اقوام متحدہ(نیوز ڈیسک):اقوام متحدہ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دنیا پانی کے بحران سے آگے بڑھ کر پانی کے عالمی دیوالیہ پن کی حالت میں داخل ہو چکی ہے۔ اقوام متحدہ کے محققین کی جانب سے جاری نئی فلیگ شپ رپورٹ کے مطابق سائنسدان ، پالیسی ساز اور میڈیا کئی دہائیوں سے ’’پانی کے عالمی بحران‘‘ بارے خبردار کرتے آئے ہیں جس کا مطلب پانی کی قلت کے حوالے سے عارضی جھٹکا لیا جاتا ہے جس کے بعد بحالی ہوتی ہے۔ تاہم اب بہت سے خطوں میں پانی کی مستقل قلت کی ایسی صورتحال سامنے آرہی ہے جس کے تحت پانی کے نظام اب حقیقت پسندانہ طور پر اپنی تاریخی بنیادوں پر واپس نہیں جا سکتے۔یو این یونیورسٹی انسٹی ٹیوٹ فار واٹر، انوائرنمنٹ اینڈ ہیلتھ کے ڈائریکٹر کاویہ مدنی نے کہا ہے کہ دنیا کے بیشتر حصوں میں پانی کے حوالہ سے’’ نارمل‘‘ یعنی معمول کی صورتحال ختم ہو چکی ہے۔ایک پریس بریفنگ میں انہوں نے کہا کہ اس
انکشاف کامقصد ناامیدی اور مایوسی پھیلانا نہیں بلکہ پانی کی قلت پر قابو پانے کے لئے عملی اقدامات کی حوصلہ افزائی اور موجودہ صورتحال میں ناکامی کا اعتراف کرتے ہوئے مستقبل کے تحفظ کے اقدامات کرنا ہے۔ کاویہ مدنی نے اس بات پر زور دیا کہ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مندرجات میں دنیا بھر میں پانی کی قلت کے مسئلے سے نمٹنے میں ناکامی کی بات تو نہیں لیکن صورت حال کافی حد تک دیوالیہ پن یا اس کے قریب کی ہے جو تجارت، نقل مکانی اور جغرافیائی سیاسی انحصار کے ذریعے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں اور یہ کہ عالمی خطرے کا منظر نامہ کو بنیادی طور پر تبدیل کر دیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس صورتحال کے اثرات غیر متناسب طور پر چھوٹے کسانوں، مقامی لوگوں، کم آمدنی والے شہری باشندوں، خواتین اور نوجوانوں پر پڑتے ہیں جبکہ زیادہ استعمال کے فوائد اکثر زیادہ طاقتور عناصر سمیت لیتے ہیں ۔رپورٹ کے مطابق پانی کے دیوالیہ پن سے مراد قابل تجدید آمد و رفت اور محفوظ کمی کی حد سے زیادہ پانی کو نکالنا اور آلودہ کرنا ہے۔ناقابل واپسی سے مراد پانی سے متعلقہ قدرتی وسائل کے کلیدی حصوں مثلاً ویٹ لینڈز اور جھیلوں کو پہنچنے والا نقصان ہے جوآبی نظام کی ابتدائی حالتوں میں بحالی کو ناقابل عمل بناتی ہے۔ کاویہ مدنی نے کہا کہ دیوالیہ پن پانی کی قلت کے عمل کا خاتمہ نہیں بلکہ یہ ایک منظم بحالی کے منصوبے کا آغاز ہے جس میں پانی کے ضیاع کو روکا جاتا ہے، ضروری خدمات کی حفاظت کی جاتی ہے اور غیر پائیدار دعووں پر نظر ثانی کی جاتی ہے اور تعمیر نو میں سرمایہ کاری کی جاتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ دنیا پانی کے قدرتی وسائل کو
تیزی سے ختم کر رہی ہے، مطالعہ کے مطابق 1990 کی دہائی کے اوائل سے دنیا کی نصف سے زیادہ بڑی جھیلوں میں پانی کی کمی واقع ہوئی ہے، جبکہ 1970 کے بعد سے تقریباً 35 فیصد قدرتی پانی والی زمینیں ختم ہو چکی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ دنیا کی تقریباً تین چوتھائی آبادی ایسے ممالک میں رہتی ہے جن کی درجہ بندی پانی کے لیے غیر محفوظ یا شدید طور پر پانی کے لیے غیر محفوظ ہے۔تقریباً چار ارب لوگ ہر سال ایک ماہ تک پانی کی شدید قلت کا سامنا کرتے ہیں، جبکہ خشک سالی کے اثرات سے سالانہ نقصان کا تخمینہ 307 بلین ڈالر لگایا جاتا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا اگر ہم ان ناکامیوں کو عارضی بحرانوں کے طور پر قلیل مدتی اصلاحات کے ساتھ سنبھالتے رہے، تو ہم ماحولیاتی نقصان میں اضافہ ہی کریں اور سماجی تنازعات کو ہوا دیں گے ۔