اسلام آباد ( نمائندہ خصوصی):اسیر کشمیری رہنما یاسین ملک کی اہلیہ مشعال حسین ملک نے بھارت کے یوم جمہوریہ کی تقریبات پر سخت تنقید کرتے ہوئے اسے کشمیری عوام کے لیے ’’یوم سیاہ‘‘ قرار دیا ہے اور عالمی برادری، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور مجوزہ عالمی ’’بورڈ آف پیس‘‘ سے اپیل کی ہے کہ کشمیر کو عالمی امن کے ایجنڈے میں شامل کرنے اور نیک نیتی کے طور پر ان کے شوہر کی رہائی کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔’’اے پی پی‘‘ کو دیئے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ بھارت خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت قرار دیتا ہے لیکن کشمیر آج بھی جیلوں، زنجیروں اور سلب شدہ حقوق
کی سرزمین بنا ہوا ہے جہاں کشمیری عوام کی آزادی کی جمہوری خواہش کو بھارتی افواج روزانہ کچل رہی ہیں۔مشعال ملک نے کہا کہ 26 جنوری کشمیریوں کے لیے جمہوریت کے بجائے درد اور ناانصافی کی علامت ہے۔انہوں نے کہا کہ جہاں جمہوریت ہونی چاہیے وہاں جیلیں ہیں اور جہاں انصاف ہونا چاہیے وہاں زنجیریں ہیں، بھارتی افواج کشمیری عوام کے جائز اور جمہوری حق خودارادیت کو دبانے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔انہوں نے امن کے لیے عالمی سطح پر نئی کوششوں کا خیرمقدم کیا خصوصاً امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مجوزہ ’’بورڈ آف پیس‘‘ کے تحت ان کی مشترکہ کاوشیں عالمی امن اور استحکام کی جانب ایک بڑا قدم ثابت ہو سکتی ہیںمشعال ملک نے دعویٰ کیا کہ حالیہ سفارتی پیش رفت نے بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی کا اصل چہرہ بے نقاب کر دیا ہے اور کشمیر کے حوالے سے بھارت کے بیانیے کو کمزور کیا ہے۔پاکستان کی عسکری قیادت کی تعریف کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے بھارت کے مقابلے میں جرأت اور عزم کا مظاہرہ کیا اور کشمیر پر پاکستان کے موقف کا بھرپور دفاع کیا۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ ایک بڑی طاقت ہونے کے باوجود بھارت کو سفارتی اور تزویراتی سطح پر شرمناک ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔مشعال ملک نے عالمی برادری اور امریکی قیادت سے مطالبہ کیا کہ کسی بھی آئندہ عالمی امن فریم ورک کے ایجنڈے میں کشمیر کو باضابطہ طور پر شامل کیا جائے۔ انہوں نے دیرینہ تنازع اور خطے میں انسانی بحران کے حل کے لیے ایک خصوصی ’’بورڈ آف پیس آن کشمیر‘‘ کے قیام کی تجویز بھی دی۔اپنے شوہر کے لیے جذباتی اپیل کرتے ہوئے انہوں نے امن عمل کی بحالی کے لیے نیک نیتی کے طور پر یاسین ملک کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔انہوں نے یاد دلایا کہ 2000ء میں امریکہ سمیت عالمی طاقتوں نے یاسین ملک کو مسلح جدوجہد ترک کرنے اور پرامن، سیاسی راستہ اختیار کرنے پر آمادہ کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے عالمی برادری کی درخواست پر امن کا راستہ چنا تھا، آج مجھے امید ہے کہ وہی طاقتیں اپنے اس وعدے کو نبھائیں گی اور امن عمل کو دوبارہ شروع کریں گی۔انہوں نے مزید کہا کہ یاسین ملک کو کشمیر سے متعلق کسی بھی آئندہ مذاکرات میں ایک اہم فریق کے طور پر تسلیم کیا جانا چاہیے اور انہیں امن اور مفاہمت کے فروغ میں تعمیری کردار ادا کرنے کا موقع دیا جانا چاہیے۔مشعال ملک نے اختتام پر کشمیری عوام کی آزادی کے مطالبے کو دہراتے ہوئے دنیا سے اپیل کی کہ وہ بھارتی زیر انتظام کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر خاموش نہ رہے۔

