاٸی المعروف افتخار عارف کے ہاں اسی سانچے کو قدرے عمومی اور تجریدی بنا کر رکھا گیا ہے، جو تخلیق نہیں بلکہ تبدیل (surface modification) ہے۔

۲۔ "ہم سفر نہیں آیا” براہِ راست گرفت
سحر انصاری:
کہوں تو کس سے کہوں آ کے اب سرِ منزل
سفر تمام ہوا، ہم سفر نہیں آیا

افتخار عارف:
کریں تو کس سے کریں نا رسائیوں کا گلہ
سفر تمام ہوا ہم سفر نہیں آیا

یہاں کوئی تاویل ممکن نہیں۔ یہ لفظی سرقہ ہے۔ صرف پہلے مصرع میں معمولی رد و بدل ہے، دوسرا مصرع بعینہٖ نقل ہے۔ نہ یہ تضمین ہے، نہ حوالہ، نہ شعوری مکالمہ؛ یہ خالص سرقہ ہے۔

۳۔ خواب اور نظر نہ آنے کا استعارہ
سحر انصاری:
پھر ایک خواب وفا بھر رہا ہے آنکھوں میں
یہ رنگ ہجر کی شب جاگ کر نہیں آیا

افتخار عارف:
اس ایک خواب کی حسرت میں جل بجھیں آنکھیں
وہ ایک خواب کہ اب تک نظر نہیں آیا

یہاں خواب، آنکھ، انتظار اور عدمِ حصول کا پورا استعاراتی پیکج وہی ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ سحر کے ہاں خواب وفا سے جڑا ہے اور ہجر کی شب کا تجربہ بن جاتا ہے، جب کہ افتخار عارف سے براہ راست سرقے سے بچانے کی غرض سے اسے کم گہرائی کے ساتھ حسرت میں سمیٹتا محسوس ہوتا ہے ۔ یہ معنوی استحصال (conceptual borrowing) ہے۔

۴۔ لوٹ کر نہ آنے والا رفیق
سحر انصاری:
کہیں وہ چہرۂ زیبا نظر نہیں آیا
گیا وہ شخص تو پھر لوٹ کر نہیں آیا

افتخار عارف:
عجیب ہی تھا مرے دورِ گمرہی کا رفیق
بچھڑ گیا تو کبھی لوٹ کر نہیں آیا

یہاں “شخص” کو رفیق میں بدل دیا گیا ہے مگر حرکی صورت، انجام اور جذباتی نتیجہ ایک ہی ہے۔ یہ تخلیقی ارتقا نہیں بلکہ کردار کی تبدیلی کے ذریعے ایک ہی منظر کی نقل ہے۔

۵۔ سلیقۂ عرضِ ہنر ، فکری مرکز پر قبضہ

سحر انصاری
مرے لہو کو مری خاکِ ناگزیر کو دیکھ
یوں ہی سلیقۂ عرضِ ہنر نہیں آیا

افتخار عارف
حریمِ لفظ و معانی سے نسبتیں بھی رہیں
مگر سلیقۂ عرضِ ہنر نہیں آیا

یہاں تو معاملہ اور بھی واضح ہے۔ ” سلیقۂ عرضِ ہنر نہیں آیا ” ایک کلیدی فکری مصرع ہے جسے افتخار عارف نے پورے سیاق سے الگ کر کے اپنی غزل میں جوڑ دیا ہے ۔ یہ نہ زمین کی مجبوری ہے نہ روایت. ایک طرف تو یہ شعری مرکزیت کی چوری ہے اور دوسری طرف نالاٸقی کا وہ اعتراف ہے جو دونمبر شاعروں کے منہ سے خود شاعری کرواتی ہے ۔
دونوں غزلوں کی زمین (نہیں آیا)، بیانیہ ترتیب، محرومی، سفر، خواب، رفیق، واپسی، اور ہنر کی ناقدری ، سب کچھ ایک ہی فکری دھارے میں بہتا ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ سحر انصاری کے ہاں یہ تجربہ اندر سے پھوٹتا ہے، جب کہ افتخار عارف کے ہاں وہی مواد ادھار لی گئی داخلی کیفیت بن کر سامنے آتا ہے۔
یہ معاملہ محض “اثر قبول کرنے” یا عصری فضا کا نہیں، بلکہ منظم، مسلسل ، شعوری اور چالاکی پر مبنی استفادے کا ہے جس میں
ایک دو مصرع تو بعینہٖ نقل ہیں جبکہ کئی اشعار معنوی و نحوی سطح پر جبرًا مستعار ہیں
اور غزل کی فکری مرکزیت یعنی ریڑھ کی ہڈی سحر انصاری سے لی گئی ہے۔
اس نوعیت کی شاعری کو ادبی تنقید میں نان جینوٸن پریکٹس اور عام زبان میں دونمبری کہا جاتا ہے، جہاں شاعر اپنی شناخت دوسروں کے کلام کے سہارے قائم کرتا ہے اور پھر اسی روایت کے اصل معماروں کے راستے کاٹنے لگتا ہے۔

پچھلی پوسٹ

وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے پنجاب کی تاریخ کے پہلے اور منفرد پروگرام”پرواز کارڈ“ کا افتتاح کر دیا

اگلی پوسٹ

2050 تک دنیا میں زرعی پیداوار میں تقریباً 50 فیصد تک کمی کا خدشہ ہے۔ اس وقت دنیا کی مجموعی آبادی تقریباً 8.2 ارب ہے، جو 2050 تک بڑھ کر 9.2 ارب ہو جائے گی۔ پروفیسرایمریطس ڈاکٹر محمد قیصر

Mian Tariq Javeed

Mian Tariq Javeed

Next Post
2050 تک دنیا میں زرعی پیداوار میں تقریباً 50 فیصد تک کمی کا خدشہ ہے۔ اس وقت دنیا کی مجموعی آبادی تقریباً 8.2 ارب ہے، جو 2050 تک بڑھ کر 9.2 ارب ہو جائے گی۔ پروفیسرایمریطس ڈاکٹر محمد قیصر

2050 تک دنیا میں زرعی پیداوار میں تقریباً 50 فیصد تک کمی کا خدشہ ہے۔ اس وقت دنیا کی مجموعی آبادی تقریباً 8.2 ارب ہے، جو 2050 تک بڑھ کر 9.2 ارب ہو جائے گی۔ پروفیسرایمریطس ڈاکٹر محمد قیصر

زمرہ کے لحاظ سے براؤز کریں۔

  • پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • صحت
  • کھیل
No Result
View All Result
  • Hrajte své oblíbené kasinové hry kdykoli a kdekoli na svém chytrém telefonu nebo tabletu s Posido casino, které vám nabízí skvělou zábavu a příležitosti k výhře.

  • Εγγραφείτε εύκολα, πραγματοποιήστε γρήγορες καταθέσεις και απολαύστε ταχύτατες πληρωμές στο Vegashero, όπου η εμπειρία του online καζίνο σας περιμένει με συναρπαστική δράση.

  • صفحہ اول
  • انٹرنیشنل افیئرز
  • پاکستان
  • بزنس
  • کھیل
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • صحت
  • دلچسپ

© 2022 Develop by Newspaper