articleہر دور میں جب معاشرہ بگاڑ کی طرف جاتا ہے تو الزام کا سب سے آسان ہدف پر آکر رکتا ہے اور ہمارے ہاں یہ ہدف اکثر بے چاری "ماں بنتی ہے، اگر چہ بچہ ضدی ہو جائے تو کہا جاتا ہے کہ تربیت میں کمی تھی ، اگر نو جوان باغی ہو جاتا ہے تو سوال اٹھتا ہے کہ ماں نے کیا سیکھایا، اگر پیٹی منشیات کا شکار ہو جائے تو انکی سب سے پہلے گھر کی عورت پر اٹھتی ہے، اگر بیٹی خود مختاری کی بات کرے تو کہا جاتا ہے کہ حدیں نہیں سکھائیں، مگر سوال یہ ہے کہ کیا واقعی نئی نسل کی الجھنوں کی واحد ذمہ دار ماں ہی ہے یا ایک نا کام نظام کی سہل صفائی Easy scapegoat ہے ، آج کی نسل الجھنوں کا ایک ایسا مجموعہ ہے جسے سمجھنے کے لیے محض گھریلو ماحول نہیں پورے سماجی ، معاشی ، اور ریاستی ڈھانچے کو دیکھا ہوگا، ایک بچہ جب آنکھ کھولتا ہے تو صرف ماں کی گود میں نہیں ہوتا وہ ایک ایسے معاشرے میں سانس لے رہا ہوتا ہے، جہاں عدم تحفظ ہے، بے یقینی ، مہنگائی، مقابلہ، خوف ، دباؤ اس کی شخصیت کے ساتھ ساتھ پروان چڑھتے ہیں، سب سے پہلے ماں پر ڈالے گئے الزام کو سمجھنا ضروری ہے ، ماں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ بچے کو با ادب، فرمانبر دار با اخلاق، مذہبی کامیاب، خود دار اور مطیع بنائے ، مگر اس ماں کو نہ صرف سماجی تحفظ دیا جاتا ہے، نہ ذہنی سہارا، نہ سماجی احترام، ایک طرف ماں کو گھر کی مکمل ذمہ داری سونپی جاتی ہے، دوسری طرف اس سے کہا جاتا ہے کہ وہ بچوں کے ساتھ مستقبل کی بھی ضامن ہو، اب خیال یہ آتا ہے کہ کیا ماں کے پاس واقعی وہ طاقت، اختیار اور وسائل ہیں جواس سے مانگے جار ہے ہیں، نئی نسل کی سب سے بڑی الجھن شناخت identity کا بحران ہے ، وہ یہ نہیں جانتی کہ وہ کیا ہے؟ اسے کیا بنا ہے اُس کی قدر کس چیز میں ہے، ایک طرف گھر یلوتر بیت ہے جو طاعت ہبر اور خاموشی سکھاتی ہے، دوسری طرف سوشل میڈیا ہے جو بغاوت ، آزادی اور فوری کامیابی کے خواب دکھاتا ہے، ایک طرف والدین کہتے ہیں "ہم نے بھی ایسے ہی وقت گزارے ” دوسری طرف آج کا نوجوان کہتا ہے ” آپ کے وقت اور ہمارے وقت میںزمین آسمان کا فرق ہے ” ، اس تصادم میں پسا ہوا نوجوان اکثر خود کو قصور وار کھنے لگتا ہے، تعلیمی نظام اس الجھن کو نڈ ید گہرا کر دیتا ہے سکول بچے کو نمبر لینا سکھاتا ہے، سوچنا نہیں ، کالج اور یونیورسٹی ڈگری دیتی ہے، سمت نہیں، نتیجہ یہ کہ ایک تعلیم یافتہ نو جوان بھی اندر سے خالی ہوتا ہے، وہ ڈگری ہاتھ میں لیے بے روز گار بیٹھا ہوتا ہے، اور گھر میں تناؤ بڑھتا جاتا ہے، اس مقام پر ماں پھر سامنے آتی ہے، کبھی تسلی دینے، کبھی ڈانٹنے والی ، مگر خود بھی اندر سے ٹوٹی ہوتی ، معاشی دباؤ نئی نسل کے اعصاب کو سب سے زیادہ متاثر کر رہا ہے، مہنگائی نے خواب دیکھنے کی طاقت چھین لی ہے، نوجوان جانتا ہے کہ محنت کے باوجود گھر خریدنا ، شادی کرنا یا با عزت روزگار پانا آسان نہیں، ایسے میں وہ یا تو خود کو قصور وار ٹھہراتا ہے یا پورے نظام سے بغاوت پر اتر آتاہے، افسوسناک بات یہ ہے کہ اس بغاوت کو بد تمیزی یا نا کام تربیت کہ کر نظر انداز کیا جاتا ہے، سوشل میڈیا نے نئی نسل کو معلومات تو دی ہیں مگر ر ہنمائی نہیں دی، ہر ماں چا آتی ہے کہ اس کا بچہ محفوظ رہے، مگر جب پورا سماج مو بائل میں سمٹ جائے تو ماں کی گرفت کمزور پڑ جاتی ہے، اب کیا ماں کو ڈیجیٹل دور کے خطرات سے نمٹنے کی تربیت دی گئی کیا ؟ ریاست نے والدین کے لیے کوئی رہنمائی نظام بنایا؟ یا پھر ہم نے سب کچھ ماں کی فہم پر چھوڑ دیا، نئی نسل کی الجھنوں میں والد کا کردار بہت اہم ہے، مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ الزام کم ہی باپ پر آتا ہے ، باپ اگر وقت نہ دے سکے تو مجبوری کہلاتی ہے،مگر ماں اگر ذہنی تھکن کا شکار ہو جائے تو ناقص تربیت کا سرٹیفیکیٹ مل جاتا ہے، یہ دوہرا معیار ماوؤں کے ساتھ نا انصافی ہے، اصل قصور وار اگر کوئی ہے تو وہ نظام ہے، ایک ایسا نظام جو خاندان کو سہارا دینے کی بجائے اُسے تنہا چھوڑ دیتا ہے ، جہاں نہ ذہنی صحت پر بات ہوتی ب شد پیر بانگ کی تربیت دی جاتی ہے نہ نو جو ان کے لیے اُمید پیدا کی جاتی ہے، ہم نے ماں کو نصاب کا متبادل بنا دیا ہے، مدرسے کا نعم البدل سمجھ لیا ہے، اور پھر جب نتیجہ ہماری توقع کے مطابق نہ ہو تو اُسے کٹہرے میں کھڑا کر دیتے ہیں، یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر ماں کامل نہیں ہوتی غلطیاں ہو سکتی ہیں، مگر غلطی اور قصور میں فرق ہوتا ہے، ایک ماں جو خود خوف، دبا ڈاورقربانیوں کے بچے پلی بڑھی ہو، وہ معجزہ کیسے دکھا سکتی ہے؟ نئی نسل ایک بکھرے ہوئے نظام کا عکس ہیں، اگر ہم نئی نسل کو سنوارنے کے لیے کوشاں ہیں، اور سنجیدہ ہیں تو ہمیں یہ سوال بدلنا ہو گا کہ مائیں کہاں غلطی کر رہی ہیں ” اس کے بجائے پوچھنا ہوگا، نظام والدین کو کیا سہولت دے رہا ہے؟ تعلیم نو جوان کو کیا راستہ دکھارہی ہے،معیشت نو جوان کو کیا اُمید دے رہی ہے؟ سماج نوجوان کو کیا عزت دے رہا ہے؟ جب تک یہ سوال نہیں اُٹھیں گے ہم ہر بگاڑ کا ملبہ ماں پر ڈالتے رہیں گے ، اور اصل مسئلہ جوں کا توں رہے گا، نئی نسل اصلاح نہیں سمجھ مانگ رہی ہے ، اور ماں دشمن نہیں ، اس جدو جہد کی پہلی متاثرہ ہے، شاید وقت آ گیا ہے، کہ ہم ماں کو کٹہرے سے نکال کر نظام کو کٹہرے میں کھڑا کریں، کیونکہ اگر نظام درست ہوتو ماں بھی مضبوط ہو گی اور نئی نسل بھی۔

