اسلام آباد۔( نمائندہ خصوصی)وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر مصدق ملک سےپاکستان میں ڈنمارک کی سفیر ماجا مورٹینسن نے یہاں ملاقات کی۔ملاقات کے دوران موجودہ عالمی سیاسی تناظر میں سائنسی سفارت کاری کے مختلف پہلوئوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔پیر کووزارت موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی کی جانب سے جاری بیان کے مطابق وفاقی وزیر ڈاکٹر مصدق ملک نے گفتگو کے دوران اس امر پر زور دیا کہ موسمیاتی تبدیلی کا غیر متناسب بوجھ
عالمی جنوب کے ممالک پر پڑ رہا ہے، حالانکہ عالمی اخراج میں ان کا حصہ نسبتاً کم ہے۔انہوں نے نشاندہی کی کہ عالمی گرین ہائوس گیسوں کے تقریباً 70 فیصد اخراج کا ذمہ صرف دس ممالک ہیں جبکہ عالمی سطح پر دستیاب تقریباً 85 فیصد گرین فنانسنگ بھی انہی ممالک کو حاصل ہو رہی ہے۔ڈاکٹر مصدق ملک نے نارتھک ممالک کے مضبوط سماجی فلاحی ماڈلز اور ترقی پسند ماحولیاتی اقدار کو سراہا۔ملاقات میں موجودہ عالمی سیاسی صورتحال اور اس کے موسمیاتی اقدامات اور بین الاقوامی تعاون پر اثرات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔اس موقع پر وفاقی وزیر نے ڈنمارک کی سفیر کو پاکستان میں ایک گرین یونیورسٹی کے قیام کےمنصوبے سے بھی آگاہ کیا جس کا مقصد موسمیاتی اور ماحولیاتی علوم کے شعبے میں مشترکہ تحقیق نیز دنیا کی ممتاز جامعات کے ساتھ طلبہ اور اساتذہ کے تبادلہ پروگرامز کو فروغ دینا ہے۔ملاقات کے اختتام پر دونوں فریقین نے دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط بنانے اور موسمیاتی اقدامات اور سائنسی سفارت کاری کے شعبوں میں اشتراک عمل کو فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔
